{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiesqtqeaptxpt26imawgwu6c7eoinidytul4gx5ndrq62473mmbqu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgdqad7fjbg2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiemwcdu6aiqnyqcqbb7ba3p4nsbrczv7ee2tpnjuynsdirn63t4lm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 40443
},
"path": "/node/184921",
"publishedAt": "2026-03-05T08:00:14.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"جنگ کے پہلے دن کا احوال",
"دوسرے دن کا احوال",
"تیسرے دن کا احوال",
"چوتھے دن کا احوال",
"پانچویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں",
"Independenturdu",
"Israel",
"US",
"pic.twitter.com/uKG1tZipxu",
"March 5, 2026",
"WhatsApp Image 2026-03-05 at 1.13.40 PM.jpeg",
"Screenshot 2026-03-05 124543.jpg",
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"Screenshot 2026-03-05 130455.jpg",
"ایران",
"اسرائیل",
"امریکہ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"video",
"@indyurdu",
"@ADMediaOffice",
"@PakSarfrazbugti"
],
"textContent": "**تازہ ترین**\n\n * ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ چھٹے روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔\n * سری لنکا کے ساحل کے قریب امریکی آبدوز سے داغے گئے ٹارپیڈو کی وجہ سے ایرانی جہاز ڈوب گیا، سینکڑوں اموات\n * عراق میں ایران مخالف کرد گروہوں کا امریکی حمایت سے لڑائی میں شامل ہونے کا عندیہ\n\n\n---\n\n* * *\n\n**جنگ کے پہلے دن کا احوال — دوسرے دن کا احوال — تیسرے دن کا احوال — چوتھے دن کا احوال —****پانچویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں**\n\n* * *\n\n**رات 11 بج کر 05 منٹ: ایران پر زمینی کارروائی مخالفین کے لیے ’تباہی‘ ثابت ہو گی: عباس عراقچی**\n\nایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا کہ ان کا ملک کسی بھی ممکنہ زمینی حملے کے لیے تیار ہے اور اس طرح کا اقدام اسلامی جمہوریہ کے مخالفین کے لیے ’تباہی‘ ثابت ہوگا۔\n\nعراقچی نے امریکی نیوز چینل این بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم پر اعتماد ہیں کہ ہم ان کا مقابلہ کر سکتے یں اور یہ ان کے لیے بہت بڑی تباہی ہوگی۔‘\n\n* * *\n\n**رات 9 بج کر 30 منٹ: ایران کی آذربائیجان پر ڈرون حملے کی تردید، اسرائیلی سازش قرار**\n\nخبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ حملہ نہیں کیا اور اس کا الزام اسرائیل پر لگایا ہے۔\n\nانہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’صیہونی حکومت کے ایسے اقدامات، جو مختلف طریقوں سے مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کے لیے ہیں، کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘\n\nایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی جمعرات کو اپنے آذربائیجانی ہم منصب جہون بیراموف سے ٹیلی فون پر گفتگو میں اس بات کی تردید کی کہ ایران نے آذربائیجان پر کوئی پروجیکٹائل داغا ہے۔\n\nانہوں نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے حملوں میں اسرائیلی حکومت کا کردار ہے جس کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا اور ایران کے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔‘\n\nایران کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے جمعرات کو ایران پر ’دہشت گردی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔\n\nاس سے قبل آذربائیجان کے علاقے نخچیوان ڈرون حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے سے مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ مزید پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔\n\nحکام کے مطابق حملے میں کم از کم چار ڈرون استعمال کیے گئے جو ایران سے میں داخل ہوئے۔ آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فوج نے ایک ڈرون کو تباہ کر دیا جبکہ دیگر ڈرونز شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔\n\n* * *\n\n**رات 9 بج کر 10 منٹ:ایران کے مبینہ ڈرون حملوں کے بعد آذربائیجان کی جوابی کارروائی کی دھمکی**\n\nآذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے جمعرات کو ایران پر ’دہشت گردی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آذربائیجان کے علاقے نخچیوان ڈرون حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس واقعے سے مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ مزید پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔\n\nحکام کے مطابق حملے میں کم از کم چار ڈرون استعمال کیے گئے جو ایران سے میں داخل ہوئے۔ آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فوج نے ایک ڈرون کو تباہ کر دیا جبکہ دیگر ڈرونز شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔\n\nدوسری جانب ایران نے حملے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار آذربائیجان کے اتحادی اسرائیل کو قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات کا مقصد مسلم ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنا ہے۔\n\n* * *\n\n**رات 8 بج کر 20 منٹ: ’کوئی بھی اسرائیل کے لیے لڑنا نہیں چاہتا‘: سابق امریکی فوجی کا کانگریس میں احتجاج**\n\nایران جنگ پر امریکی کانگریس کے اجلاس کے دوران ایک سابق فوجی افسر نے احتجاج کرتے ہوئے کارروائی میں مداخلت کی، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں زبردستی گھسیٹ کر باہر نکال دیا۔\n\nاس دوران ہونے والی ہاتھا پائی میں ان کا بازو ٹوٹ گیا۔\n\n> ’اسرائیل کے لیے کوئی لڑنا نہیں چاہتا‘: سابق امریکی فوجی جنہیں سینیٹ کی آرمڈ فورسز سب کمیٹی سے گھسیٹ کر نکالا گیا#Independenturdu #Israel #US pic.twitter.com/uKG1tZipxu\n\n> — Independent Urdu (@indyurdu) March 5, 2026\n\nاحتجاج کرنے والے شخص کی شناخت سابق امریکی میرین برائن میگینِس کے طور پر ہوئی ہے۔ انہوں نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز سب کمیٹی کے اجلاس کے دوران نعرے لگائے کہ ’کوئی بھی اسرائیل کے لیے لڑنا نہیں چاہتا۔‘\n\nواقعے کی ویڈیو جنگ مخالف خواتین کے گروپ ’کوڈ پنک‘ نے سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکیورٹی اہلکار برائن میگینِس کو اجلاس سے باہر لے جا رہے ہیں۔\n\nبعد میں انہیں ٹوٹے ہوئے بازو کے ساتھ ایک راہداری میں دیوار کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا گیا جبکہ متعدد سکیورٹی اہلکار ان کے ارد گرد موجود تھے۔\n\nایک خاتون عینی شاہد کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں باہر نکالتے وقت پکڑ کر دروازے سے گزارنے کی کوشش کی جس دوران ان کا بازو دروازے میں پھنس کر ٹوٹ گیا۔ خاتون نے کہا کہ اہلکاروں نے انہیں زمین پر بھی گرا دیا اور صورت حال بہت کشیدہ ہو گئی تھی۔\n\n* * *\n\n**رات 7 بج کر 09 منٹ: ابوظبی میں ڈرونز کا ملبہ گرنے سے پاکستانی، نیپالی شہری زخمی: میڈیا آفس**\n\nابوظبی میں حکام نے جمعرات کو بتایا ہے کہ ان فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا جس کے نتیجے میں ملبہ گرنے سے چھ پاکستانی اور نیپالی شہری زخمی ہوئے ہیں۔\n\nابظبی میڈیا آفس نے ایکس پر بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی کیڈ 2 (ICAD-2) کے دو مقامات پر ڈرونز کا ملبہ گرا ہے۔\n\n> Abu Dhabi authorities have responded to an incident of debris falling in two locations in ICAD 2, following the successful interception of drones by air defence systems. The incident resulted in minor and moderate injuries to six Pakistani and Nepali nationals.\n>\n> The public is…\n\n> — مكتب أبوظبي الإعلامي (@ADMediaOffice) March 5, 2026\n\nبیان کے مطابق ملبہ گرنے سے چھ پاکستانی اور نیپالی شہریوں کو معمولی اور درمیانے درجے کی چوٹیں آئی ہیں۔\n\nمیڈیا آفس نے عوام سے کہا ہے کہ وہ معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔\n\n* * *\n\n**رات 7 بجے: تفتان بارڈر سے 37 سفارتکاروں سمیت 1979 افراد پاکستان داخل**\n\nوزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے جمعرات کو بتایا کہ ایران میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث تفتان بارڈر کے راستے پاکستان آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 37 سفارتکاروں سمیت مجموعی طور پر 1979 افراد پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں۔