{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreie7unjcf433lzqbs63xk4divuqb7b5ofxdozh3u6ccryhseg7zz7a",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mg7j6xghng22"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreif3lxyylqqanukqe56uecirmg424b4q74bm4lpg5lrgswt2psfxsi"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 46186
  },
  "path": "/node/184908",
  "publishedAt": "2026-03-04T02:47:18.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "جنگ کے پہلے دن کا احوال",
    "دوسرے دن کا احوال",
    "تیسرے دن کا احوال",
    "چوتھے دن کا احوال یہاں کلک کریں",
    "March 3, 2026",
    "ایران اسرائیل کشیدگی",
    "ایران",
    "اسرائیل",
    "امریکہ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news",
    "لائیو اپ ڈیٹس",
    "@ssd_gov_ae"
  ],
  "textContent": "**تازہ ترین**\n\n  * ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ پانچویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔\n  * ایرانی حملوں سے اسرائیل میں کم از کم 10 اموات ہوچکی ہیں جبکہ چھ امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔\n\n\n---\n\n\n\n\n**جنگ کے پہلے دن کا احوال — دوسرے دن کا احوال — تیسرے دن کا احوال — ****چوتھے دن کا احوال یہاں کلک کریں**\n\n* * *\n\n**صبح 7 بجکر 45 منٹ پر: دوبئی میں امریکی قونصلیٹ کے قریب ڈرون گرا**\n\nدوبئی میڈیا آفس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی قونصلیٹ کے قریب ڈرون کے گرنے سے لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ ریسکیو ٹیمیں نے فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں تاہم اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔\n\nدوبئی میڈیا آفس کی ایکس پر لگنے والی پوسٹ کا عکس\n\n\n\n\n* * *\n\n**صبح ساڑھے 7 بجے: یو اے ای میں من گھڑت اور غیر معتبر اطلاعات پھیلانے پر پابندی**\n\n‏متحدہ عرب امارات کے سٹیٹ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ (ایس ایس ڈی) نے حساس سکیورٹی مقامات کی تصاقویر بنانے اور غیر معتبر معلومات کو پھیلانے کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔\n\nایس ایس ڈی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’موجودہ حالات کے پیش نظر، حساس سکیورٹی مقامات کی تصاویر لینا یا انہیں شیئر کرنا، یا غیر معتبر یا من گھڑت معلومات پھیلانا قومی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ممنوع ہے۔‘\n\nموجودہ حالات کے پیشِ نظر، حساس سیکیورٹی مقامات کی تصاویر لینا یا انہیں شیئر کرنا، یا غیر معتبر یا من گھڑت معلومات پھیلانا قومی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ممنوع ہے۔ ان ہدایات پر عمل کرنا مضبوط قومی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔\n\n> — جهاز أمن الدولة (@ssd_gov_ae) March 3, 2026\n\nپوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’ان ہدایات پر عمل کرنا مضبوط قومی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔‘\n\n* * *\n\n**صبح 7 بجے: ایران پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، ایران نے جوابی حملوں کا دائرہ کار بڑھا دیا**\n\nاسرائیل نے کہا کہ اس نے منگل کے روز ایرانی میزائل لانچروں اور ایک جوہری تحقیقی مرکز پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا اور ایندھن کی فراہمی اور سفر میں خلل ڈالا۔\n\nخبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اشارہ دیے جانے کے چار روز بعد کہ یہ جنگ کئی ہفتوں یا اس سے زیادہ جاری رہ سکتی ہے، ایران میں تقریباً 800 افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ انہیں ملک کے ممکنہ مستقبل کے رہنماؤں کے طور پر زیرِ غور لا چکے تھے۔