{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreie7zayw4vf57xw3xczjb5xtg4xjgxxbnjkuihgv23hld6i5ibsqam",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgghgbgkxzj2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidiyjt6zrb5dkud5xxlkyggfmbcj2rn2z5qv4qresij7txzsrxzom"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 81031
},
"path": "/node/184935",
"publishedAt": "2026-03-06T08:30:10.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"جنگ کے پہلے دن کا احوال",
"دوسرے دن کا احوال",
"تیسرے دن کا احوال",
"چوتھے دن کا احوال",
"پانچویں دن کا احوال",
"چھٹے دن کے احوال لیے یہاں کلک کریں",
"https://t.co/MxWCuNYOYR",
"March 6, 2026",
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"ایران",
"اسرائیل",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"امریکہ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"video",
"لائیو اپ ڈیٹس",
"@drpezeshkian"
],
"textContent": "**تازہ ترین**\n\n * ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ ساتویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔\n * ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں انہیں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔\n * سری لنکا نے اپنے ساحل کے قریب ایک ایرانی بحری جہاز پر کنٹرول حاصل کر لیا\n\n\n---\n\n* * *\n\n**جنگ کے پہلے دن کا احوال — دوسرے دن کا احوال — تیسرے دن کا احوال — چوتھے دن کا احوال — پانچویں دن کا احوال — چھٹے دن کے احوال لیے یہاں کلک کریں**\n\n* * *\n\n**رات سات بج کر 35 منٹ: ایران سے سوائے غیرمشروط سرینڈر کے کوئی ڈیل نہیں ہوگی: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ صرف اس صورت میں ہوگا جب وہ غیر مشروط ہتھیار ڈال دے۔\n\n\n\n\nصدر ٹرمپ نے اپنے ذاتی پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں مزید کہا کہ اس کے بعد اور ایک عظیم اور قابل قبول قیادت کے انتخاب کے بعد، امریکہ اور اس کے بہادر اتحادی ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لانے کے لیے انتھک محنت کریں گے تاکہ اسے (ایران کو) اقتصادی طور پر پہلے سے بھی بڑا، بہتر اور مضبوط بنائیں گے۔\n\nٹرمپ نے کہا: ’ایران کا مستقبل شاندار ہوگا۔ ایران کو دوبارہ عظیم بنائیں (میک ایران گریٹ اگین)۔\n\n* * *\n\n**شام چھ بج کر 05 منٹ: بعض ممالک نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں: ایرانی صدر**\n\nایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جمعے کہا ہے کہ بعض ممالک نے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں تاہم ایران اپنی قومی عزت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔\n\n> Some countries have begun mediation efforts. Let's be clear: we are committed to lasting peace in the region yet we have no hesitation in defending our nation's dignity & sovereignty. Mediation should address those who underestimated the Iranian people and ignited this conflict https://t.co/MxWCuNYOYR\n\n> — Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) March 6, 2026\n\nایکس پر اپنے بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’ایران خطے میں دیرپا امن کے لیے پُرعزم ہے لیکن اپنی قوم کی عزت اور خودمختاری کے دفاع میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’ثالثی کی کوششوں کا رخ ان قوتوں کی طرف ہونا چاہیے جنہوں نے ایرانی عوام کو کم تر سمجھا اور اس تنازع کو بھڑکایا۔‘\n\n* * *\n\n**شام پانچ بج کر 45 منٹ: ایران پر حملے کے خلاف مذہبی جماعتوں کا ملک گیر احتجاج**\n\nگذشتہ ہفتے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے جمعے کو ملک گیر احتجاج کیا گیا جہاں لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں متعدد سڑکیں بند کر دی گئیں۔