{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiczhrmfszooaxcmqujh37rtjiwr5nzwjpzppepgglxn4vwcv2khhy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mg7qsfett3d2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifezgbmbaqaqmksntrglbqpy3jzf4kg5qcobh7fjztcnp4f7jevqu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 82216
},
"path": "/node/184905",
"publishedAt": "2026-03-03T19:52:11.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران",
"امریکہ",
"اسرائیل",
"مشرق وسطیٰ",
"جنگ",
"علی خامنہ ای",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news"
],
"textContent": "**چار دن قبل ایران پر شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ایران کے 50 کے قریب سویلین اور فوجی رہنما مارے جا چکے ہیں۔**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے ملاقات کے دوران کہا کہ ایران پر امریکی اسرائیلی دو حملوں نے ان شخصیات کو مار دیا ہے جنہیں وہ ممکنہ نئے رہنما کے طور پر دیکھتے تھے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ذہن میں موجود زیادہ تر لوگ مر چکے ہیں۔‘\n\nاہم شخصیات کی اموات کے باوجود ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کو نہ صرف برداشت کر رہا ہے بلکہ ان کا مؤثر جواب بھی دے رہا ہے۔\n\nتقریباً 50 سال قبل اقتدار میں آنے کے بعد ایران نے صرف ایک بار اپنے سپریم لیڈر کو تبدیل کیا جب علی خامنہ ای نے 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی جگہ لی۔\n\nیکم مارچ 2026 کو علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب تک اقتدار سنبھالنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت تین رکنی قیادت کونسل تشکیل دی گئی۔ ان اہم شخصیات میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان، آیت اللہ علی رضا اعرافی اور ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی شامل ہیں۔\n\nلیکن منگل کو نیوز چینل ایران انٹرنیشنل کا دعوی ہے کہ اسے حاصل معلومات کے مطابق ایران کی مجلس ماہرین نے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے دباؤ پر علی خامہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اگلا سپریم لیڈر منتخب کر لیا۔ البتہ یہ فیصلہ عوامی طور پر جاری نہیں کیا گیا اور توقع ہے کہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد اس کا اعلان کیا جائے گا۔\n\nاس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نئے رہنما کا انتخاب ’ایک دو روز میں‘ ہونے کی بات کی تھی لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا ہے۔\n\nامریکی حملوں کے نتیجے میں جان سے جانے والی ایران کی اہم حکومتی شخصیات بشمول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، علی شمخانی، عبدالرحیم موسوی، عزیز ناصر زادہ اور محمد پاکپور (اے ایف پی)\n\n\n\n\nمندرجہ سطور میں ان شخصیات کا تعارف ہے جو اس وقت ایران میں اہم فیصلوں اور اقدامات کے لیے ذمہ دار ہیں۔\n\n**علی لاریجانی، سیکرٹری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل**\n\nکئی دہائیوں تک علی لاریجانی ایرانی اسٹیبلشمنٹ کا پرسکون، عملی چہرہ تھے، ایک ایسا شخص جس نے 18ویں صدی کے جرمن فلسفی ایمانوئل کانٹ پر کتابیں لکھیں اور مغرب کے ساتھ جوہری معاہدوں پر بات چیت کی۔\n\nلیکن یکم مارچ 2026 کو امریکی اسرائیلی حملے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مارے جانے کے بعد 67 سالہ لاریجانی کا لہجہ بالکل بدل گیا۔\n\nانہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’امریکہ اور صہیونی حکومت (اسرائیل) نے ایرانی قوم کے دل کو آگ لگا دی ہے۔ ہم ان کے دلوں کو جلا دیں گے، ہم صہیونی مجرموں اور بے شرم امریکیوں کو اپنے کیے پر پچھتاوا کر دیں گے۔‘\n\nلاریجانی، جس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ’اسرائیلی جال‘ میں پھنسنے کا الزام لگایا تھا، اب 1979 کے بعد اپنے سب سے بڑے بحران پر تہران کے ردعمل کا مرکز ہیں۔\n\nتوقع ہے کہ خامنہ ای کی موت کے بعد ایران کو چلانے والی تین رکنی عبوری کونسل کے ساتھ ان کا اہم کردار ہو گا۔\n\nلاریجانی، ایرانی پارلیمنٹ کے سابق سپیکر، اگست سے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں۔