\n\nمنگل کو تہران کے علاوہ لبنان میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جہاں اسرائیل نے کہا کہ اس نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خلاف جوابی کارروائی کی۔ اسی طرح سعودی عرب میں امریکی سفارت خانہ اور متحدہ عرب امارات میں امریکی قونصل خانہ بھی ڈرون حملوں کی زد میں آئے۔\n\n3 مارچ 2026 کو جنوبی لبنان کے ساحلی شہر سیڈون میں جماعت اسلامیہ کے دفاتر کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے کے مقام پر امدادی کارکن جمع ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nایران اسرائیل پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغ چکا ہے، تاہم بیشتر حملے روک لیے گئے۔ اس جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل میں 11 اموات ہو چکی ہیں۔\n\nدیگر پیش رفت میں، پینٹاگون نے کویت میں ایک کمانڈ سینٹر پر اتوار کو ہونے والے ڈرون حملے میں جان سے جانے والے امریکی ریزرو فوج کے چار اہلکاروں کی شناخت ظاہر کی۔ اس حملے میں دو دیگر فوجی اہلکار بھی مارے گئے۔\n\nجنگ کے پھیلتے ہوئے دائرے نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ یہ کب اور کیسے ختم ہوگی۔\n\nامریکی انتظامیہ نے مختلف اہداف بیان کیے ہیں، جن میں ایران کی میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا، اس کی بحریہ کو ختم کرنا، اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور اسے اتحادی مسلح گروہوں کی حمایت جاری رکھنے سے باز رکھنا شامل ہے۔\n\nاگرچہ ابتدائی امریکی-اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جان سے چلے گئے تھے اور ٹرمپ نے ایرانیوں پر اپنی حکومت کا تختہ الٹنے پر زور دیا تھا، تاہم بعد ازاں انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی مقصد نہیں ہے۔\n\nمنگل کو ٹرمپ نے بظاہر اس امکان کو کم اہمیت دی کہ یہ جنگ ایران کی مذہبی حکمرانی کا خاتمہ کر دے گی، اور کہا کہ امریکی-اسرائیلی مہم کے اختتام پر اقتدار سنبھالنے کے لیے ایرانی نظام کے اندر سے کوئی شخص بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔\n\n3 مارچ 2026 کو جنوبی لبنان کے علاقے کفار تبنیت پر اسرائیلی بمباری سے دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت کے لیے جن لوگوں کو امریکہ زیرِ غور لا رہا تھا، وہ مر چکے ہیں۔\n\nاوول آفس میں منگل کو گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معزول شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی ان افراد میں شامل نہیں، جن پر ان کی انتظامیہ نے سنجیدگی سے غور کیا ہو۔\n\nاندرونِ ایران ممکنہ رہنماؤں کے بارے میں انہوں نے کہا: ’جن لوگوں کو ہم ذہن میں رکھے ہوئے تھے وہ مر چکے ہیں۔‘\n\nٹرمپ نے کہا: ’بدترین صورتِ حال یہ ہو سکتی ہے کہ ہم یہ سب کریں اور پھر کوئی ایسا شخص اقتدار سنبھال لے جو پچھلے شخص جتنا ہی برا ہو، ٹھیک ہے؟ ایسا ہو سکتا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔‘\n\nدوسری جانب ایران کے رہنما خامنہ ای کے متبادل کے لیے سرگرم ہیں، جنہوں نے 37 برس تک ملک پر حکمرانی کی۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ صرف دوسری بار ہے کہ نیا سپریم لیڈر منتخب کیا جا رہا ہے۔ ممکنہ امیدواروں میں ایسے سخت گیر عناصر شامل ہیں جو مغرب کے ساتھ محاذ آرائی کے حامی ہیں اور ایسے اصلاح پسند بھی جو سفارتی روابط کے خواہاں ہیں۔\n\nایران سے آنے والی معلومات محدود رہی ہیں کیونکہ مواصلاتی نظام متاثر ہے، چوبیس گھنٹے فضائی حملے جاری ہیں اور صحافیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ تاہم ایران کے دارالحکومت میں مختلف مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔\n\nشمالی تہران میں مقیم ایک انجینیئر علی آملی نے کہا: ’آدھی رات سے میں اور میری اہلیہ دھماکوں کی آوازیں سن رہے ہیں۔