{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicnnliy3cibc56cdsamxzabcxfqi7oxt5yojd7psgq7x6765wmkj4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mg7j74laare2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidv6e4c6y5nhljmzmbyu4gibkg55ctuhohapz3ojxlzt33mevy5qi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 191632
},
"path": "/node/184907",
"publishedAt": "2026-03-04T02:45:13.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"برطانیہ",
"افغانستان",
"طلبہ",
"ویزا",
"میانمار",
"سوڈان",
"افغان تارکین وطن",
"اے ایف پی",
"دنیا",
"news"
],
"textContent": "**برطانوی حکومت نے منگل کو افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے شہریوں کو تعلیمی ویزوں کا اجرا بند کرنے اور افغان شہریوں کے لیے ورک ویزے بھی روکنے کا اعلان کیا ہے۔**\n\nبرطانیہ کے ہوم آفس نے کہا کہ یہ سب تارکین وطن کے حوالے سے اپنے وسیع پیمانے پر اقدامات کے حصے کے طور پر کیا جائے گا۔\n\nہوم آفس نے کہا کہ ان ممالک کے طلبہ کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے اور 2021 سے اب تک مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار سیاسی پناہ کے متلاشی افراد قانونی راستے استعمال کرتے ہوئے برطانیہ میں داخل ہوئے ہیں۔\n\nبرطانیہ کی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے ایک بیان میں کہا کہ ’برطانیہ جنگ اور ظلم و ستم سے فرار ہونے والے لوگوں کو ہمیشہ پناہ فراہم کرے گا، لیکن ہمارے ویزا سسٹم کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ میں ان شہریوں کے ویزے سے انکار کرنے کا بے مثال فیصلہ لے رہی ہوں، جو ہماری سخاوت کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nہوم آفس نے کہا کہ 2021 اور 2025 کے درمیان افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے طلبہ کی پناہ کی درخواستوں کی تعداد میں 470 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔\n\nتارکین وطن برطانوی سیاست میں ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے جب کہ سخت دائیں بازو کی جماعت ریفارم یو کے نے اپنے مائیگریشن مخالف موقف کے ساتھ رائے عامہ کے جائزوں میں اضافہ کیا ہے۔\n\nیکے بعد دیگرے حکومتوں نے فرانس سے سمندر عبور کرنے والی چھوٹی کشتیوں کو روکنے کے لیے جدوجہد کی ہے، جو بڑی تعداد میں غیر دستاویزی تارکین وطن کو لاتی ہیں، لیکن حکام کو دوسرے راستوں سے داخل ہونے والے پناہ کے متلاشیوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے بھی دباؤ کا سامنا ہے۔\n\nہوم آفس نے کہا کہ حکومت نے ’2025 کے دوران طلبہ کی پناہ کی درخواستوں میں 20 فیصد کمی کی ہے، مزید کارروائی کی ضرورت ہے کیونکہ سٹڈی ویزے پر آنے والے اب بھی سسٹم میں تمام درخواستوں کا 13 فیصد ہیں۔‘\n\nبرطانیہ\n\nافغانستان\n\nطلبہ\n\nویزا\n\nمیانمار\n\nسوڈان\n\nافغان تارکین وطن\n\nہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے کہا: ’برطانیہ جنگ اور ظلم و ستم سے فرار ہونے والے لوگوں کو ہمیشہ پناہ فراہم کرے گا، لیکن ہمارے ویزا سسٹم کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘\n\nاے ایف پی\n\nبدھ, مارچ 4, 2026 - 07:45\n\nMain image:\n\n> <p>افغان کمیونٹی کے ارکان 7 ستمبر 2021 کو وسطی لندن میں مظاہرہ کر رہے ہیں (جسٹن ٹیلس/ اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nجعلی ویزوں پر برطانیہ جانے کی کوشش کرنے والے پانچ افراد گرفتار: ایف آئی اے\n\nاب تارکین وطن کو برطانیہ میں صرف عارضی پناہ ملے گی\n\nپاکستان کی افغان طلبہ کے لیے 4500 سکالرشپس\n\nپاکستان میں مقیم افغان طلبہ کے لیے جرمنی کا سکالرشپ پروگرام\n\nSEO Title:\n\nبرطانیہ کا افغانستان سمیت چار ملکوں کے لیے تعلیمی ویزے بند کرنے کا اعلان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "برطانیہ کا افغانستان سمیت چار ملکوں کے لیے تعلیمی ویزے بند کرنے کا اعلان"
}