{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreickgemsvjt57xlirc2gt7pxy2of74vimnvmz6gv7gyzcgcxw6v7cq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgaevtzmmmp2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidza4lbk7waalwetkkuefy2r7t6h7s74mancaste6ysx63un5ojte"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 92644
},
"path": "/node/184915",
"publishedAt": "2026-03-04T12:07:05.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جا رہے",
"پاکستان",
"اقوام متحدہ",
"یونیسیف",
"کیمپس",
"تعلیم",
"علیزہ ارشد",
"video"
],
"textContent": "**یونیسیف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سے 16 سال کی عمر کےتقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جا رہے ہیں۔ یہ صرف ایک نمبر نہیں بلکہ ایک پوری نسل کا مستقبل ہے جو خطرے میں ہے۔**\n\nپاکستان میں آئین کا آرٹیکل 25 A ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق دیتا ہے، لیکن زمینی حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔\n\nتاریخی طور پر پاکستان کے جی ڈی پی کا تقریباً 1.5 فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے، جو کہ یونیسکو اور ایس ڈی جی 4 کے مقرر کردہ چار سے چھ فیصد کے معیار سے بہت کم ہے۔\n\nپاکستان اکنامک سروے 2024-2025 کے مطابق یہ شرح مزید کم ہو کر صرف 0.8 فیصد رہ گئی ہے۔\n\nنتیجہ؟ ہزاروں سکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے بجلی، پانی اور باتھ روم موجود نہیں، اور کئی علاقوں میں سکول ہی موجود نہیں۔\n\n**لڑکیوں کی تعلیم پر سنگین اثر**\n\nیونیسیف کی رپورٹ کے مطابق جو ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے ان میں تقریباً 53 فیصد لڑکیاں ہیں۔\n\nرپورٹ کے مطابق کئی علاقوں میں مڈل یا ہائی سکول موجود نہیں، سکیورٹی کے مسائل ہیں، کم عمری کی شادیاں ہوتی ہیں اور خواتین اساتذہ کی کمی ہے۔ ’یہ بحران صرف تعلیمی نہیں بلکہ صنفی برابری کا بھی مسئلہ ہے۔‘\n\n**مہنگائی، غربت اور بچوں کی محنت**\n\nپاکستان کی ترقی و منصوبہ بندی کی وزارت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 فیصد لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی خاندانوں کے لیے یہ فیصلہ مشکل ہے کہ بچہ سکول جائے یا گھر کا خرچ چلانے میں مدد کرے۔ اس کے نتیجے میں بچوں کی محنت اور چائلڈ لیبر کے کیسز میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**موسمیاتی تبدیلی کا اثر**\n\nکلائیمیٹ چینج اور بارش و سیلاب نے تعلیمی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق 2022 کے سیلاب سے پاکستان میں 27 ہزار سکول تباہ ہوئے جن سے لاکھوں بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔\n\n**اس کا حل کیا ہے؟**\n\nاقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق پاکستان دنیا میں سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔\n\nماہرین اس مسئلے کے چند حل کچھ یوں بتاتے ہیں:\n\n• تعلیم کے لیے زیادہ بجٹ مختص کرنا\n\n• لڑکیوں کے لیے محفوظ سکول بنانا\n\n• ماہر اساتذہ کی بھرتی اور تربیت\n\n• موسمیاتی لحاظ سے محفوظ تعلیمی عمارتیں\n\n• کمیونٹی اور والدین کو تعلیم میں شامل کرنا\n\nوفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے حال ہی میں ’کوئی بچہ پیچھے نہ رہے‘ نامی مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت میں سکول سے باہر تمام بچوں کو اگلے تین سال میں کلاس روم میں لایا جا سکے۔\n\nملک کے دیگر صوبے بھی ایسے اہداف بنا چکے ہیں، لیکن اس پر عمل ہی ان پالیسیوں کو کامیاب بنائے گا۔ کیوں کہ پالیسیاں تو ماضی میں بھی بنتی رہی ہیں، ان پر عمل درآمد شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔\n\nپاکستان\n\nاقوام متحدہ\n\nیونیسیف\n\nکیمپس\n\nتعلیم\n\nیونیسیف کی رپورٹ کے مطابق جو ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے ان میں تقریباً 53 فیصد لڑکیاں ہیں۔\n\nعلیزہ ارشد\n\nبدھ, مارچ 4, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p>صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں یونیسف کی معاونت سے چلنے والے سرکاری پرائمری سکول کے بچے بچیاں اپنی کلاس میں موجود ہیں (یونیسیف پاکستان/ اسد زیدی)</p>\n\nکیمپس\n\njw id:\n\nWSSZK5Y4\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبرطانیہ کے افغانستان سمیت چار ملکوں کے لیے تعلیمی ویزے بند\n\n40 سال کی عمر میں کیریئر چھوڑ کر تعلیمی اداروں کا رخ کیوں؟\n\nپنجاب سکولوں میں اساتذہ کے لیے گاؤن لازمی کرنے پر نئی بحث\n\nسکول کا دباؤ بعد کی زندگی میں ڈپریشن کا سبب کیوں بن سکتا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nپاکستان میں ’ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر‘، تعلیم کی فراہمی کا آئینی وعدہ ناکام؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پاکستان میں ’ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر‘، تعلیم کی فراہمی کا آئینی وعدہ ناکام؟"
}