\n\nاس ہفتے کے آغاز میں حافظ نعیم الرحمٰن نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے خلاف آج ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ مذہبی جماعت مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے بھی آج سندھ بھر میں، خصوصاً کراچی میں، احتجاج کی کال دی تھی۔\n\nکراچی ٹریفک پولیس نے مظاہروں کے پیش نظر شہر کی متعدد اہم سڑکیں بند کرنے کا اعلان کیا۔\n\nچھ مارچ 2026 کو ایران پر حملے کے خلاف راولپنڈی میں احتجاج (جماعت اسلامی/فیس بک)\n\n\n\n\nمختلف جماعتوں کی جانب سے ایران پر حملہ کے خلاف یوم احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ رہی۔\n\nریڈزون کی طرف جانے کیلئے دو راستوں کے علاوہ تمام داخلی راستے بند رہے۔\n\nلاہور میں بھی جماعت اسلامی کا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جہاں منصورہ کے باہر احتجاج میں کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت۔\n\nشرکا نے اس موقعے پر امریکہ و اسرائیل کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔\n\n* * *\n\n**دو بج کر 53 منٹ: پاکستانی فضائی حدود میں پروازوں کی تعداد نہیں بڑھی: ایئرپورٹس اتھارٹی**\n\nپاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی نے وضاحت کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کی تعداد میں مستقل اضافہ اور لاکھوں ڈالر کی آمدن محض قیاس آرائیاں ہیں۔\n\nاتھارٹی نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ اوور فلائٹ ریونیو کا انحصار صرف پروازوں کی تعداد پر نہیں بلکہ فاصلے اور نیویگیشن چارجز سمیت کئی عوامل پر ہوتا ہے۔ پاکستانی فضائی حدود میں اوور فلائٹس میں 15 فیصد اضافے کی خبریں درست نہیں تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد اوور فلائٹ ٹریفک میں عارضی اضافہ دیکھا گیا۔\n\n* * *\n\n**دو بج کر 22 منٹ: امریکہ خلیجی ممالک اور یوکرین کے لیے میزائل نہیں دے سکتا: یورپی یونین**\n\nاے ایف پی کے مطابق یورپی کمشنر برائے دفاع اور خلائی امور آندریئس کوبیلیئس نے جمعے کو کہا ہے کہ امریکہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں اور یوکرین کو اپنے دفاع کے لیے کافی تعداد میزائل فراہم کر سکے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ۔اسرائیل جنگ کے بعد ’امریکی واقعی اتنے میزائل فراہم نہیں کر سکیں گے، نہ خلیجی ممالک کے لیے، نہ خود امریکی فوج کے لیے، اور نہ ہی یوکرین کی ضروریات کے لیے۔‘\n\n* * *\n\n**دو بج کر 15 منٹ: ایران جنگ: جنوبی کوریا میں موجود امریکی پیٹریاٹ میزائل یونٹس کی منتقلی پر غور**\n\nجنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے جمعے کو کہا ہے کہ واشنگٹن اور سیئول کی افواج جنوبی کوریا میں موجود امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے کچھ یونٹ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بنانے کے لیے ان کی منتقلی پر غور کر رہی ہیں۔\n\nروئٹرز کے مطابق چو ہیون پارلیمانی سماعت میں سوالات کا جواب دے رہے تھے، جہاں ان سے پوچھا گیا کہ امریکی موبائل میزائل انٹرسیپٹر نظام کے یونٹس کو ملک کے دیگر مقامات سے جنوبی کوریا کے اوسان ایئر بیس منتقل کیا گیا ہے۔\n\nچو ہیون نے کہا کہ وہ اس بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے کہ آیا امریکہ جلد ہی پیٹریاٹ میزائل ایران کے خلاف تنازع میں استعمال کے لیے منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔\n\nجنوبی کوریا میں امریکہ کی بڑی فوجی موجودگی ہے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا کے خلاف مشترکہ دفاع کے لیے قائم ہے، جہاں تقریباً28 ہزار 500 امریکی فوجی اور فضائی دفاعی نظام، بشمول پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز موجود ہیں۔\n\n* * *\n\n**دوپہر 1 بج کر 20 منٹ: ایران کے لیے جاسوسی کے شبہ میں چار افراد گرفتار: برطانوی پولیس**\n\nبرطانوی پولیس نے جمعے کو ایران کے لیے جاسوسی کے شبہ میں چار افراد کو گرفتار کر لیا۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ گرفتاریاں ان مقامات کی نگرانی سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں کی گئیں جو یہودی برادری سے منسلک ہیں۔