\n\n> ایران میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر حکومت بلوچستان کی تمام متعلقہ مشینری مکمل طور پر الرٹ اور متحرک ہے پاکستان، ایران سرحد کے راستے پاکستانی شہریوں سمیت غیر ملکیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جنہیں تفتان بارڈر پر ہر ممکن سہولیات اور ضروری معاونت فراہم کی جا رہی ہے اب تک تفتان…\n\n> — Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) March 5, 2026\n\nوزیر اعلیٰ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت بلوچستان کی تمام متعلقہ مشینری الرٹ ہے اور پاکستان، ایران سرحد کے راستے آنے والے پاکستانی شہریوں اور غیر ملکیوں کو تفتان بارڈر پر ضروری سہولیات اور معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔..\n\n* * *\n\n**شام 5 بج کر 20 منٹ: اب تک 1000 سے زیادہ ایرانی ڈورنز کو مار گرایا گیا: یو اے ای**\n\nمتحدہ عرب امارات نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے پانچ مارچ 2026 کو سات بیلسٹک میزائلوں میں سے چھ کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ ایک میزائل ملک کی حدود میں آ گرا۔\n\nوزارت دفاع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اسی دوران داغے گئے 131 ڈرونز میں سے 125 کو مار گرایا گیا جبکہ 6 ڈرون ملک کی حدود میں گرے۔\n\nبیان کے مطابق ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 196 بیلسٹک میزائل فضائی حدود میں داخل ہوئے جن میں سے 181 کو تباہ کر دیا گیا جبکہ 13 سمندر میں جا گرے اور دو میزائل ملک کی حدود میں گرے۔\n\nاسی طرح مجموعی طور پر 1072 ایرانی ڈرون شناخت کیے گئے جن میں سے 1001 کو مار گرایا گیا جبکہ 71 ڈرون ملک کے اندر گرے۔ مزید برآں آٹھ کروز میزائل بھی شناخت کیے گئے جنہیں تباہ کر دیا گیا۔\n\n* * *\n\n**سہ پہر 4 بج کر 40 منٹ: خطے میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کے لیے حکومتی اقدامات**\n\nدفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ خطے کی بدلتی صورت حال کے پیش نظر حکومت پاکستان نے ایران سے پاکستانی شہریوں کے انخلا اور بیرون ملک مختلف مقامات پر پھنسے پاکستانیوں کی مدد کے لیے پیشگی اقدامات کیے ہیں۔\n\nترجمان کے مطابق دفتر خارجہ کا کرائسز مینجمنٹ یونٹ 24 گھنٹے صورت حال کی نگرانی کر رہا ہے اور پاکستانی شہریوں کو ضروری معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔\n\nوزیراعظم کی ہدایات پر بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں خصوصی سہولت ڈیسک قائم کیے گئے ہیں، جہاں پھنسے پاکستانیوں کو ویزا سہولت، سفری انتظامات اور دیگر لاجسٹک مدد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ رجسٹریشن پورٹلز، خصوصی ایپس اور ہیلپ لائنز بھی شروع کی گئی ہیں۔\n\nدفتر خارجہ کے مطابق فضائی رابطے جزوی طور پر بحال ہونے کے بعد پھنسے پاکستانی کمرشل پروازوں کے ذریعے واپس اپنے مقامات پر جانا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حفاظت اور ان کی محفوظ واپسی کے لیے پرعزم ہے۔\n\nبیان کے مطابق وزیراعظم کی ہدایات پر بیرون ملک پاکستان کے سفارتی مشنز میں خصوصی سہولت ڈیسک قائم کیے گئے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو ویزا سہولت، لاجسٹک معاونت اور سفری انتظامات میں مدد فراہم کی جا سکے۔\n\nترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کے سفارتی مشنز نے بروقت رابطے اور مدد کی فراہمی کے لیے خصوصی ایپلی کیشنز، رجسٹریشن پورٹلز اور ہیلپ لائنز بھی شروع کی ہیں تاکہ پاکستانیوں کے لیے ضروری قونصلر سہولیات کو یقینی بنایا جا سکے۔\n\n* * *\n\n**دوپہر 3 بج کر 34 منٹ: وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، ایران سے پاکستانیوں کے انخلا پر غور**\n\nپاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت جمعرات کو اجلاس ہوا جس میں ایران سے پاکستانیوں کے انخلا اور خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی صورت حال پر غور کیا گیا۔