‘\n\nکولوراڈو میں قائم کمپنی وینٹر کی جانب سے منگل کو جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر میں دکھایا گیا کہ تہران میں ایران کے صدارتی کمپلیکس کی گنبد نما چھت تباہ ہو چکی ہے، جو اسرائیل کے رات گئے کیے گئے حملے کے دعوے کی تائید کرتی ہے۔ ایران نے نقصان کا اعتراف نہیں کیا اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع دی۔\n\nاسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے کہا کہ فوج نے ایرانی شہر قم میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا جہاں علما کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر غور کے لیے جمع ہونے کی توقع تھی۔ انہوں نے کہا کہ فوج ابھی جائزہ لے رہی ہے کہ کوئی ہدف بنا یا نہیں۔\n\n4 مارچ 2026 کو ایرانی میزائل حملوں کی تازہ لہر کے دوران اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون کے اوپر آسمان میں راکٹ نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nاسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ایران کے ان مقامات پر بھی فضائی حملے کیے جہاں بیلسٹک میزائل تیار اور ذخیرہ کیے جاتے ہیں، اور اس نے اس چیز کو تباہ کر دیا جسے اس نے ایران کا خفیہ زیرِ زمین جوہری ہیڈکوارٹر قرار دیا۔ بغیر شواہد فراہم کیے اس کا کہنا تھا کہ یہ مقام ’جوہری ہتھیاروں کے لیے ایک اہم جزو تیار کرنے‘ کی تحقیق کے لیے استعمال ہوتا تھا۔\n\nاس مقام کے بارے میں جس کا اسرائیل نے نام لیا، امریکہ یا ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔\n\nایران کا کہنا ہے کہ اس نے جون کے بعد سے یورینیم کی افزودگی نہیں کی، اگرچہ اس نے ایسا کرنے کے اپنے حق کو برقرار رکھا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔\n\n* * *\n\n**صبح 6 بجے: 17 ایرانی جہازوں کو تباہ کیا، 2000 اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی سینٹرل کمانڈ**\n\nامریکی مرکزی کمان کے کمانڈر نے منگل کو بتایا ہے کہ امریکی فوج نے 17 ایرانی جہازوں کو تباہ کر دیا ہے، جن میں ایک آبدوز بھی شامل ہے جبکہ ایران میں تقریباً 2,000 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔\n\nامریکی مرکزی کمان کے ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایکس پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا: ’آج، خلیجِ عرب، آبنائے ہرمز یا خلیجِ عمان میں ایک بھی ایرانی جہاز زیرِ سفر نہیں ہے۔‘\n\nایران اسرائیل کشیدگی\n\nایران\n\nاسرائیل\n\nامریکہ\n\nایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ کے ردعمل میں تہران کے جوابی حملوں کے باعث خطے کی سیاسی و معاشی سمیت مجموعی صورت حال کا احوال۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مارچ 4, 2026 - 07:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">تین مارچ 2026 کو ایرانی میزائل حملوں کی تازہ لہر کے دوران اسرائیلی شہر نتانیا کے اوپر آسمان میں راکٹوں کے دھوئیں کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nایران پر حملہ نائن الیون کے بعد عالمی تاریخ کا بڑا لمحہ\n\nسابق ایرانی صدراحمدی نژاد کی حملوں میں موت سے متعلق متضاد خبریں\n\nامریکی حملوں میں نشانہ بننے والی ایرانی شخصیات کون ہیں؟\n\nایران جنگ: کوویڈ وبا کے بعد دنیا میں فضائی سروس کا بدترین بحران\n\nSEO Title:\n\nایران پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، تہران نے جوابی حملوں کا دائرہ کار بڑھا دیا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ایران پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، تہران نے جوابی حملوں کا دائرہ کار بڑھا دیا"
}