\n\n* * *\n\n**دن 12 بجے: سری لنکا نے اپنے ساحل کے قریب ایک ایرانی بحری جہاز پر کنٹرول حاصل کر لیا**\n\nسری لنکا نے جمعے کو ایک ایرانی بحری جہاز سے 200 سے زائد ملاحوں کو ساحل کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیا۔ یہ جہاز ملک کے پانیوں کے باہر لنگر انداز تھا اور اس نے مدد کی درخواست کی تھی۔\n\nیہ اقدام بحیرہ ہند میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اٹھایا گیا، جب ایک امریکی آبدوز نے ایک ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنا کر اسے ڈبو دیا تھا۔\n\nسری لنکن بحریہ کے ترجمان کمانڈر بدھیکا سمپتھ نے بتایا کہ آئی آر آئی ایس بشہر نامی جہاز کے ملاح پہلے کولمبو بندرگاہ پہنچائے جائیں گے اور بعد میں جہاز کو جزیرے کی مشرقی بندرگاہ پر منتقل کیا جائے گا۔\n\nانہوں نے کہا: ’ملاحوں کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ طبی معائنے اور امیگریشن کے عمل کے بعد ملاحوں کو ویلیسارا نیول بیس لے جایا جائے گا، جو کولمبو کے شمال میں تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔\n\nسری لنکا کی حکومت کی جانب سے جہاز پر کنٹرول حاصل کرنے کا فیصلہ امریکہ کی جانب سے بدھ کو سری لنکن ساحل کے قریب ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس دینا کو نشانہ بنا کر ڈبوئے جانے کے کے بعد کیا گیا۔ یہ حملہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کے چند نادر مواقع میں سے ایک تھا، جس میں ایک آبدوز نے جنگی جہاز کو نشانہ بنایا۔\n\nآئی آر آئی ایس دینا نے انڈیا کے میزبان نیول مشقوں میں حصہ لیا تھا اور پھر بین الاقوامی پانیوں کی طرف روانہ ہوا۔\n\nحملے کے بعد سری لنکن بحریہ نے 32 ملاحوں کو بچایا اور 87 لاشیں برآمد کیں۔\n\nایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس واقعے کو ’سمندر میں ظلم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس حملے پر ’شدید پچھتائے گا۔‘\n\nامریکی محکمہ دفاع کی جانب سے 4 مارچ 2026 کو جاری کی گئی ایک ویڈیو سے لیا گیا سکرین گریب جس میں ایرانی بحری جہاز کو حملے کے بعد ڈوبتے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی/ امریکہ محکمہ دفاع)\n\n\n\n\nسری لنکا کے صدر انورا کمارا دسنا یکے نے جمعرات کی رات کہا کہ ایرانی حکام اور جہاز کے کپتان سے بات چیت کے بعد حکومت نے آئی آر آئی ایس بشہر پر کنٹرول حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، جب جہاز کا ایک انجن فیل ہو گیا۔\n\nصدر نے صحافیوں کو بتایا: ’ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ معمول کی صورت حال نہیں ہے۔ یہ ایک جہاز کی جانب سے ہماری بندرگاہ میں داخل ہونے کی درخواست ہے، جسے بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشن کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔‘\n\nجمعے کو صدر نے ایک الگ بیان میں لکھا: ’کسی بھی شہری کو جنگ میں نہیں مارا جانا چاہیے۔ ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہر زندگی ہمارے لیے اتنی ہی قیمتی ہے جتنی اپنی۔‘\n\nایران کی پچھلی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی آر آئی ایس بشہر ایک نیول لاجسٹکس جہاز تھا، جس پر ہیلی کاپٹر لینڈنگ پیڈ بھی موجود تھا۔\n\nسری لنکن صدر نے مزید کہا کہ کچھ عملے کے افراد جہاز پر رہیں گے تاکہ سری لنکا کی بحریہ کو ٹرنکومالی، جزیرے کے شمال مشرقی ساحل پر پہنچانے میں مدد کریں۔ باقی ملاحوں کو نیول بیس میں رکھا جائے گا۔\n\nانہوں نے کہا کہ سری لنکا غیر جانبداری کی پالیسی کے تحت انسانی ہمدردی کے اصولوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔\n\nصدر نے مزید کہا: ’ہم نے واضح موقف اپنایا ہے۔ ہم کسی ریاست کے حق میں نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی ریاست کے سامنے جھکیں گے۔‘\n\n* * *\n\n**صبح 10 بج کر 5 منٹ: اتحاد ایئر ویز کا آج سے کمرشل پروازیں شروع کرنے کا اعلان**\n\nابوظبی کی قومی ایئر لائن اتحاد ایئر ویز نے چھ مارچ (آج) سے محدود کمرشل پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔\n\nفضائی کمپنی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایئر لائن ابوظبی اور کئی اہم مقامات کے درمیان آپریٹ کریں گی۔