\n\n2005 میں ایران کے صدر کے لیے انتخاب لڑنے والے لاریجانی کو 2021 اور 2025 میں انتخاب لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔\n\nایران کی پاسداران انقلاب میں 10 سال سے زیادہ رہنے کے بعد، لاریجانی گذشتہ تین سے زیادہ دہائیوں میں ایرانی حکومت میں کئی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔\n\nایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر علی لاریجانی کی 16 فروری 2020 کو دمشق میں اپنے شامی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے دوران تصویر ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nاتوار کو انہوں نے واضح کیا کہ ایران تنازع کے درمیان اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں پر امریکہ کے ساتھ ’بات چیت نہیں کرے گا۔‘\n\n**آیت اللہ علی رضا اعرافی**\n\nعلی رضا اعرافی آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ایران کو چلانے والی تین رکنی عبوری قیادت کونسل کا حصہ ہیں۔\n\nماہرین کی 88 رکنی اسمبلی کے رکن، جو ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ دار ہے، اعرافی 2016 سے ایران کے مدرسے چلا رہے ہیں۔\n\nانہوں نے ایران کے شہر قم میں واقع المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے انچارج کے طور پر بھی ایک دہائی گزاری ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**صدر مسعود پزشکیان**\n\nانقلاب کے بعد سے ایران کے 9ویں صدر پزشکیان بھی عبوری قیادت کونسل کا حصہ ہیں۔ ان کے دور اقتدار میں ایران نے 2024 میں حماس، حزب اللہ اور ایران کے عہدیداروں کے قتل کے جواب میں اسرائیل سے 12 روزہ جنگ کی۔\n\n71 سالہ دل کے سرجن جو ایران میں اصلاح پسند تحریک کا حصہ ہیں، پزشکیان نے ملک کے وزیر صحت اور طبی تعلیم کے طور پر چار سال تک رہنے کے بعد 2008 میں ایرانی پارلیمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔\n\nپزشکیان نے اتوار کے روز سوشل پلیٹ فارم ایکسپر لکھا، ’رہبر انقلاب اسلامی کی شعلہ انگیز شہادت آنے والے کئی سالوں تک ایرانی قوم کے ساتھ رہے گی۔ مجرموں کا جرم اور ایران کے عزیزوں کی شہادت اور ایرانی جمہوریہ کی تکمیل کے لیے حکومت کے عزم میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی۔ ہم ایران کے فخر، آزادی اور شان کے راستے پر گامزن ہیں۔‘\n\n2 اگست 2025 کی اس تصویر میں وزیراعظم شہباز شریف کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر آمد پر بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**غلام حسین محسنی اژہ ای**\n\nعبوری قیادت کونسل کے تیسرے رکن، محسنی اژهای کو خامنہ ای نے 2021 میں چیف جسٹس مقرر کیا تھا۔ انہوں نے دسمبر اور جنوری میں ایرانی مظاہرین کو دبانے میں کلیدی کردار ادا کیا، کیونکہ ملک میں حکومت مخالف جذبات پھیل گئے تھے۔\n\n2000 کی دہائی میں محسنی اژهای نے ایران کے وزیر انٹیلی جنس کے طور پر چار سال گزارے۔ انہیں سابق صدر محمود احمدی نژاد نے برطرف کر دیا تھا۔\n\nاس کے بعد انہوں نے ایران کے پراسیکیوٹر جنرل کے طور پر پانچ سال اور اپنے پیشرو چیف جسٹس، سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے پہلے نائب کے طور پر سات سال گزارے۔\n\n**علاقائی کمانڈر بااختیار**\n\nایسا لگتا ہے کہ ایرانی حکام نے بڑی فوجی کارروائی کی توقع کی ہے اور اس نے پہلے سے ہی چین آف کمانڈ کو ڈیسنٹرالائزڈ کر دیا ہے۔\n\nپاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے حملوں کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر سینیئر قیادت نااہل ہو جائے تو علاقائی اور صوبائی کمانڈروں کو پہلے سے آپریشنل اختیار دے دیا گیا ہے۔\n\nایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nاسرائیل\n\nمشرق وسطیٰ\n\nجنگ\n\nعلی خامنہ ای\n\nیکم مارچ کو علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب تک اقتدار سنبھالنے کے لیے تین رکنی قیادت کونسل تشکیل دی گئی۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مارچ 4, 2026 - 00:30\n\nMain image:\n\n> <p>ایرانی صدر مسعود پزشکیان (درمیان)، علی لاریجانی (دائیں) اور آیت اللہ علی رضا اعرافی (اے ایف پی اور خمینی ڈات آئی آر)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\n’ہم نے میزائل آتے جاتے دیکھے‘: ایران سے واپس لوٹنے والے پاکستانی\n\nایران پر حملہ نائن الیون کے بعد عالمی تاریخ کا بڑا لمحہ\n\nایران جنگ: مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد چھ ہوگئی\n\nSEO Title:\n\nایران میں اس وقت انچارج کون ہے، نیا سپریم لیڈر کون ہوسکتا ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ایران میں اس وقت انچارج کون ہے، نیا سپریم لیڈر کون ہوسکتا ہے؟"
}