\n\nوزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں ایران سے پاکستانیوں کے انخلا کے لیے برادر ملک آذربائیجان کی مدد کو سراہا گیا اور شرکا کو ایران سے پاکستانیوں کے انخلاء کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ ایران سے پاکستانی بحفاظت وطن واپس پہنچ رہے ہیں اور آذربائیجان میں پاکستانی سفارت خانہ پوری طرح متحرک ہے۔\n\nبریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر دفتر خارجہ اس ساری صورت حال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ ’اجلاس کو خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے پاکستانی سفارتخانوں کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔‘\n\nوزیراعظم نے ہدایت کی کہ خلیجی ممالک میں پاکستانی سفارت خانے پاکستانی شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ہر دم میسر رہیں۔\n\n* * *\n\n**دوپہر 1 بج کر 45 منٹ: ایران پر حملوں کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قراداد پیش، غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ**\n\nپنجاب اسمبلی میں جمعرات کو ایران پر اسرائیلی اور امریکی مشترکہ حملے کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کر دی گئی، جس میں فوری جنگ بندی اور حملوں کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔\n\nرکن صوبائی اسمبلی امتیاز محمود کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں کہا گیا کہ ’28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختار سرزمین پر فوجی حملے کیے جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔‘\n\nقرارداد کے مطابق یہ ایوان اس بات پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں رپورٹس کے مطابق 1000 سے زائد افراد جان سے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے جبکہ رہائشی علاقوں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔’خصوصاً جنوبی ایران کے شہر مینب میں ایک لڑکیوں کے سکول پر بمباری میں تقریباً 180 معصوم بچیوں کی شہادت ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے جو انسانی اور اخلاقی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔‘\n\nقرارداد میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے کئی افراد کی موت کو ’نہایت افسوس ناک‘ اور ’قابلِ مذمت واقعہ‘ قرار دیا۔\n\nقرارداد میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے اور مینب کے سکول پر حملے سمیت شہری تنصیبات پر حملوں کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کروائی جائیں۔\n\n## WhatsApp Image 2026-03-05 at 1.13.40 PM.jpeg\n\n* * *\n\n**دوپہر 1 بجے: ایران کا عراق میں موجود علیحدگی پسند کرد چھاپہ ماروں پر حملہ**\n\nاے ایف پی کے مطابق جمعرات کو ایران نے عراق میں کرد چھاپہ ماروں کو نشانہ بنایا، جب کہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیلتی جنگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔\n\nجمعرات کو تہران نے کہا کہ اس نے عراق میں موجود کرد گروہوں پر حملہ کیا ہے، جب کہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ ایرانی کرد چھاپہ مار عسکریت پسندوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ ایران میں داخل ہو سکیں۔\n\nایرانی حملوں میں جلا وطن ایرانی کرد گروہ کے ایک رکن جان سے گئے۔\n\nایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا: ’علیحدگی پسند گروہوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہوا کا رخ بدل گیا ہے اور وہ کارروائی کی کوشش کریں۔\n\n’ہم انہیں کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے۔‘\n\nیہ حملے اس بات کا مزید ثبوت تھے کہ یہ جنگ خطے بھر کی مختلف قوتوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، بلکہ اس سے بھی دور کے فریق اس میں شامل ہو رہے ہیں۔\n\n* * *\n\n**دن 12 بج کر 45 منٹ: بندرگاہوں کی عارضی بندش کی خبریں ’جعلی‘ ہیں: پاکستانی وزارت اطلاعات**\n\nپاکستانی وزارت اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیکر نے سوشل میڈیا پر پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیر گردش نوٹیفیکیشن کو جعلی قرار دیا ہے۔