\n\nایئر لائن نے مسافروں سے کہا ہے کہ اتحاد ایئر ویز کی جانب سے فون پر رابطے کے بغیر ایئر پورٹ جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔\n\n* * *\n\n**صبح 9 بج کر 30 منٹ: اسرائیل کے ایران اور لبنان میں مزید حملے**\n\nاسرائیل نے جمعے کو صبح سویرے فضائی حملوں میں ایران اور لبنان کے دارالحکومتوں کو شدید نشانہ بنایا۔\n\nخبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اسرائیلی فوج نے جمعے کی صبح کہا کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران پر ’وسیع پیمانے پر حملوں کی ایک بڑی لہر‘ شروع کر دی ہے۔\n\nعینی شاہدین نے اسرائیلی فضائی حملوں کو غیر معمولی طور پر شدید قرار دیا، جن سے علاقے میں گھروں تک لرز گئے۔\n\nبعض افراد نے ایرانی شہر کرمانشاہ کے اطراف میں بھی دھماکوں کی اطلاع دی، جہاں متعدد میزائل اڈے موجود ہیں۔\n\nاسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں ایران کے بیشتر فضائی دفاعی نظام اور میزائل لانچر پہلے ہی تباہ کر دیے گئے ہیں۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**صبح 8 بجے: ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں مجھے شامل کیا جانا چاہیے: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں انہیں بھی شامل ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کو بطور نیا سپریم لیڈر مسترد کر دیا۔\n\nڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو چھ روز ہو چکے ہیں اور ایران نے بھی جوابی حملے جاری رکھتے ہوئے اسرائیل، امریکی فوجی اڈوں اور خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔\n\nامریکی ویب سائٹ ایکسیوس کو دیے گئے بیان میں ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو بطور نیا سپریم لیڈر مسترد کر دیا، جو اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ لینے کے لیے ایک مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔ علی خامنہ ای جنگ کے ابتدائی حملوں میں جان سے چلے گئے تھے۔\n\nٹرمپ نے 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو کبھی کسی سرکاری عہدے کے لیے منتخب یا مقرر نہیں ہوئے، کو ’کمزور شخصیت‘ قرار دیا۔\n\nامریکی صدر نے کہا: ’ہم ایران میں ایسے شخص کو چاہتے ہیں جو ہم آہنگی اور امن لائے۔‘\n\nانہوں نے کہا: ’مجھے تقرری کے عمل میں شامل ہونا ہوگا، جیسے وینزویلا میں ڈیلسے کے معاملے میں ہوا تھا۔‘ یہاں ٹرمپ کا اشارہ جنوبی امریکی ملک کے قائم مقام صدر کی طرف تھا۔ ڈیلسے روڈریگز نے جنوری میں اس وقت اقتدار سنبھالا تھا جب امریکی فوجی کارروائی میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا گیا تاکہ ان پر منشیات کے الزامات سے متعلق مقدمہ چلایا جا سکے۔\n\nخبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان اس سوال کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے کہ آیا امریکہ اور اسرائیل ایران کے خاتمے کے خواہاں ہیں یا صرف اس کی پالیسیوں میں تبدیلی چاہتے ہیں۔\n\nوائٹ ہاؤس میں مختصر گفتگو کے دوران ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ ’اپنا ملک واپس لینے میں مدد کریں۔‘\n\nاس بار انہوں نے وعدہ کیا کہ جنگ اور موجودہ ایرانی حکومت کے تحت جاری خطرات کے دوران امریکہ انہیں ’استثنیٰ‘ فراہم کرے گا۔\n\nبقول ٹرمپ: ’اس طرح آپ مکمل استثنیٰ کے ساتھ بالکل محفوظ ہوں گے۔‘ تاہم انہوں نے اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں دی کہ اس استثنیٰ کا مطلب کیا ہے۔\n\nساتھ ہی انہوں نے کہا: ’ورنہ آپ کو یقینی موت کا سامنا ہوگا۔‘\n\nیہ جنگ ہر روز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر مزید 14 ممالک کو متاثر کر چکی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nجمعرات کو آذربائیجان نے ایران پر ڈرون حملوں کا الزام عائد کیا، جس کی تہران نے تردید کی۔ اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ بدھ کو سری لنکا کے قریب ایک ایرانی جنگی جہاز کو تباہ کرنے پر امریکہ کو ’سخت پچھتاوا‘ ہوگا۔