{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihjgnibwibifmodl33v7azhpwyeu4u34vfovuwtlldb7hppcccoua",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgh3vppsxe42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreichrnxpdogchksjee5sbpb76ubdtmkonciaykoogamtnyt2twxsta"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 41877
  },
  "path": "/node/184951",
  "publishedAt": "2026-03-07T04:00:31.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ٹرمپ",
    "سازش",
    "قتل",
    "امریکہ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امریکہ کے محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ ایران کی ایما پر دو سال قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم امریکی سیاست دانوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے پر جمعے کو پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔**\n\nبرطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 47 سالہ پاکستانی بزنس مین آصف مرچنٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے 2020 میں واشنگٹن کی جانب سے ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے بدلے میں ٹرمپ اور دیگر شخصیات کو نشانہ بنانے کے منصوبے کے تحت امریکہ میں لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی۔\n\nوفاقی پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ 2024 کے اس منصوبے کے اہداف میں اس وقت کے صدر جو بائیڈن اور نکی ہیلی بھی شامل تھیں، جنہوں نے اس سال رپبلکن صدارتی نامزدگی کے لیے ٹرمپ کے خلاف انتخاب لڑا۔\n\nمحکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا کہ آصف مرچنٹ کو ایرانی حکام کی ہدایت پر’پیسوں کے عوض قتل اور قومی سرحدوں سے باہر دہشت گردی کی کارروائی کرنے کی کوشش‘ کا قصوروار قرار دیا گیا۔\n\nآصف مرچنٹ کے خلاف مقدمے کی کارروائی نیویارک شہر کے علاقے بروکلین میں گذشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی۔ آصف مرچنٹ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ اس منصوبے میں شامل ہونے کا اعتراف کیا لیکن گواہی دی کہ انہوں نے تہران میں اپنے خاندان کے تحفظ کی خاطر غیر ارادی طور پر ایسا کیا۔\n\nآصف مرچنٹ پاکستان میں تقریباً 20 سالہ بینکاری کے کیریئر کے بعد مختلف کاروباروں میں شامل ہوئے، جن میں کپڑے، گاڑیاں، کیلے کی برآمد اور انسولیشن کی درآمد شامل ہے۔\n\nان کے دو خاندان ہیں، ایک پاکستان میں اور دوسرا ایران میں، جہاں ان کے مطابق انہیں 2022 کے آخر میں پاسداران انقلاب کے ایک انٹیلی جنس اہلکار سے متعارف کروایا گیا۔\n\nآصف مرچنٹ کا کہنا تھا کہ انہیں کبھی کسی مخصوص شخص کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا لیکن ان کے ایرانی ہینڈلر نے ایرانی دارالحکومت میں بات چیت کے دوران تین لوگوں کے نام لیے تھے۔\n\nقانون نافذ کرنے والے اداروں نے کسی بھی حملے سے قبل ہی اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ محکمہ انصاف نے بتایا کہ اپریل 2024 میں آصف مرچنٹ نے جس شخص سے اس منصوبے میں مدد کے لیے رابطہ کیا تھا، انہوں نے ان کی سرگرمیوں کی اطلاع دی اور ایک خفیہ مخبر بن گئے۔ آصف مرچنٹ کو اسی سال گرفتار کر لیا گیا اور انہوں نے جرم سے انکار کیا۔\n\nپاسداران انقلاب کا ایران میں ایک مرکزی کردار ہے، جس میں فوجی اور اقتصادی طاقت کے ساتھ ساتھ ایک انٹیلی جنس نیٹ ورک بھی شامل ہے۔ تہران نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس نے ٹرمپ یا دیگر امریکی حکام کو نشانہ بنایا۔\n\n16 ستمبر 2024 کے اس عدالتی خاکے میں آصف مرچنٹ امریکہ نیویارک کی ایک عدالت میں پیش ہو رہے ہیں (روئٹرز)\n\n\n\n\nاے ایف پی کے مطابق بروکلین کی وفاقی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹرز نے ثابت کیا کہ آصف رضا مرچنٹ نے مبینہ طور پر امریکہ میں کسی سیاست دان یا سرکاری عہدے دار کو قتل کرنے کے لیے ایک اجرتی قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی۔