{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreic6vpevq72ah3p6vdpwvoz5rcjmmc4fqlt7ylcjhs2q46gvi7lsgy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgghftgadcf2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihingx7frc5v6jpzmbq3mwrwxklaz2pn2pzwpyivd6wetonjn6nmu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 86473
},
"path": "/node/184943",
"publishedAt": "2026-03-06T11:02:25.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بنوں",
"پولیس",
"لڑکی",
"وائرل ویڈیو",
"تشدد",
"ٹی ٹی پی",
"اظہار اللہ",
"خواتین",
"news"
],
"textContent": "**سوشل میڈیا پر گذشتہ دو دنوں سے ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ نامعلوم افراد، حلیے سے کم سن لگنے والی لڑکی پر تشدد کر رہے ہیں۔**\n\nبہت سے سوشل میڈیا صارفین اس واقعے کی تنقید کر رہے ہیں جبکہ سرکاری نیوز چینل پی ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ علما اکرام نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔\n\nپولیس کے مطابق اس کیس میں لڑکی کی جانب سے کسی مدعی نے آ کر مقدمہ درج نہیں کرایا۔\n\nبنوں پولیس کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ تاحال لڑکی کے خاندان کے کسی فرد نے مقدمہ درج نہیں کرایا، اس لیے اس واقعے کی تفتیش نہیں ہو رہی۔\n\nویڈیو میں نظر آنے والی لڑکی لڑکوں کے لباس میں ملبوس نظر آتی ہے اور سر پر سفید رنگ کا رومال پہنا ہوا ہے۔\n\nویڈیو میں مارنے والے افراد کو پشتو زبان میں لڑکی سے گفتگو کرتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے، جس میں نامعلوم مسلح افراد اسے کہتے ہیں کہ ’تم لڑکی ہو اور لڑکوں کا لباس پہن کر لوگوں کے ساتھ موٹرسائیکل پر گھومتی پھرتی ہو، جو شرم کی بات ہے۔‘\n\n25 نومبر، 2009 کو کراچی میں خواتین رضاکار خواتین کے خلاف تششد ختم کرنے کے عالمی دن کے موقعے پر نعرے لگا رہی ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nویڈیو میں لڑکی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ ’دوبارہ اپنے والدین کو نہیں رلائے گی اور ان سے معافی بھی مانگے گی۔‘\n\nلڑکی مزید کہتی ہے کہ ’میرے والدین بھی میرے لیے روتے ہیں اور میں ان سے معافی مانگوں گی۔‘\n\nسوشل میڈیا پر بعض صارفین کہہ رہے ہیں کہ لڑکی کو مقامی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ تاہم ٹی ٹی پی نے ایک بیان میں اس واقعے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔\n\n**معاملہ اصل میں کیا ہے؟**\n\nانڈپینڈنٹ اردو نے اس کیس کے حوالے سے مختلف متعلقہ افراد سے بات کی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ دراصل یہ واقعہ کیسے اور کیوں پیش آیا؟\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاندرونی طور پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی بنائی گئی ایک رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ مذکورہ لڑکی کا تعلق بنوں کے علاقے ڈومیل سے ہے اور اس کی عمر 15 سے 16 سال بتائی جاتی ہے۔\n\nرپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق یہ لڑکی مبینہ طور پر خود کو نمایاں کرنے کے لیے لڑکوں کے کپڑے پہنتی تھی اور لڑکوں کے حلیے میں دیگر لوگوں کے ساتھ گھومتی تھی۔\n\nرپورٹ کے مطابق اس سے پہلے بھی وہ تین چار دیگر لڑکوں کے ساتھ گھومتی تھی اور مختلف شہروں میں جا کر رہتی تھی۔\n\nرپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حالیہ دنوں میں وہ ایک لڑکے کے ساتھ اس کے گھر اور حجرے میں مبینہ طور پر رہ رہی تھی اور مبینہ طور پر اسی لڑکے کے والد نے ان نامعلوم افراد کو شکایت کی کہ ان کے بیٹے کو لڑکی سے الگ کیا جائے، جس کے بعد ایسا کیا گیا۔\n\nرپورٹ میں لکھا گیا ’ان مسلح افراد نے لڑکے اور لڑکی دونوں پر تشدد کیا، جس کے بعد پولیس نے دونوں کو بازیاب کرا لیا اور اب لڑکی محفوظ ہے۔‘\n\nاس واقعے پر انڈپینڈنٹ اردو نے بنوں کے پولیس سربراہ یاسر افریدی اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او عصمت اللہ سے رابطہ کرنے کی متعدد بار کوشش کی، تاہم کسی نے کال یا پیغامات کا جواب نہیں دیا۔\n\nبنوں\n\nپولیس\n\nلڑکی\n\nوائرل ویڈیو\n\nتشدد\n\nٹی ٹی پی\n\nوائرل ویڈیو میں کچھ نامعلوم افراد لڑکوں کے لباس میں ملبوس کم سن لڑکی پر تشدد کرتے دکھائی دیتے ہیں جس پر عوامی تنقید ہو رہی ہے۔\n\nاظہار اللہ\n\nجمعہ, مارچ 6, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p>24 جولائی 2021 کی اس تصویر میں لاہور میں ایک احتجاج میں شریک خواتین نے لڑکیوں پر تشدد کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nخواتین\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاسلام آباد میں خواتین پر تشدد کی وائرل ویڈیو کی اصل کہانی کیا تھی؟\n\nسندھ: وائرل ویڈیو میں درخت سے بندھا مغوی کون ہے؟\n\nوائرل ویڈیو میں خاتون پر ’تشدد‘ کرنے والا شخص کون ہے؟\n\nگھریلو تشدد کا نیا قانون محض خانہ پری؟\n\nSEO Title:\n\nلڑکی پر تشدد کی ویڈیو، کسی نے مقدمہ درج نہیں کرایا: بنوں پولیس\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "لڑکی پر تشدد کی ویڈیو، کسی نے مقدمہ درج نہیں کرایا: بنوں پولیس"
}