\n\nدوسری جانب اسرائیل نے ایران کے اتحادی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی بڑھنے کے بعد بیروت کے جنوبی مضافات کے لیے بڑے پیمانے پر انخلا کی وارننگ جاری کی۔ اقوام متحدہ کے امن دستوں نے جنوبی لبنان میں زمینی جھڑپوں کی اطلاع دی کیونکہ مزید اسرائیلی فوجی سرحد پار کر گئے۔\n\nاسی دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ملک گیر حملے جاری رکھے، جن کا ہدف اس کی عسکری صلاحیتیں، قیادت اور جوہری پروگرام تھے۔\n\nایران کے حملوں نے اس کے عرب ہمسایہ ممالک کو بھی نشانہ بنایا، تیل کی فراہمی کو متاثر کیا اور عالمی فضائی سفر میں خلل ڈالا۔ حکام کے مطابق جنگ میں ایران میں کم از کم 1,230 افراد، لبنان میں 120 سے زائد اور اسرائیل میں تقریباً ایک درجن افراد کی اموات ہو چکی ہیں جبکہ 6 امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔\n\nایران پر حملے کے ٹرمپ کے فیصلے کو جمعرات کو امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن قانون سازوں کی اتنی حمایت ملی کہ حملے روکنے کی قرارداد ناکام ہو گئی۔ ایک دن پہلے سینیٹ نے بھی اسی طرح کی ایک تجویز مسترد کر دی تھی۔\n\n* * *\n\n**صبح 7 بج کر 15 منٹ: ایران کے 30 سے زائد جہاز ڈبو چکے ہیں: امریکی سینٹ کام**\n\nامریکی فوج نے جمعے کی صبح کہا کہ ایک ایرانی ڈرون بردار جہاز کو نشانہ بنا کر آگ لگا دی گئی ہے۔\n\nامریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں سیاہ و سفید ویڈیو دکھائی گئی جس میں متعدد حملوں کے بعد جہاز کو آگ لگتی دکھائی دے رہی تھی۔ تاہم ایرانی فوج نے فوری طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں کی۔\n\nامریکی سینٹرل کمانڈ، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی نگرانی کرتی ہے، سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے جمعرات کو عسکری طاقت میں مزید اضافے کی تفصیلات بتائیں۔\n\nانہوں نے کہا: ’اس میں مزید لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن، مزید صلاحیتیں اور مزید دفاعی صلاحیتیں شامل ہیں۔ اور بمبار طیاروں کے حملے زیادہ کثرت سے ہوں گے۔‘\n\nامریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی افواج ایران کے 30 سے زائد جہاز ڈبو چکی ہیں، جن میں ایک ڈرون بردار جہاز بھی شامل ہے جو ’تقریباً دوسری عالمی جنگ کے طیارہ بردار جہاز کے سائز کا تھا۔‘\n\nادھر اسرائیل کے اعلیٰ جنرل لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا کہ حملوں کی لہروں نے ایران کے 80 فیصد فضائی دفاعی نظام اور 60 فیصد میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا: ’خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔‘\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**صبح 6 بج کر 45 منٹ: ایران کا مؤقف بدستور سخت**\n\nمصر میں ایران کے سفیر مجتبیٰ فردوسی پور نے جمعرات کو ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے بڑھتی ہوئی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کی کہ ایران مذاکرات چاہتا ہے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے 2 بار مذاکرات ناکام ہونے اور جنگ پر مذاکرات ختم ہونے کے بعد اعتماد کی کمی ایسی کسی بات چیت کو ناممکن بنا دیتی ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’ٹرمپ پر کوئی اعتماد نہیں ہوگا۔‘\n\nاس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی بحریہ پر الزام لگایا کہ اس نے بحرِ ہند میں ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس ڈینا کو ڈبو کر ’سمندر میں ایک سنگین جرم‘ کیا، جس سے کم از کم 87 افراد جان سے گئے۔\n\nیہ ایرانی جہاز انڈین بحریہ کی میزبانی میں ہونے والی ایک مشق سے واپس آ رہا تھا جس میں امریکہ بھی شریک تھا۔ سری لنکا کے حکام نے کہا کہ عملے کے 32 ارکان کو بچا لیا گیا۔ عراقچی کے مطابق جہاز پر ’تقریباً 130‘ افراد سوار تھے۔\n\nبعد میں ایک ایرانی عالم دین نے سرکاری ٹی وی پر اسرائیل اور ’ٹرمپ کے خون‘ بہانے کی اپیل کی۔