{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicdwuywj6bkbrr66rrgaumltbiptkfwj6zda6l52efjcus5ioar44",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgdqa6bhdlg2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigchmjvxgnhddgkuadcl4vkjpok5tlegviek77b6r64dvc75kp2vm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 67322
  },
  "path": "/node/184928",
  "publishedAt": "2026-03-05T08:49:38.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران پر امریکی حملہ",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "امریکی سینیٹ",
    "روئٹرز",
    "امریکہ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امریکی سینیٹ میں رپبلکن پارٹی کے ارکان نے بدھ کو ایران کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی مہم کی حمایت کرتے ہوئے ایک ایسی دو فریقی قرارداد کو روکنے کے لیے ووٹ دیا جس کا مقصد ایران کے خلاف فضائی جنگ کو روکنا اور یہ لازمی قرار دینا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری لی جائے۔**\n\nسینیٹ نے قرارداد کو آگے نہ بڑھانے کے حق میں 53 کے مقابلے میں 47 ووٹ دیے، جو بڑی حد تک جماعتی بنیادوں پر تھے۔ ایک رپبلکن رکن کے سوا سب نے اس طریقہ کار کی تحریک کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ ایک کے سوا تمام ڈیموکریٹس نے اس کی حمایت کی۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی افواج کی بار بار تعیناتی کو لگام دینے کے لیے ڈیموکریٹس اور چند رپبلکنز کی اس تازہ ترین کوشش، یعنی وار پاورز ریزولوشن (جنگی اختیارات کی قرارداد) کو اس کے حامیوں نے جنگ کا اعلان کرنے کی کانگریس کی ذمہ داری واپس لینے کی کوشش قرار دیا۔\n\nمخالفین نے اسے مسترد کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ ٹرمپ کا اقدام قانونی ہے اور محدود حملوں کا حکم دے کر امریکہ کا دفاع کرنا کمانڈر انچیف کے طور پر ان کا حق ہے۔ انہوں نے قرارداد کے حامیوں پر امریکی افواج کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا۔\n\nسینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین اور ایڈاہو سے رپبلکن سینیٹر جم رِش نے قرارداد کے خلاف اپنی تقریر میں کہا: ’یہ کوئی ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ نہیں ہے، اور حقیقت میں اس کے قریب بھی نہیں ہے۔ یہ بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔‘\n\nاس اقدام کی کامیابی کی توقع نہیں تھی۔ ٹرمپ کے ساتھی رپبلکن کو سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے، اور وہ اس سے قبل بھی ان کے جنگی اختیارات کو کم کرنے کی قراردادوں کو روک چکے ہیں۔\n\nقرارداد کے حامیوں کا کہنا تھا کہ وہ ہار نہیں مانیں گے، اور یہاں تک کہ اسے روکنے کے لیے ووٹ دینے والے کچھ ریپبلکنز نے بھی کہا کہ وہ انتظامیہ کی ایران سے متعلق حکمت عملی پر ٹرمپ کے معاونین سے عوامی سطح پر گواہی دینے پر زور دیں گے، خاص طور پر اگر یہ تنازع ہفتوں تک جاری رہتا ہے، جیسا کہ ٹرمپ نے پیش گوئی کی ہے۔\n\nمشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کی جانب سے فوجی اثاثوں میں اضافے، اور ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بارے میں ہونے والی بحث اس بات پر مرکوز رہی ہے کہ آیا ٹرمپ ملک کو عراق اور افغانستان کے طویل تنازعات کی طرح ایک اور ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ‘ میں دھکیل رہے ہیں۔\n\nقرارداد کے شریک حامی اور نیویارک سے ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا، ’آج سینیٹرز کے سامنے دو راستے ہیں، یا تو وہ ان امریکی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں جو مشرق وسطیٰ میں جنگ سے تنگ آ چکے ہیں، یا پھر ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ دیں، جنہوں نے امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس کی زیادہ تر امریکی سخت مخالفت کرتے ہیں۔