\n\nایران کی بیرون ملک فوجی کارروائیوں کے سربراہ قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ ایرانی حکام نے بارہا ان کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔\n\nبدھ کو اپنے مقدمے کی سماعت کے دوران آصف مرچنٹ نے گواہی دی کہ وہ ایرانی دارالحکومت تہران میں پاسداران انقلاب سے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے اس منصوبے میں شامل ہونے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال تھا کہ کسی کے مارے جانے سے پہلے ہی وہ پکڑے جائیں گے۔\n\nانہوں نے کہا کہ انہیں کبھی کسی مخصوص شخص کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا لیکن انہوں نے بتایا کہ ان کے ایرانی رابطہ کار نے اس منصوبے کے سلسلے میں تین لوگوں کا ذکر کیا تھا، صدر ٹرمپ، سابق صدر جو بائیڈن اور اقوام متحدہ میں سابق سفیر نکی ہیلی۔\n\nپراسیکیوٹرز کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ آصف مرچنٹ کو ان دونوں الزامات یعنی بین الاقوامی دہشت گردی اور پیسوں کے عوض قتل میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد آئندہ کسی غیر طے شدہ تاریخ پر سزا سنائی جائے گی۔ انہیں عمر قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔\n\nامریکی حکام نے اس سے قبل کہا تھا کہ آصف مرچنٹ کے’ایران کے ساتھ قریبی تعلقات‘ ہیں اور اس کے مبینہ منصوبے کو ’براہ راست ایرانی حکومت کی حکمت عملی‘ قرار دیا تھا۔\n\nآصف مرچنٹ کو 12 جولائی 2024 کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ملک چھوڑنے کا ارادہ کر رہے تھے۔ ان پر ستمبر 2024 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔\n\nیہ مقدمہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے، جب 28 فروری سے ایران پر امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت دیگر ایرانی عہدیداروں کی اموات ہوئیں۔ ٹرمپ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’میں نے انہیں پہلے قتل کر دیا قبل اس کے کہ وہ مجھے قتل کریں۔‘\n\n**آصف مرچنٹ پر الزامات کی تفصیل**\n\nامریکی محکمہ انصاف کی چھ اگست 2024 کو جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق بروکلین میں 46 سالہ آصف مرچنٹ عرف آصف رضا مرچنٹ پر امریکی سر زمین پر ایک سیاست دان یا امریکی سرکاری عہدے دار کو قتل کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے کے قاتل کی خدمات حاصل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔\n\nبیان کے مطابق امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کسی بھی حملے سے پہلے منصوبے کو ناکام بنا دیا اور اب آصف مرچنٹ وفاقی تحویل میں ہیں۔\n\nامریکی محکمہ انصاف کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تفصیل کے مطابق: ’اپریل 2024 میں، ایران میں وقت گزارنے کے بعد، آصف مرچنٹ پاکستان سے امریکہ پہنچے اور ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ اس منصوبے میں ان کی مدد کر سکتا ہے۔ اس شخص نے آصف مرچنٹ کے طرز عمل کی اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دی اور ایک خفیہ ذریعہ (Confidential Source) یعنی ’سی ایس‘ بن گیا۔\n\n’جون کے اوائل میں آصف مرچنٹ نے نیویارک میں سی ایس سے ملاقات کی اور قتل کی سازش کی وضاحت کی۔ آصف مرچنٹ نے سی ایس کو بتایا کہ ان کے پاس سی ایس کے لیے جو کام تھا، وہ ایک بار کا کام نہیں تھا اور جاری رہے گا۔ اس کے بعد مرچنٹ نے اپنے ہاتھ سے ’فنگر گن‘ کا اشارہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قتل کرنے کے متعلق کام تھا۔\n\n’آصف مرچنٹ نے مزید کہا کہ مطلوبہ متاثرین کو ’یہاں نشانہ بنایا جائے گا‘ یعنی امریکہ میں۔ انہوں نے سی ایس کو ہدایت کی کہ وہ ان افراد کے ساتھ ملاقاتوں کا انتظام کرے جن کی خدمات آصف مرچنٹ ان کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے حاصل کرسکتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n’آصف مرچنٹ نے وضاحت کی کہ ان کے منصوبے میں متعدد مجرمانہ منصوبے شامل تھے: (1) ہدف کے گھر سے دستاویزات یا یو ایس بی ڈرائیوز چوری کرنا، (2) احتجاج کی منصوبہ بندی کرنا اور (3) کسی سیاست دان یا سرکاری افسر کا قتل۔\n\n’اس ملاقات میں آصف مرچنٹ نے ممکنہ قتل کے منظرنامے کی منصوبہ بندی شروع کی اور سی ایس سے سوال کیا کہ وہ مختلف حالات میں کسی ہدف کو کیسے ماریں گے۔ خاص طور پر، آصف مرچنٹ نے سی ایس سے یہ وضاحت کرنے کے لیے کہا کہ مختلف منظرناموں میں ایک ہدف کیسے مرے گا۔ انہوں نے سی ایس کو بتایا کہ اس شخص کے ’چاروں طرف سکیورٹی ہوگی۔‘\n\n’آصف مرچنٹ نے کہا کہ یہ قتل ان کے امریکہ چھوڑنے کے بعد ہوگا اور وہ کوڈ ورڈز کا استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک سے سی ایس کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ سی ایس نے پوچھا کہ کیا مرچنٹ نے اپنے ملک میں نامعلوم ’پارٹی‘ سے بات کی تھی، جس کے ساتھ وہ کام کر رہے تھے۔ آصف مرچنٹ نے جواب دیا کہ انہوں نے بات کی ہے اور ملک والی پارٹی نے ان سے کہا کہ وہ منصوبے کو ’حتمی شکل‘ دیں اور امریکہ چھوڑ دیں۔\n\n’جون کے وسط میں آصف مرچنٹ نے مبینہ قاتلوں سے ملاقات کی، جو درحقیقت نیو یارک میں امریکی قانون نافذ کرنے والے خفیہ افسران (یو سی) تھے۔ انہوں نے یوسیز کو کہا کہ وہ ان سے تین کام لینا چاہتے ہیں: دستاویزات کی چوری، سیاسی ریلیوں میں احتجاج کا انتظام کرنا اور ان کے لیے ایک ’سیاسی شخص‘ کو قتل کرنا۔ آصف مرچنٹ نے بتایا کہ ان کے امریکہ چھوڑنے کے بعد اگست کے آخری ہفتے یا ستمبر کے پہلے ہفتے میں کس کو قتل کرنا ہے، اس بارے میں ہٹ مین کو ہدایات ملیں گی۔\n\n’اس کے بعد آصف مرچنٹ نے قتل کی پیشگی ادائیگی کے طور پر یو سیز کو پیسے دینے کے لیے پانچ ہزار ڈالر نقد حاصل کرنے کے ذرائع کا انتظام کرنا شروع کیا، جو بالآخر انہیں بیرون ملک ایک فرد کی مدد سے ملے۔\n\n’21 جون کو آصف مرچنٹ نے نیویارک میں یو سیز سے ملاقات کی اور انہیں پانچ ہزار ڈالر ایڈوانس ادا کیے۔\n\n’آصف کی جانب سے یو سیز کو پانچ ہزار ڈالر ادا کرنے کے بعد ایک یو سی نے کہا کہ ’اب ہم پابند ہیں‘ جس پر مرچنٹ نے ’ہاں‘ میں جواب دیا۔ اس کے بعد یو سی نے کہا کہ ’اب ہم جانتے ہیں کہ ہم نے آگے بڑھنا ہے۔ ہم یہ کریں گے، جس پر مرچنٹ نے جواب دیا ’ہاں، بالکل۔‘\n\n’مرچنٹ نے اس کے بعد جہاز کے انتظامات کیے اور جمعہ 12 جولائی 2024 کو امریکہ چھوڑنے کا ارادہ کیا۔ 12 جولائی کو قانون نافذ کرنے والے ایجنٹوں نے مرچنٹ کو ملک چھوڑنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔‘\n\nٹرمپ\n\nسازش\n\nقتل\n\nامریکہ\n\nامریکی محکمہ انصاف کے مطابق پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کو ایرانی حکام کی ہدایت پر’پیسوں کے عوض قتل اور قومی سرحدوں سے باہر دہشت گردی کی کارروائی کرنے کی کوشش‘ کا قصوروار قرار دیا گیا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, مارچ 7, 2026 - 09:00\n\nMain image:\n\n> <p>چھ اگست 2024 کو امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی آصف مرچنٹ کی تصویر (امریکی محکمہ انصاف/ روئٹرز)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nممکنہ اہداف ٹرمپ، بائیڈن اور نکی ہیلی تھے: آصف مرچنٹ کا جیوری کو بیان\n\nامریکی شخصیت کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام، پاکستانی گرفتار\n\nامریکی شخصیت کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام، پاکستانی پر فرد جرم عائد\n\nایران کا یورپی یونین سے پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد‘ قرار دینے پر احتجاج\n\nSEO Title:\n\nٹرمپ اور دیگر شخصیات کے قتل کی سازش: پاکستانی شہری آصف مرچنٹ مجرم قرار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ٹرمپ، دیگر شخصیات کے قتل کی سازش: پاکستانی شہری آصف مرچنٹ مجرم قرار"
}