{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifyk7vd6hpzf2zqxtvn6jcwbk5vlfg5ezegvlbiz5d4yzw2yq7pqq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgghgkcfllf2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiffqvhdjs46kjks6ujb2iu4ljl6pyjh5oqkmzwmjrbopihzx7uwpa"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 888065
},
"path": "/node/184939",
"publishedAt": "2026-03-06T07:38:44.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران",
"علی خامنہ ای",
"پاسدارانِ انقلاب",
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"آیت اللہ علی خامنہ ای",
"ایران پر امریکی حملہ",
"پاسداران انقلاب",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"video"
],
"textContent": "**گذشتہ ہفتےایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای مضبوط امیدوار کے روپ میں ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ **\n\nوہ خامنہ ای کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ 28 فروری کو ایران پر حملے کے پہلے ہی دن ان کی والدہ، اہلیہ اور ایک بہن کی بھی موت ہو گئی تھی۔ اس وقت مجبتیٰ حملے کے مقام پر موجود نہیں تھے۔\n\nایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب کرنے والی کونسل کے رکن آیت اللہ احمد خاتمی نے بدھ کو سرکاری ٹیلی ویژن پر اعلان کیا تھا کہ کونسل ’فیصلے کے قریب ہے‘، تاہم انہوں نے کوئی نام نہیں دیے۔\n\nتاہم امریکی صدر ٹرمپ نے ایکسیوس کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی ان کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ ’ہلکے‘ (لائٹ ویٹ) امیدوار ہیں، اور یہ کہ ’ہم کوئی ایسا شخص چاہتے ہیں جو ایران میں نظم و ضبط اور امن لا سکے۔‘\n\nیہ ٹرمپ کی جانب سے مجبتیٰ خامنہ ای کا پہلا ذکر نہیں ہے۔ 2019 میں، ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ نے مجتبیٰ پر یہ الزام لگاتے ہوئے پابندیاں عائد کی تھیں کہ وہ کوئی باقاعدہ حکومتی عہدہ نہ رکھنے کے باوجود سپریم لیڈر کی جانب سے سرکاری حیثیت میں کام کر رہے ہیں۔\n\n**مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟**\n\nمجتبیٰ آٹھ ستمبر 1969 کو ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان کے علاقے خامنہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اسی مناسبت سے ان کے خاندان کو خامنائی یا خامنہ ای کہا جاتا ہے۔\n\n17 سال کی عمر میں، انہوں نے مختصر عرصے کے لیے ایران، عراق جنگ میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے 1990 کی دہائی کے اواخر میں ہی عوام کی توجہ حاصل کرنا شروع کی، جس وقت تک ان کے والد کی بطور سپریم لیڈر عمل داری مضبوطی سے قائم ہو چکی تھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمجتبیٰ خامنہ ای نے قم سے دینی تعلیم حاصل کی ہے، اور ان کے پاس حجتہ اللہ کا عہدہ ہے، جو آیت اللہ سے ایک درجہ کم ہے۔ یہ بات ان کے سپریم لیڈر بننے کی راہ میں آڑے آ سکتی ہے۔\n\nانہوں نے اپنا زیادہ تر کریئر عوامی عہدوں سے الگ لیکن اقتدار کے قریب اپنے والد سپریم لیڈر کے دفتر میں کام کرتے ہوئے گزارا ہے۔ انہیں اکثر باقاعدہ کوئی عہدہ رکھنے والی عوامی سیاسی شخصیت کے بجائے ایک گیٹ کیپر اور پاور بروکر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔\n\n**پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات**\n\nمجبتیٰ کے ایران کی طاقت ور فوج پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے ایک تجزیے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب ان کی تقرری پر زور دے رہی ہے، تاہم ایک تجزیہ کار نے اخبار کو بتایا کہ ان کا اس وقت انتخاب درست فیصلہ ہو گا کیوں کہ مجتبیٰ سکیورٹی اور عسکری نظام سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔\n\nاس کے علاوہ انہیں والد کی امریکی اسرائیلی حملے میں موت کی وجہ سے عوامی ہمدردی بھی حاصل ہے۔\n\nمجتبیٰ خامنہ اپنے بچوں کے ساتھ 2018 میں یوم القدس کے موقعے پر (کری ایٹو کامنز - تسنیم نیوز ایجنسی)\n\n\n\n\nبرطانوی اخبار گارڈین اور چند دوسرے مغربی میڈیا نے الزام لگایا تھا کہ مجتبیٰ ایران میں بڑے پیمانے پر اثاثوں کے مالک ہیں۔ جب مغربی ملکوں نے ایران کے اربوں ڈالر منجمد کیے تو اس میں مجتبیٰ کے بھی اثاثے شامل تھے۔\n\nدی کنورسیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ مجتبیٰ کی شہرت دو اہم خصوصیات پر مرکوز رہی ہے۔ پہلی خصوصیت ایران کے سکیورٹی اداروں، خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب کور اور اس کے سخت گیر نیٹ ورکس کے ساتھ قریبی تعلق ہے۔\n\nدوسری خصوصیت اصلاح پسند سیاست اور مغربی ممالک کے ساتھ روابط کی سخت مخالفت ہے۔\n\nناقدین انہیں 2009 کے متنازع صدارتی انتخاب کے بعد ہونے والے مظاہروں کو کچلنے سے جوڑتے ہیں۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ انہوں نے ایران کی سرکاری نشریاتی تنظیم پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا، جس سے انہیں ملک کے معلوماتی منظر نامے اور ریاستی بیانیے کے کچھ حصوں پر بالواسطہ کنٹرول حاصل ہوا۔\n\nتاہم وہ زیادہ تر پس منظر میں رہے ہیں اور میڈیا پر زیادہ نظر نہیں آتے۔ ان کا کسی سیاسی جلسے کی قیادت کرنے، عوامی اجتماعات سے خطاب، یا بڑی مساجد میں امامت کا زیادہ ریکارڈ نہیں ہے۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n**سپریم لیڈر کی تقرری**\n\nایرانی آئین کے مطابق علما کی ایک 88 رکنی کونسل سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے۔ یہ کونسل ممکنہ امیدواروں کی مذہبی، سیاسی اور قائدانہ اہلیت کی فہرست بناتی ہے۔\n\nدوسری جانب دی کنورسیشن کے مطابق عملی طور پر یہ ایک غیر جانبدار انتخابی ادارہ نہیں ہے۔ خود کونسل کے امیدواروں کی جانچ پڑتال ان اداروں کے ذریعے کی جاتی ہے جو بالآخر سپریم لیڈر کے حلقہ اثر سے تشکیل پاتے ہیں، اور اس کی کارروائی خفیہ ہوتی ہے۔\n\nیہ بات اس وقت اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ مجتبیٰ کو ایک قابل عمل سپریم لیڈر کے طور پر کیوں دیکھا جاتا ہے، اس تنقید کے باوجود کہ ان کے پاس اس عہدے سے روایتی طور پر جڑا ہوا اعلیٰ مذہبی رتبہ نہیں ہے۔\n\nمجتبیٰ کے بطور سپریم لیڈر انتخاب میں ایک متنازع نکتہ یہ ہے کہ 1979 میں شاہ کا تختہ الٹتے وقت انقلاب کے موروثی حکمرانی کو مسترد کر دیا تھا۔\n\nاس لیے بہت سے ایرانیوں کے لیے والد کی جگہ بیٹے کو سپریم لیڈر بنانا نظریاتی پسپائی کے مترادف ہو سکتا ہے۔\n\n**وہ اپنے والد سے کتنے مختلف ہوں گے؟**\n\nیہ ایران کے لیے سب سے اہم سوال ہے۔ اس کا جواب شاید اس سے کم مختلف ہو جس کی بہت سے لوگ توقع کر سکتے ہیں۔\n\nعلی خامنہ ای ایرانی انقلاب کے معماروں میں سے ایک تھے۔ پچھلے چار عشروں میں انہوں نے اپنے گرد طاقت کا اس قدر ارتکاز کر لیا تھا کہ وہ خود ہی نظام بن گئے تھے۔\n\nمجتبیٰ خامنہ ای اگر سپریم لیڈر بن جاتے ہیں تو انہیں اپنے والد جیسی حیثیت اور طاقت حاصل کرنا بےحد مشکل ثابت ہو گا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق زیادہ امکان یہی ہے وہ اپنے والد کی پالیسیاں ہی جاری رکھیں گے۔\n\nدوسری طرف، چونکہ ان کے خاندان کے انتہائی قریبی افراد امریکی اور اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں، اس لیے ان کی جانب سے امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ کسی مفاہمت یا سمجھوتے کا امکان بھی کم ہے۔\n\nایران\n\nآیت اللہ علی خامنہ ای\n\nایران پر امریکی حملہ\n\nپاسداران انقلاب\n\nامریکی اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے علی خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ کو ہمدردی کا ووٹ مل سکتا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, مارچ 6, 2026 - 13:45\n\nMain image:\n\n> <p>مجتبیٰ خامنہ ای تین اکتوبر 2024 کو تہران میں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\njw id:\n\nN9TwQhkP\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\n’مزاحمت کا محور‘ تشکیل دینے والے علی خامنہ ای کون تھے؟\n\nایران سے سوائے غیرمشروط سرینڈر کے کوئی ڈیل نہیں ہوگی: ٹرمپ\n\nایران میں اس وقت انچارج کون ہے، نیا سپریم لیڈر کون ہوسکتا ہے؟\n\nایران میں سپریم لیڈر کیسے منتخب کیا جاتا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nایرانی سپریم لیڈر کے امیدوار مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ایرانی سپریم لیڈر کے امیدوار مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟"
}