‘\n\nنومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کا کنٹرول ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کے پاس جانے کے پیش نظر، ایران کی طویل جنگ ووٹرز کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ منگل کو جاری ہونے والے رائٹرز/اپسوس کے ایک پول سے ظاہر ہوا کہ چار میں سے صرف ایک امریکی نے ایران پر امریکی حملوں کی منظوری دی اور تقریباً آدھے لوگوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے بہت زیادہ تیار رہتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایران مہم کے علاوہ، امریکی افواج ستمبر سے جنوبی کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں کشتیوں پر فائرنگ کر رہی ہیں جسے انتظامیہ وینزویلا کی منشیات کی سمگلنگ کو روکنے کی کوشش قرار دیتی ہے۔ ٹرمپ نے جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے بھی وہاں فوج بھیجی تھی۔\n\nایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پہلے ہی ایران، اسرائیل اور پورے مشرق وسطیٰ میں تباہی کا باعث بن چکی ہے، اور اس میں امریکی جانی نقصان بھی ہوا ہے۔\n\nقرارداد کی حمایت پر زور دیتے ہوئے ایک تقریر میں اس کے مرکزی حامی اور ورجینیا سے ڈیموکریٹک سینیٹر ٹم کین نے کہا: ’یہ ایک جنگ ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ انہوں نے منگل کو قانون سازوں کے لیے ایک خفیہ بریفنگ کے دوران ٹرمپ کے حکام سے اپیل کی تھی کہ وہ جنگ کی منظوری کے لیے کانگریس میں آئیں۔ کین نے کہا: ’ہماری منظوری کے بغیر فوجی کارروائی کے آپ کے بڑھتے ہوئے رجحان سے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ کا ماننا ہے کہ آپ کو کہیں بھی، کسی کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے کانگریس میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘\n\nایوان کی جانب سے جمعرات کو ایران کے حوالے سے جنگی اختیارات کی ایسی ہی ایک قرارداد پر ووٹنگ متوقع ہے۔\n\nمنگل کو لوزیانا سے تعلق رکھنے والے رپبلکن ہاؤس سپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ ان کے خیال میں ایوان میں قرارداد کو شکست دینے کے لیے کافی ووٹ موجود ہیں۔ انہوں نے اسے ایک ایسی چیز کو مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا جو امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور ایرانی افواج کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتی ہے۔\n\nانتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ایران تنازع پر خفیہ بریفنگ کے بعد انہوں نے صحافیوں کو بتایا: ’ایک ایسی صورت حال کا تصور کریں جہاں کانگریس ووٹ دے کر کمانڈر انچیف کو یہ بتائے کہ انہیں مزید اس مشن کو مکمل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ایک بہت خطرناک بات ہو گی۔‘\n\nیہاں تک کہ اگر کوئی قرارداد سینیٹ اور ایوان دونوں سے منظور ہو بھی جاتی ہے، تو وہ اس وقت تک نافذ العمل نہیں ہو گی جب تک کہ اسے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہو تاکہ وہ ٹرمپ کے متوقع ویٹو سے بچ سکے۔\n\nایران پر امریکی حملہ\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nامریکی سینیٹ\n\nسینیٹ کی اکثریت نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ ٹرمپ کا اقدام قانونی ہے اور محدود حملوں کا حکم دے کر امریکہ کا دفاع کرنا کمانڈر انچیف کے طور پر ان کا حق ہے۔\n\nروئٹرز\n\nجمعرات, مارچ 5, 2026 - 13:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی سینیٹر چپ روئے چار مارچ 2026 کو امریکی کیپیٹل کی عمارت کے سامنے (اے ایف پی)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران پر حملہ: صدر ٹرمپ کے خلاف کانگریس اور عوام میں مخالفت شدت اختیار کر گئی\n\nآذربائیجان کا جوابی کارروائی کا عندیہ، ایران نے ڈرون حملہ اسرائیلی سازش قرار دے دی\n\nامریکہ نے ایران پر حملے کے لیے ایرانی ڈرون ہی کاپی کر لیا\n\nامریکہ، اسرائیل حملے کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، آبنائے ہرمز میں جہازوں کا داخلہ بند\n\nSEO Title:\n\nامریکی سینیٹ میں ایران پر حملہ روکنے کی قرارداد ناکام\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "امریکی سینیٹ میں ایران پر حملہ روکنے کی قرارداد ناکام"
}