{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicf4chtzl5xy4dojdf23xnyzrw2j4kuzzo6qbxm5c6eec5pjuteua",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgdq7qklbbg2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreieckyua3mmuhsbyau6cuszyr7ff3d6vqsxxd3ye7qlh74xdao3mki"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 162861
  },
  "path": "/node/184932",
  "publishedAt": "2026-03-05T14:25:57.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "پارلیمنٹ",
    "بل",
    "چیئرمین نیب",
    "مدت ملازمت میں توسیع کیس",
    "قرۃ العین شیرازی",
    "video"
  ],
  "textContent": "پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) اور ایوان زیریں (قومی اسمبلی) نے جمعرات کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کا بل منظور کر لیا ہے۔\n\nترمیمی بل کے مسودے، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، کے مطابق چیئرمین نیب کی مدت میں تین سال کی توسیع ہو سکے گی۔ جبکہ نیب کی عدالت یا ہائی کورٹ کے پاس ضمانت دینے یا رہا کرنے کا اختیار ہوگا۔\n\nترمیمی بل کے تحت ملزم ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف 30 روز کے اندر وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کر سکے گا۔\n\nیہ بل پہلے سینیٹ میں سینیٹر عبدالقادر نے پیش کیا، حکومت نے اس میں ترامیم تجویز کیں جس کے بعد اسے سینیٹ سے منظور کیا گیا۔ بعد ازاں اس ترمیمی بل کو قومی اسمبلی سے بھی منظور کیا گیا۔\n\nسینیٹ اجلاس کی کارروائی کے دوران سینیٹر عبدالقادر جب اسے نجی بل کے طور پر پیش کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا۔\n\nجمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بل نہ ایجنڈا میں ہے اور نہ ہی اسے ضمنی ایجنڈا کے طور پر لایا گیا۔ جبکہ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ ترمیم حکومت اور ان کے اتحادیوں کے فائدے میں نہیں۔\n\nانہوں نے کہا:’یہ قانون آگے جا کر آپ کو کاٹے گا، یہ قانون سازی صرف ایک شخص عمران خان کے لیے کی جا رہی ہے۔‘\n\nعلی ظفر نے کہا کہ ’عمران خان کے کیسز کے فیصلے ہو چکے ہیں اور اپیل ہائی کورٹ میں لگ رہی ہے، جس کے بعد یہ سپریم کورٹ جانا تھی۔ اب یہ کر رہے ہیں کہ نیب کی اپیل سپریم کورٹ کے بجائے آئینی کورٹ جائے، اس کی وجہ لگ رہی ہے کہ سپریم کورٹ حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے انصاف کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ آپ کرمنل کیس آئینی عدالت لے جا رہے ہیں۔ آپ ایسی عدالت میں کیس لے جا رہے ہیں جو حکومت کے کنٹرول میں ہو۔\n\nعلی ظفر نے کہا کہ نیب کا چیئرمین وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے بنتا ہے۔ اب آپ یہ کر رہے ہیں کہ نیب چیئرمین کو توسیع دے دیں۔ آپ ایسا کریں کہ جن سب عہدوں کو توسیع دینی ہے ان عہدوں کو تاحیات قرار دے دیں۔\n\nسینیٹ میں لیڈر آف ہاؤس اسحاق ڈار نے کہا کہ ’ماضی یاد کریں تو 50 سے زیادہ قانون سازی پی ٹی آئی نے جلد بازی میں کی تھی۔ نیب والا پرائیویٹ ممبر بل ہے، اسے کسی نے پڑھا تک نہیں ہے۔ اگر نیب ترمیمی بل میں پی ٹی آئی کو مسئلہ ہے تو یہ بھی اس میں پرائیویٹ ڈے پر ترمیم لے آئیں۔‘\n\nکامران مرتضیٰ نے کہا: ’اب جو ہوگا وہ انصاف کے منافی ہوگا۔ موجودہ چیئرمین چند روز میں فارغ ہونے والے ہیں۔ پہلے چیئرمین نیب کی تقرری میں اپوزیشن کی رضامندی ہوتی تھی، آج اپوزیشن چیئرمین نیب کی تقرری سے مائنس ہو گئی ہے۔ آپ نے اپیل کا فورم تبدیل کر کے آئینی عدالت کو مزید متنازع کر دیا ہے۔ دوسری اپیل کو آئینی عدالت کے بجائے سپریم کورٹ ہی جانا چاہیے تھا۔‘\n\nبعد ازاں بل کو سینیٹ سے منظور کر لیا گیا۔\n\nدوسری جانب قومی اسمبلی میں رکن مہ جبین عباسی نے یہ بل پیش کیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’50 کروڑ کی سیلنگ میں اضافے کی تجویز ہے، مجرم کو ہائی کورٹ کے ساتھ آئینی عدالت میں جانے کا اختیار ہوگا۔‘\n\nبیرسٹر گوہر نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں 50 کروڑ کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ پہلے یہ قرضے معاف کرتے تھے، اب یہ بھی معاف کرائیں گے۔ اثر و رسوخ والے لوگ اپنے کیسز ختم کرائیں گے۔\n\nگوہر خان نے کہا: ’اس وقت چیئرمین نیب کی مدتِ ملازمت ختم ہو رہی ہے۔ وزیر قانون کے مطابق دو اپیلوں کا حق دیا جا رہا ہے۔ قتل اور ریپ کے کیسز میں دو اپیلوں کا حق نہیں تو یہاں کیوں دیا جا رہا ہے؟‘\n\nبعد ازاں بیرسٹر گوہر نے حکومت سے بل واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔\n\nرکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق شق میثاقِ جمہوریت کے خلاف ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’یہ لوگ تو نیب ختم کرنے جا رہے تھے، اب نظریات بدل گئے ہیں؟ یہاں سپریم کورٹ کو مائنس کر کے اپیل کا حق آئینی عدالت کے حوالے کیا جا رہا ہے۔‘\n\nاجلاس کے دوران رکن خواجہ اظہار الحسن نے کہا: ’اس طرح کے اہم بل پاس کرنے ہیں تو ہمیں پڑھنے کا موقع تو دیا جاتا۔‘ جس پر وزیر قانون نے جواب دیا کہ ’اگر قانون دوسری اپیل کا موقع دے رہا ہے تو اس کی تعریف کرنی چاہیے۔ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے، اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔‘\n\nگوہر خان کہا کہ ’آپ کسی کو یکطرفہ ایکسٹینشن نہیں دے سکتے، یکطرفہ ایکسٹینشن دے کر آپ بندے کو اپنا بنا دیتے ہیں۔‘\n\nبعد ازاں نیب ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔\n\nپاکستان\n\nپارلیمنٹ\n\nبل\n\nچیئرمین نیب\n\nمدت ملازمت میں توسیع کیس\n\nترمیمی بل کے مسودے کے مطابق چیئرمین نیب کی مدت میں تین سال کی توسیع ہو سکے گی۔ جبکہ نیب کی عدالت یا ہائی کورٹ کے پاس ضمانت دینے یا رہا کرنے کا اختیار ہوگا۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعرات, مارچ 5, 2026 - 19:30\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کے ایوان کا ایک منظر (فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nEHz0Dr94\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nنیب چیئرمین کی تعیناتی: بات دور تلک جائے گی\n\nسابق نیب چیئرمین کو ملنے والی تنخواہ اور دیگر مراعات\n\nنئے نیب چیئرمین آفتاب سلطان کیا تحریک انصاف کو قابل قبول ہوں گے؟\n\nنیب چیئرمین نئی تعیناتی ہونے تک کام جاری رکھیں گے: آرڈیننس\n\nSEO Title:\n\nپارلیمان میں چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کا بل منظور\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پارلیمان میں چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کا بل منظور"
}