{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifxf66sspblrmyr7uihtuzpdov4zvbdve4viw35x2icy4qtpivske",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mg7qrcljnck2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreig4ovf4sno3qcj2tedj2qdymig75xiqsa547vffmh5ia7ddx34w4a"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 56889
  },
  "path": "/node/184912",
  "publishedAt": "2026-03-04T06:47:36.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "صدر ٹرمپ",
    "ایران پر حملہ کرنے",
    "pic.twitter.com/HoSWLVWrR8",
    "March 3, 2026",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "ایران پر امریکی حملہ",
    "رپبلکن پارٹی",
    "ڈیموکریٹک پارٹی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news",
    "@SenWarren"
  ],
  "textContent": "**امریکہ میںصدر ٹرمپ کی ایران پر فوجی حملوں کے خلاف سیاسی اور عوامی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے علاوہ خود صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت رپبلکن پارٹی کے ارکان نے بھی جنگ کے خلاف آواز اٹھائی ہے جب کہ عوامی رائے عامہ کے جائزوں میں عوام کی اکثریت جنگ کے خلاف ہے۔ **\n\nورجینیا کے ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر انتظامیہ نے ایران پر حملہ کرنے کی کئی وجوہات بتائی ہیں، جن میں پہلے اس کا جوہری پروگرام تباہ کرنا، پھر اس کے بیلسٹک میزائل کی تیاری ختم کرنا، اس کی حکومت تبدیل کرنا اور اب اس کے بحری بیڑے کو غرق کرنا شامل ہے۔\n\n**وار پاور ریزولوشن**\n\nامریکی کانگریس کا رواں ہفتے اجلاس ہو رہا ہے جس میں سینیٹ کی وار پاورز ریزولوشن اور ایوانِ نمائندگان میں دو قراردادوں پر غور کیا جائے گا جن کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اختیار کو محدود کرنا ہے جس کے تحت وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو وسعت دے سکتے ہیں۔\n\nامریکی حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹم کین کی زیرِ قیادت سینیٹ کی قرارداد میں 1973 کی وار پاورز ریزولوشن کا حوالہ دیا گیا ہے، جسے ویت نام جنگ کے دوران صدارتی جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔\n\nاگر یہ قرارداد منظور ہو گئی تو اس کے تحت ضروری ہو گا کہ جب تک کہ کانگریس منظوری نہ دے، ایران کے خلاف جنگ بند کر دی جائے۔\n\nسینیٹر ٹم کین سینیٹ کی آرمڈ سروسز اور فارن ریلیشنز کمیٹیوں کے رکن بھی ہیں۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے حکم کو ایک ’بہت بڑی غلطی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہر سینیٹر کو اس خطرناک، غیر ضروری اور احمقانہ اقدام کے حوالے سے اپنا موقف آن دی ریکارڈ لانے کی ضرورت ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدوسری طرف جمعرات کو رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹامس میسی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رو کھنہ ایک الگ قرارداد میں ایران سے فوجیوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کریں گے۔\n\n**’ٹرمپ کی مرضی کی جنگ‘**\n\nاس کے علاوہ متعدد دوسرے امریکی سیاست دانوں اور دوسری سرکردہ شخصیات نے بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ میں حصہ لینے کے فیصلے کی کھل کر مخالفت کی ہے۔\n\nڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹر الزبتھ وارن نے ایک پر ایک پیغام میں کہا کہ میں نے ابھی ایران کے بارے میں ایک خفیہ بریفنگ میں شرکت کی ہے اور میں کہہ سکتی ہے کہ صورتِ حال آپ کے تصور سے بھی بری ہے۔ انتظامیہ کے پاس ایران کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ یہ جنگ جھوٹ پر مبنی ہے اور ایران سے امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔\n\n> I just left a classified briefing with the Trump Administration about the war in Iran.\n>\n>  I was worried before, but I’m more worried now. pic.twitter.com/HoSWLVWrR8\n>\n> — Elizabeth Warren (@SenWarren) March 3, 2026\n\nامریکی حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے دوسرے ارکان نے بھی حملوں کو ’ٹرمپ کی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر یہ جنگ غیر قانونی ہے۔