{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifeyq2nbrvahsx56o4jfb3wx3ytuh4nxplwgvyb3rbhjv66xe6mia",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgdqarfpvs52"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigzs6qu7kqss4pnfzkxxrjtgm32vmyf7rsejtehowfrz5km3jzs6q"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 125675
  },
  "path": "/node/184925",
  "publishedAt": "2026-03-05T05:19:08.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاک افغان سرحد",
    "پاک افغان تعلقات",
    "سرحدی جھڑپیں",
    "1947",
    "پاکستان",
    "ڈیورنڈ لائن",
    "نقل مکانی",
    "افغان",
    "روئٹرز",
    "ایشیا",
    "video"
  ],
  "textContent": "**افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ رہنے والے متعدد افغانوں نے کہا کہ وہ اپنے گھروں سے بھاگنے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ بدھ کو دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان لڑائی کے ساتویں دن شدید گولہ باری اور دھماکے ہوئے۔**\n\nگذشتہ ہفتے بڑے افغان شہروں پر پاکستانی فضائی حملوں کے بعد جنوبی ایشیائی اتحادیوں سے بنے ہوئے دشمن برسوں میں اپنی بدترین لڑائی میں ہیں، جس سے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پہلے سے ہی خطے میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے۔\n\nاسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی حملے، جو کبھی کبھی طالبان حکومت کو نشانہ بنا چکے ہیں، کا مقصد عسکریت پسندوں کو پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنا ہے۔ طالبان عسکریت پسند گروپوں کی مدد کی تردید کرتے ہیں۔\n\nوزیر اعظم شہباز شریف کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے جیو ٹی وی کو بتایا کہ پاکستان نے زیادہ تر اہداف حاصل کر لیے ہیں لیکن آپریشن جاری ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’زیادہ تر تربیتی مراکز کو ختم کر دیا گیا ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو ’تصدیق شدہ ثبوت‘ چاہیے تھا کہ افغان سرزمین حملوں کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔\n\n**دیہاتی گولہ باری کے ساتھ روزہ کھولتے ہیں**\n\nپاکستان کے شمال مغرب کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ لڑائی اکثر شام کے وقت شروع ہو جاتی ہے جس سے گھروں میں آگ لگ جاتی ہے جب خاندان رمضان کے روزے کھول رہے ہوتے ہیں۔\n\nطورخم بارڈر کراسنگ کے قریب لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے فرید خان شنواری نے روئٹرز کو بتایا کہ ’دن میں مکمل خاموشی ہے، لیکن جس لمحے ہم افطار ڈنر پر بیٹھتے ہیں، دونوں طرف سے گولہ باری شروع ہو جاتی ہے۔\n\nایک افغان لڑکی، جس کا خاندان سرحدی کراسنگ پر پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کے نقل مکانی پر مجبور ہوا، اپنے خاندان کے خیمے کے باہر چٹان کے چولہے پر کھانا پکا رہی ہے (روئٹرز)\n\n\n\n\n’ہم اپنا روزہ انتہائی مشکل حالات میں کھولتے ہیں، کیونکہ آپ کبھی نہیں جانتے کہ کب کوئی گولہ آپ کے گھر پر آ سکتی ہے۔‘\n\nسرحد کے اس پار افغانوں نے اسی طرح کی لڑائی اور نقل مکانی کی اطلاع دی۔\n\nکھلے میدان میں سینکڑوں افغان عارضی خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جن کے پاس کوئی جائے پناہ نہیں۔\n\nحکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 1500 خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔\n\nناروے کی پناہ گزینوں کی کونسل نے ایکس پر کہا کہ پاکستان کا میزائل حملہ افغانستان میں 2025 کے کنڑ زلزلے سے بے گھر ہونے والے لوگوں کے کیمپ کے قریب ہوا، جس سے تین افراد جان سے گئے، سات زخمی ہوئے اور تقریباً 650 خاندان دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nروئٹرز آزادانہ طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا۔\n\nحضرت میر، جو کہ طورخم سے ضلع لالپور میں لڑائی سے فرار ہوئے، نے حکام پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کو روکیں۔ ’ہم صرف اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔‘\n\n2,600 کلومیٹر سرحد کے ساتھ لڑائی ایک ہفتے تک جاری رہی اور دونوں فریقوں نے بھاری نقصانات اور علاقائی فوائد کا دعویٰ کیا۔\nترکی نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔\n\nترک صدر رجب طیب اردوغان نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کو بتایا کہ انقرہ جنگ بندی کی بحالی میں مدد کرے گا۔\n\nدونوں اطراف نے بدھ کو شدید فائرنگ کی اطلاع تھی، جبکہ افغانستان کی وزارت دفاع نے کہا کہ طالبان فورسز نے ایک پاکستانی ڈرون کو مار گرایا اور سات سرحدی چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔\n\nوزارت نے کہا کہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے 65 خواتین اور بچوں سمیت 110 شہری مارے گئے اور 123 زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے 42 اموات کی اطلاع دی ہے۔\n\nپاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اعداد و شمار کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان صرف ’دہشت گردوں اور بنیادی ڈھانچے کی حمایت‘ کو نشانہ بناتا ہے نہ کہ سویلین سائٹس کو۔\n\nپاک افغان سرحد\n\nپاک افغان تعلقات\n\nسرحدی جھڑپیں\n\n1947\n\nپاکستان\n\nڈیورنڈ لائن\n\nنقل مکانی\n\nافغان\n\nناروے کی پناہ گزینوں کی کونسل نے ایکس پر کہا کہ پاکستان کا میزائل کنڑ میں زلزلہ متاثرین کے کیمپ کے قریب گرا، جس سے تین افراد جان سے گئے۔\n\nروئٹرز\n\nجمعرات, مارچ 5, 2026 - 10:00\n\nMain image:\n\n> <p>ایک بے گھر افغان خاندان جو سرحدی کراسنگ پر پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد فرار ہوا تھا، اپنا سامان ایک عارضی کیمپ میں ترتیب دے رہا ہے۔ خاندان افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار کے ضلع لال پور میں 4 مارچ 2026 کو پناہ لے رہے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\njw id:\n\nJ4hsEXIM\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nکیا پاکستان افغانستان امن سے عام آدمی کی معاشی حالت میں تبدیلی آئے گی؟\n\nپاکستان، افغانستان سرحدی بندش سے کس کا نقصان زیادہ؟\n\nپاکستان کے ساتھ تجارت بند، اب ایران جنگ کا افغانستان پر کیا اثر ہوگا؟\n\nافغانستان کے بلوچستان میں 16 مقامات پر حملے: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nپاکستان افغانستان سرحد پر فائرنگ، سینکڑوں افغان خاندان نقل مکانی پر مجبور\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پاکستان افغانستان سرحد پر فائرنگ، سینکڑوں افغان خاندان نقل مکانی پر مجبور"
}