\n\nفیکٹ چیکر وزارت اطلاعات کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش جعلی نوٹیفیکیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ سکیورٹی صورت حال کے باعث پاکستان میں تمام بندرگاہوں کے داخلی راستوں کو 10 مارچ 2026 تک عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔\n\nتاہم ’مذکورہ نوٹیفکیشن من گھڑت ہے۔‘\n\nمزید کہا گیا کہ اس حوالے سے کابینہ ڈویژن یا وزارتِ بحری امور کی جانب سے کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔\n\n## Screenshot 2026-03-05 124543.jpg\n\n* * *\n\n**دن 12 بج کر 30 منٹ: ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر مزید حملے**\n\nخبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران نے جمعرات کی صبح اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے تہران پر’بڑے پیمانے کے‘ حملے کا آغاز کر دیا ہے۔\n\nاسرائیل نے اپنی جانب آنے والے متعدد میزائل حملوں کا اعلان کیا اور تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں فضائی حملے سائرن بجنے لگے۔\n\nدوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ مزید حملوں میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔\n\nاسرائیلی فوج نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ اس نے لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کو ہدف بناتے ہوئے حملے کیے اور ایران کے دارالحکومت تہران میں ’بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی ایک بڑی لہر‘ شروع کر دی ہے۔\n\nاسرائیل کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد تہران میں متعدد مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**صبح 11 بج کر 30 منٹ: ایرانی بحری جہاز پر حملہ: امریکہ اپنی قائم کردہ مثال پر بچھتائے گا، ایران**\n\nایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا ہے کہ سری لنکا کے ساحل کے قریب امریکی آبدوز کی جانب سے ایک ایرانی جنگی جہاز کو غرق کرنے کے بعد امریکہ ’اس قائم کردہ مثال پر سخت پچھتائے گا۔‘\n\nعباس عراقچی کا یہ تبصرہ بحر ہند میں آئی آر آئی ایس دینا نامی جہاز کے غرق ہونے کا ایرانی حکومت کی جانب سے پہلا اعتراف ہے۔\n\nانہوں نے ایکس پر بیان میں کہا کہ ’امریکہ نے ایران کے ساحلوں سے دو ہزار میل دور سمندر میں ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔‘\n\nانہوں نے لکھا: ’انڈیا کی بحریہ کے مہمان جنگی جہاز دینا کو، جس پر تقریباً 130 ملاح سوار تھے، بین الاقوامی پانیوں میں بغیر کسی انتباہ کے نشانہ بنایا گیا۔ میری بات یاد رکھیں امریکہ اپنی قائم کردہ اس مثال پر سخت پچھتائے گا۔‘\n\n## Screenshot 2026-03-05 130455.jpg\n\n* * *\n\n**صبح 8 بجے: امریکی حمایت سے ایران کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں: ایران مخالف کرد**\n\nعراق کے شمالی حصے میں قائم ایران مخالف کرد گروہ کے حکام نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے اندر ممکنہ سرحد پار فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں، اور امریکی حکام نے عراقی کردوں سے کہا ہے کہ وہ ان کی حمایت کریں۔\n\nاے پی کے مطابق کرد گروہوں کو بکھری ہوئی ایرانی اپوزیشن کا سب سے منظم حصہ سمجھا جاتا ہے اور خیال ہے کہ ان کے پاس ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو موجود ہیں۔ اگر وہ جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو یہ تہران میں مشکلات کا شکار حکام کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے اور اس سے عراق کے اس تنازعے میں شامل ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔\n\nشمالی عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں قائم کردستان آزادی پارٹی (پی اے کے) کے ایک عہدیدار خلیل ندیری نے بدھ کو کہا کہ ان کی کچھ فورسز صوبہ سلیمانیہ میں ایرانی سرحد کے قریب علاقوں میں منتقل ہو چکی ہیں اور تیار حالت میں ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ کرد اپوزیشن گروہوں کے رہنماؤں سے ممکنہ کارروائی کے حوالے سے امریکی حکام نے رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔\n\nامریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے جب بدھ کو رپورٹرز نے یہ سوال کیا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ ایرانی کرد گروہوں کو ہتھیار دینے پر غور کر رہی ہے، تو انہوں نے کہا تھا: ’ہمارے مقاصد کسی خاص فورس کی حمایت یا اسے مسلح کرنے پر مبنی نہیں ہیں۔ دوسرے فریق کیا کر رہے ہیں، اس سے ہم آگاہ ہیں، لیکن ہمارے مقاصد اس کے گرد نہیں گھومتے۔‘\n\n28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے پہلے، جن سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ شروع ہوئی، پی اے کے نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تہران کی جانب سے احتجاجی مظاہروں پر سخت کریک ڈاؤن کے جواب میں نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب پر حملے کیے ہیں۔ تاہم گروہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ انہوں نے عراق سے ایران کے اندر کوئی فورس نہیں بھیجی۔\n\nاے پی کے مطابق اگر ایرانی اور عراقی کرد گروہ اس جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو یہ اس تنازعے میں کسی بڑی زمینی فوج کی پہلی شمولیت ہوگی۔ کرد جنگجو پہلے بھی شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف جنگ میں لڑائی کا تجربہ رکھتے ہیں۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nایک اور ایرانی کرد گروہ کوملہ کے ایک عہدیدار نے نے سکیورٹی خدشات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بدھ کو کہا کہ ان کی فورسز ایک سے دس دن کے اندر سرحد عبور کرنے کے لیے تیار ہیں اور ’موزوں حالات کا انتظار کر رہی ہیں۔‘\n\nایران میں کردوں کی شکایات اور بغاوتوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، جو موجودہ اسلامی جمہوریہ اور اس سے پہلے کی بادشاہت دونوں کے خلاف رہی ہیں۔ شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں کردوں کو دیوار سے لگایا گیا اور ان پر دباؤ ڈالا گیا، جس کے نتیجے میں بعض اوقات بغاوتیں بھی ہوئیں۔\n\nسن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والی مذہبی حکومت نے بھی کرد باغیوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ ان لڑائیوں کے دوران ایرانی افواج نے کرد قصبوں اور دیہات کو تباہ کیا اور چند ماہ میں ہزاروں افراد مارے گئے۔\n\nاگرچہ کرد گروہ موجودہ حکومت کو ہٹانے کی خواہش میں ایک دوسرے سے متفق ہیں، لیکن ان کے دیگر اپوزیشن گروہوں سے اختلافات بھی رہے ہیں، خاص طور پر سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے دھڑے سے، جنہوں نے کردوں پر ایران کو تقسیم کرنے کے ارادے کا الزام لگایا ہے۔\n\n**عراقی کرد جنگ میں شامل ہونے پر ہچکچاہٹ کا شکار**\n\nممکنہ کارروائی نے عراق کے کرد خطے کی قیادت کو ایک نازک صورت حال میں ڈال دیا ہے۔\n\nتین عراقی کرد عہدیداروں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اتوار کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مسعود بارزانی اور بافل طالبانی کے درمیان فون پر بات ہوئی۔ یہ دونوں بالترتیب کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سربراہ ہیں۔ گفتگو میں ایران کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایک عہدیدار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی کردوں سے کہا کہ وہ ایران میں کارروائیوں کے دوران ایرانی کرد گروہوں کی فوجی مدد کریں اور سرحد کھول دیں تاکہ وہ باآسانی آ جا سکیں۔\n\nتاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ٹرمپ نے کرد رہنماؤں سے شمالی عراق میں موجود امریکی فوجی اڈے کے حوالے سے بات کی تھی، لیکن کسی مخصوص منصوبے پر اتفاق کی تردید کی۔\n\nعراقی کرد عہدیدار کے مطابق کرد قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر وہ براہِ راست جنگ میں شامل ہوئے تو ایران سخت ردعمل دے سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران اور اس کے اتحادی عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کی ایک لہر دیکھی گئی ہے جن کا ہدف امریکی فوجی اڈے، اربیل میں امریکی قونصل خانہ اور کرد گروہوں کے اڈے رہے ہیں۔