\n\nسینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا کہ ’ٹرمپ کی جنگ، کوئی حکمت عملی نہیں، کوئی اختتام نہیں۔ امریکی مزید لمبی اور مہنگی جنگ نہیں چاہتے۔‘\n\nسابقہ صدارتی امیدوار کاملا ہیرس نے کہا کہ یہ جنگ ’ٹرمپ کی مرضی کی جنگ ہے،‘ (Trump's war of choice) ’امریکی جانیں خطرے میں ہیں اور کانگریس کو مزید مداخلت روکنی چاہیے۔‘\n\nکانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ حکیم جیفریز نے کہا کہ ٹرمپ نے کانگریس سے ’اجازت لیے بغیر فوجیوں کو خطرے میں ڈالا‘ اور ان کے پاس کوئی واضح منصوبہ نہیں کہ جنگ طول نہ پکڑے۔\n\nصرف ڈیموکریٹک پارٹی ہی نہیں، خود صدر ٹرمپ کی اپنی رپبلکن پارٹی میں بھی جنگ کی مخالفت موجود ہے، اگرچہ رپبلکن پارٹی کی اکثریت جنگ کی حمایت کر رہی ہے۔ ۔\n\nرکنِ کانگریس ٹامس میسی نے کہا، ’یہ امریکہ فرسٹ نہیں ہے۔‘\n\nسابق رپبلکن رکنِ کانگریس مارجری ٹیلر گرین، جو ماگا کی پرجوش حامی تھیں، نے صدر ٹرمپ کی ’ذہنی حالت‘ پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا، ’میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ان کی ذہنی حالت کیا ہے۔‘\n\nمعروف اینکر ٹکر کارلسن نے اس جنگ کو ’گھناؤنی اور شیطانی‘ (disgusting and evil) قرار دیا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ ٹکر کارلسن نے پیر کو اپنی پوڈکاسٹ میں کہا کہ یہ ’اسرائیل کی جنگ‘ ہے اور امریکہ اسے صرف اسرائیل کی وجہ سے لڑ رہا ہے۔\n\n**عوام کی اکثریت جنگ کے خلاف**\n\nروئٹرز/اپسوس کے اختتامِ ہفتہ کیے گئے رائے عامہ کے ایک نئے جائزے کے مطابق، صرف 27 فیصد امریکیوں نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کی حمایت کی، جبکہ 43 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ یہ سروے ان خبروں کے سامنے آنے سے قبل کیا گیا تھا کہ ایرانی جوابی حملوں میں چھ امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔\n\nپیر اور منگل کو کیے گئے سی بی ایس (CBS) کے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 1,400 امریکی بالغوں میں سے 60 فیصد سے زائد کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں امریکی مقاصد کے حوالے سے کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کی۔\n\nسی این این کے ایک سروے کے مطابق 59 فیصد افراد نے جنگ کی مخالفت کی، جب کہ یو گو کے ایک سروے میں 45 فیصد مخالفت دیکھنے میں آئی جب کہ حمایت صرف 33 فیصد نے کی۔\n\nنیویارک ٹائمز کے ایک سروے میں صرف 21 فیصد نے ایران پر حملے کی حمایت کی۔ اس سرویز میں لوگوں نے مخالفت کی وجوہات میں لمبی جنگ، فوجی اخراجات اور مہنگائی وغیرہ بتائیں۔\n\nاس کے علاوہ کئی امریکی شہروں میں جنگ کے خلاف مظاہرے اور احتجاج ہوئے ہیں۔ لاس اینجلس، واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک میں بڑے مظاہرے ہوئے جہاں ہزاروں افراد نے حملوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔ لاس اینجلس میں مظاہرین نے ’پیسہ نوکریوں کے لیے، بموں کے لیے نہیں‘ کے نعرے لگائے۔ سات مارچ کو ملک گیر مظاہرے متوقع ہیں۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nایران پر امریکی حملہ\n\nرپبلکن پارٹی\n\nڈیموکریٹک پارٹی\n\nصدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کے بعد امریکہ میں شدید مخالفت جاری ہے۔ امریکی عوام، ڈیموکریٹس اور خود رپبلکن رہنما اس جنگ کو ’غیر قانونی‘ اور ’احمقانہ‘ قرار دے رہے ہیں۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مارچ 4, 2026 - 11:45\n\nMain image:\n\n> <p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 3 مارچ 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ ملاقات کے دوران (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nلائیو: ایران پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، تہران نے جوابی حملوں کا دائرہ بڑھا دیا\n\n’ایران کو بتایا کہ اسلام آباد، ریاض کے درمیان سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ‘ ہے: اسحٰق ڈار\n\nایران میں اس وقت انچارج کون ہے، نیا سپریم لیڈر کون ہوسکتا ہے؟\n\n’ہم نے میزائل آتے جاتے دیکھے‘: ایران سے واپس لوٹنے والے پاکستانی\n\nSEO Title:\n\nایران پر حملہ: صدر ٹرمپ کے خلاف کانگریس اور عوام میں مخالفت شدت اختیار کر گئی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ایران پر حملہ: صدر ٹرمپ کے خلاف کانگریس اور عوام میں مخالفت شدت اختیار کر گئی"
}