{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreih56qq4ls24itnhd5inobgoxskei76qhzqudf62scaesbf3fgdrwe",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgdq7u7r76d2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigpnyargq3bh47wukvnavwgkoc633hgrcwgflpcttcfqjxkss6zou"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 55049
},
"path": "/node/184931",
"publishedAt": "2026-03-05T10:35:58.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ہیکرز",
"ہیکنگ",
"سائبر حملہ",
"سائبر دنیا",
"کاشون لیزہ",
"ٹیکنالوجی",
"video"
],
"textContent": "**اتوار یکم مارچ کو پاکستان کے سرکاری سیٹلائٹ پاک سیٹ (PAKSAT) پر ایک سائبر حملہ رپورٹ ہوا۔ ہیکرز نے دو بڑے پاکستانی نیوز چینلز کی لائیو نشریات میں خلل ڈال کر فوج مخالف پیغامات نشر کیے۔**\n\nاس واقعے کے اگلے ہی روز انڈین نیوز نیٹ ورک اے بی پی چینل کی نشریات ہیک کر کے پاکستان فوج کے حق میں ویڈیوز نشر کر دی گئیں۔ اسی دوران اسرائیلی میڈیا کے کچھ چینلز بھی ہیک کیے گئے جہاں فلسطین کے حق میں پیغامات چلائے گئے۔\n\nاگرچہ پاکستان حکومت نے پاک سیٹ پر ہونے والے سائبر حملے کی باضابطہ تکنیکی ذمہ داری کسی پر عائد نہیں کی، تاہم ہیکرز کے نشر کیے گئے پیغامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کارروائی جغرافیائی و سیاسی محرکات سے جڑی ہو سکتی ہے۔\n\nنیوز چینلز کی ہیکنگ کو محض ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے جاری مشرقِ وسطیٰ بحران کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جدید جنگی حکمت عملی میں سائبر آپریشنز کو عسکری منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جا چکا ہے اور انہیں اکثر فورس ملٹی پلائر کہا جاتا ہے، یعنی ایسی صلاحیت جو روایتی فوجی کارروائیوں کی اثر پذیری کو بڑھا دیتی ہے۔\n\n28 فروری کو اسرائیلی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بڑا مربوط سائبر حملہ کیا، جس میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس (DDoS) حملے اور حساس نظاموں میں گہری دراندازی شامل تھی۔\n\nپاس ورڈ احتیاط سے منتخب نہ کیا جائے تو ہیکرز کے لیے آسانی ہو جاتی ہے (پکسا بے)\n\n\n\n\nجنگ کے دوران کسی بھی ملک کے مواصلاتی نظام یا کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو متاثر کرنے کا ایک واضح مقصد یہ ہوتا ہے کہ دشمن کی جوابی کارروائی کو یا تو تاخیر کا شکار کر دیا جائے یا اسے مکمل طور پر متاثر کر دیا جائے۔\n\nدلچسپ بات یہ ہے کہ ایران میں ابتدائی دھماکوں کے فوراً بعد شہریوں کو موبائل فون پر ایک ہیک شدہ نماز کے اوقات بتانے والی ایپ کے ذریعے ہنگامی نوعیت کے مشاورتی پیغامات بھی موصول ہوئے۔\n\n**تنازعات میں سائبر کردار کیا ہے؟**\n\nیہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ دنیا کے کئی ممالک، خاص طور پر بڑی طاقتیں، سائبر آپریشنز کو اپنی فوجی حکمت عملی اور دفاعی نظریے کا حصہ بنا چکی ہیں۔ جنگ کے دوران سائبر صلاحیتیں ایک فورس ملٹی پلائر کے طور پر کام کرتی ہیں اور روایتی یا عسکری کارروائیوں کی تکمیل کرتی ہیں۔\n\nروس اور یوکرین کی جنگ کو اکثر پہلی ایسی بڑی جنگ قرار دیا جاتا ہے جہاں سائبر حملوں کا وسیع پیمانے پر استعمال دیکھا گیا۔\n\nسائبر آپریشنز کی افادیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کئی بڑی طاقتیں یہ سمجھتی ہیں کہ امن کے زمانے میں بھی وہ براہِ راست فوجی طاقت استعمال کیے بغیر سائبر دراندازی کے ذریعے اپنے قومی سلامتی کے مفادات حاصل کر سکتی ہیں۔\n\nاس کی ایک نمایاں مثال 2010 میں سامنے آنے والا سٹکس نیٹ (Stuxnet) حملہ ہے، جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس سائبر حملے کے ذریعے بغیر کوئی گولی چلائے ایران کی یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز کی رفتار کو سست کر دیا گیا تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**مستقبل کی جنگیں اور سائبر ہتھیار**\n\nماہرین کے مطابق آنے والے تنازعات میں جدید اور پیچیدہ سائبر صلاحیتوں کا استعمال مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری سمجھا جاتا ہے کہ تنازعے میں شامل ریاستیں اقوام متحدہ کی جانب سے طے کردہ سائبر سپیس میں ذمہ دار ریاستی رویے کے 11 اصولوں کی پابندی کریں۔\n\nنماز کے اوقات بتانے والی ایپ کی ہیکنگ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ سائبر سکیورٹی صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی ایک سنجیدہ معاملہ بن چکا ہے۔\n\nاسی لیے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انفرادی سطح پر بھی ڈیٹا کے تحفظ اور محفوظ سائبر عادات اپنانا نہایت ضروری ہے تاکہ ممکنہ سائبر خطرات سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔\n\nہیکرز\n\nہیکنگ\n\nسائبر حملہ\n\nسائبر دنیا\n\nپاکستان کے سرکاری سیٹلائٹ پر حملہ کر کے دو نجی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات میں خلل ڈالا گیا۔\n\nکاشون لیزہ\n\nجمعرات, مارچ 5, 2026 - 17:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">19 فروری 2024 کی تصویر میں سائبر اٹیک کے الفاظ کے سامنے کمپیوٹر اور سمارٹ فونز کے خاکے دکھائی دے رہے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\njw id:\n\nUm2i91oW\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nہیکروں کی جدید تکنیک سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟\n\nشمالی کوریا کے ہیکرز نے تاریخ کی سب سے بڑی چوری کیسے کی؟\n\nچینی ہیکرز نے ٹرمپ کے فون ڈیٹا کو نشانہ بنایا: رپورٹ\n\nہیکرز نے بائینانس اکاؤنٹ سے لاکھوں ڈالر چرا لیے\n\nSEO Title:\n\nمشرق وسطیٰ کشیدگی کے تناظر میں سائبر حملوں کی نئی لہر\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "مشرق وسطیٰ کشیدگی کے تناظر میں سائبر حملوں کی نئی لہر"
}