\n\nاگرچہ زیادہ تر حملے روک لیے گئے، لیکن شہریوں کے گھروں کو نقصان پہنچا اور سکیورٹی خدشات کے باعث ایک اہم گیس فیلڈ کی بندش کے بعد علاقے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔\n\nاپنے بیان میں پیٹریاٹک یونین آف کردستان نے تصدیق کی کہ بافل طالبانی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی، جنہوں نے ’جنگ میں امریکہ کے مقاصد کے بارے میں وضاحت اور وژن فراہم کیا۔‘ بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کا خیال ہے کہ بہترین حل مذاکرات کی میز پر واپسی ہے۔\n\nعراق کی کرد علاقائی حکومت اور مسعود بارزانی کے ترجمانوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔\n\n**عراق کی سرحد بند کرنے کی کوشش**\n\nشمالی عراق میں مسلح ایرانی کرد گروہوں کی موجودگی بغداد کی مرکزی حکومت اور تہران کے درمیان کشیدگی کا باعث رہی ہے۔\n\nسن 2023 میں عراق نے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت ان گروہوں کو غیر مسلح کر کے سرحدی علاقوں سے ہٹا کر بغداد کی جانب سے مقرر کردہ کیمپوں میں منتقل کیا جانا تھا۔\n\nاگرچہ ان کے فوجی اڈے بند کر دیے گئے اور عراق کے اندر ان کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی، لیکن گروہوں نے اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے۔\n\nعراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے فون پر درخواست کی کہ عراق دونوں ممالک کی سرحد پر کسی بھی اپوزیشن گروہ کو داخل ہونے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔\n\nانہوں نے کہا کہ عراق اس بات کا پابند ہے کہ ’کسی بھی گروہ کو ایرانی سرحد عبور کرنے یا عراقی سرزمین سے دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی اجازت نہ دی جائے‘ اور بتایا کہ سرحد پر مزید سکیورٹی دستے بھیجے جا چکے ہیں۔\n\nاے پی کے مطابق ایران کے ممکنہ ردعمل کے علاوہ، اگر عراقی کرد سرحد پار حملوں میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے، جو حالیہ دنوں میں اربیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہیں۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**صبح 7 بجے: کویت کے قریب ٹینکر پر دھماکہ، عملہ محفوظ یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز**\n\nبرطانیہ کی یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے جمعرات کو کہا ہے کہکویت کے ساحل پر لنگر انداز ایک ٹینکر نے اطلاع دی ہے کہ اس کے بائیں حصے پر ایک بڑا دھماکا دیکھا گیا اور جہاز میں پانی داخل ہو رہا ہے۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دھماکے کے بعد ایک چھوٹی کشتی کو علاقے سے نکلتے ہوئے دیکھا۔ یہ دھماکا خلیج میں کویت کی مبارک الکبیر بندرگاہ سے جنوب مشرق میں 56 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا۔\n\nادارے نے ایک ایڈوائزری نوٹ میں کہا: ’کارگو ٹینک سے تیل پانی میں آ رہا ہے جس کے کچھ ماحولیاتی اثرات ہو سکتے ہیں، جہاز میں پانی داخل ہو گیا ہے، کسی آتشزدگی کی اطلاع نہیں ہے اور عملہ محفوظ ہے۔‘\n\nبعد ازاں کویت کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ ملک کی علاقائی حدود سے باہر پیش آیا، جو مبارک الکبیر بندرگاہ سے کم از کم 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**صبح 6 بج کر 30 منٹ: امریکی حملے کا شکار ایرانی جہاز سے 87 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں: سری لنکن بحریہ**\n\nسری لنکا کی بحریہ نے بدھ کو بتایا کہ سری لنکا کے ساحل کے قریب امریکی آبدوز سے داغے گئے ٹارپیڈو کی وجہ سے ڈوبنے والے ایک ایرانی جنگی جہاز میں سوار 87 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں اور 32 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔\n\nامریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ بحرِ ہند میں ڈوبنے والا ایرانی جہاز اسلامی جمہوریہ کا ’قیمتی جنگی جہاز‘ تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ چند مواقع میں سے ایک ہے جب کسی آبدوز نے کسی جہاز کو ڈبویا ہے۔\n\n’آئی آر آئی ایس دینا‘ نامی جہاز کی تباہی اس امریکی۔اسرائیلی فوجی کارروائی کو ظاہر کرتی ہے جو ایران کے خلاف اس کی سرحدوں سے باہر تک پھیل رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ جنگ کے اہم مقاصد میں سے ایک ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔\n\nپیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ایک بریفنگ کے دوران کہا: ’ایک امریکی آبدوز نے ایک ایرانی جنگی جہاز کو ڈبو دیا جو سمجھ رہا تھا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ ہے۔