\n\nیہ بیان آیت اللہ عبداللہ جوادی آملی کی جانب سے دیا گیا، جو اعلیٰ ترین مذہبی عہدوں میں سے ایک پر فائز ہیں۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**صبح 6 بج کر 30 منٹ: بیروت کے مضافات کے لیے اسرائیلی انخلا کی وارننگ**\n\nاسرائیل نے جمعرات کی شام بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کیا، اس سے پہلے رہائشیوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ ’اپنی جانیں بچائیں اور فوراً اپنے گھروں سے نکل جائیں۔‘\n\nلبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد اموات کی تعداد بڑھ کر 123 ہو گئی ہے۔\n\nجنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے ترجمان تیلاک پوکھریل نے جمعرات کو کہا کہ امن دستوں نے جنوبی لبنان میں جھڑپیں دیکھی اور سنی ہیں، جن میں زمینی لڑائی بھی شامل ہے، کیونکہ مزید اسرائیلی افواج سرحد پار کر چکی ہیں۔\n\n* * *\n\n**صبح 6 بجے: خلیجی ممالک نشانے پر**\n\nخبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق خلیجی ممالک نے بھی جمعرات کو حملوں کی اطلاع دی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ کویت میں امریکی سفارت خانہ بند کیا جا رہا ہے، جہاں آنے والے میزائلوں کے جواب میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔\n\nایران نے امریکی اتحادی کویت پر میزائلوں اور ڈرونز کی کئی لہریں داغی ہیں، جہاں اتوار کو ایک ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجیوں کی اموات ہوئیں۔\n\nمتحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئر بیس کے قریب ایک ڈرون مار گرایا گیا، جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔ حکام نے کہا کہ گرنے والے دھاتی ٹکڑوں سے کئی افراد زخمی ہوئے۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nقطر نے احتیاطی تدبیر کے طور پر دوحہ میں امریکی سفارت خانے کے قریب رہائشیوں کو عارضی طور پر منتقل کیا اور بعد میں میزائل حملے کی اطلاع دی۔ سعودی عرب نے کہا کہ اس نے اردن سے ملحق ایک صوبے میں ایک ڈرون تباہ کر دیا۔\n\nبحرین نے کہا کہ جمعرات کو ایک ایرانی میزائل نے سرکاری آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا جس سے آگ لگ گئی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔\n\nآذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے ایران پر ’بلا جواز دہشت گردی اور جارحیت‘ کا الزام عائد کیا جب جمعرات کو ایک ڈرون ہوائی اڈے کے قریب گر کر تباہ ہوا، جس سے چار شہری کارکن زخمی ہو گئے۔ ایک اور ڈرون ایک سکول کے قریب گرا۔\n\nتاہم ایران نے آذربائیجان کی جانب ڈرون بھیجنے کی تردید کی۔ ایران بارہا تیل کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی بھی تردید کرتا رہا ہے۔\n\nخلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز میں بھی جہازوں پر حملے ہوئے ہیں، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ مریکی اسٹاک مارکیٹ میں کمی آئی۔\n\nایران\n\nاسرائیل\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nامریکہ\n\nدوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ کچھ ممالک نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں تاہم ایران اپنی قومی عزت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, مارچ 6, 2026 - 18:15\n\nMain image:\n\n> <p>بیروت پر 6 مارچ 2026 کو اسرائیلی حملے کے بعد عمارتوں سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ قریب سے ہی ایک مسافر طیارہ بھی گزر رہا ہے (روئٹرز)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\njqJsfpvm\n\ntype:\n\nvideo\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nامریکی سینیٹ میں ایران پر حملہ روکنے کی قرارداد ناکام\n\nایران کی جانب سے فائر کی جانے والی ہر چیز نہیں روک سکتے: امریکی وزیر دفاع\n\nایران جنگ: خلیجی سیاحت خطرے میں، برسوں کی سرمایہ کاری متاثر\n\nایران پر حملہ اور بین الاقوامی قانون\n\nSEO Title:\n\nایران سے سوائے غیرمشروط سرینڈر کے کوئی ڈیل نہیں ہوگی: ٹرمپ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "ایران سے سوائے غیرمشروط سرینڈر کے کوئی ڈیل نہیں ہوگی: ٹرمپ"
}