‘ انہوں نے کہا: ’لیکن اسے ایک ٹارپیڈو نے ڈبو دیا۔‘\n\nسری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمان کو بتایا کہ جب سری لنکا کی بحریہ کو آئی آر آئی ایس دینا سے مدد کا سگنل ملا، جس پر 180 افراد سوار تھے، تو اس نے امدادی کارروائی کے لیے جہاز اور طیارے روانہ کیے۔\n\nامریکی محکمہ دفاع کی جانب سے 4 مارچ 2026 کو جاری کی گئی ایک ویڈیو سے لیا گیا سکرین گریب جس میں ایرانی بحری جہاز کو حملے کے بعد ڈوبتے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی/ امریکہ محکمہ دفاع)\n\n\n\n\nتاہم بحریہ کے ترجمان کمانڈر بدھیکا سمپتھ نے کہا کہ جب سری لنکا کی بحریہ موقع پر پہنچی تو جہاز کا کوئی نشان نہیں تھا، ’صرف تیل کے کچھ دھبے اور لائف رافٹس نظر آ رہے تھے۔ ہم نے لوگوں کو پانی میں تیرتے ہوئے پایا۔‘\n\nامریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ایکس پر جاری کی گئی ویڈیو میں ٹارپیڈو حملے کا لمحہ دکھایا گیا ہے۔ اس میں ایرانی جہاز کو زیرِ آب دھماکے سے نشانہ بنتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس سے وہ ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے اور پانی کا ایک بڑا فوارہ ہوا میں بلند ہو جاتا ہے۔\n\nبدھیکا سمپتھ کے مطابق بچائے گئے 32 افراد کو سری لنکا کے جنوبی ساحل پر واقع شہر گال کے ایک ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نکالی گئی لاشوں کو بھی خشکی پر لایا جا رہا ہے۔\n\nگال کے نیشنل ہسپتال میں ایرانی ملاحوں کی لاشیں ٹرکوں میں پہنچائی جا رہی تھیں اور انہیں ایک عارضی مردہ خانے میں رکھا جا رہا تھا۔ ہسپتال کے اطراف سری لنکن پولیس اور بحریہ کے اہلکار تعینات تھے۔\n\nوزارتِ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر انیل جَسنگھے نے کہا کہ بچائے گئے افراد میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے، سات کو ہنگامی طبی امداد دی جا رہی ہے جبکہ دیگر کو معمولی زخمی ہونے پر علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔\n\nآئی آر آئی ایس دینا، جو ایران کے جدید ترین جنگی جہازوں میں سے ایک تھا، گہرے سمندری پانیوں میں گشت کرتا تھا اور اس پر بھاری توپیں، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، جہاز شکن میزائل اور ٹارپیڈوز نصب تھے۔ اس پر ایک ہیلی کاپٹر بھی موجود تھا۔\n\nفروری 2023 میں امریکی محکمہ خزانہ نے اس جہاز پر پابندیاں عائد کی تھیں، ساتھ ہی ایک ایرانی ڈرون بنانے والی کمپنی کے آٹھ اعلیٰ عہدیداروں پر بھی پابندیاں لگائی گئی تھیں جو یوکرین میں شہری اہداف کے خلاف استعمال کے لیے روس کو ہتھیار فراہم کرتی تھی۔\n\nامریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق اس جنگ کے دوران اب تک کم از کم 17 ایرانی بحری جہاز ڈبوئے جا چکے ہیں۔\n\nایران\n\nاسرائیل\n\nامریکہ\n\nایران کا کہنا ہے کہ اس نے جمعرات کی صبح اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے جبکہ اسرائیل کے بھی تہران پر حملے جاری ہیں۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, مارچ 5, 2026 - 21:45\n\nMain image:\n\n> <p>پانچ مارچ 2026 کو آذربائیجان کے علاقے نخچیوان ڈرون حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے (روئٹرز)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\n8r3OIeay\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nایران کی جانب سے فائر کی جانے والی ہر چیز نہیں روک سکتے: امریکی وزیر دفاع\n\nایران پر حملہ: صدر ٹرمپ کے خلاف کانگریس اور عوام میں مخالفت شدت اختیار کر گئی\n\nایران میں اس وقت انچارج کون ہے، نیا سپریم لیڈر کون ہوسکتا ہے؟\n\n’ہم نے میزائل آتے جاتے دیکھے‘: ایران سے واپس لوٹنے والے پاکستانی\n\nSEO Title:\n\nآذربائیجان کا جوابی کارروائی کا عندیہ، ایران نے ڈرون حملہ اسرائیلی سازش قرار دے دی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "آذربائیجان کا جوابی کارروائی کا عندیہ، ایران نے ڈرون حملہ اسرائیلی سازش قرار دے دی"
}