{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihuzmvexsk4fqa6qkgpajpvhewa4corctx247nizv274jjhlinduy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mg7j6tndqve2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreif3zkibqcoq2cqdoftturhomfizzeq5es77ni4sjactqwqesebu7q"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 130288
},
"path": "/node/184906",
"publishedAt": "2026-03-04T03:15:37.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"عمران خان",
"پی ٹی آئی",
"پمز",
"بینائی",
"علاج",
"طبی معائنہ",
"اڈیالہ جیل",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"سیاست",
"video"
],
"textContent": "**اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ایک میڈیکل بورڈ نے منگل (3 مارچ) کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ان کی بینائی میں نمایا بہتری آئی ہے۔**\n\nپمز کے ترجمان نے منگل کی رات جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان کا معائنہ ان کو (23 فروری کو) لگائے گئے اینٹی وی ای جی ایف کے دوسرے انجیکشن کے فالو اپ کے طور کیا گیا۔\n\nتاہم پاکستان تحریک انصاف نے چیئرمین عمران خان کے حوالے سے ہسپتال انتظامیہ کے جاری بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی طبی معائنہ جو اس کے ذاتی معالجین اور قریبی خاندان کی موجودگی کے بغیر کیا جائے، شفافیت اور اعتبار سے خالی ہے۔‘\n\nسابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ ان کے خلاف 9 مئی 2023 کے احتجاجی واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔\n\nپاکستان کے 74 سالہ سابق وزیراعظم کو اڈیالہ جیل میں قیام کے دوران دائیں آنکھ میں تکلیف محسوس ہوئی جس سے ان کی ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ گئی تھی۔\n\n3 مارچ 2026 کو پمز سے جاری ہونے والے بیان کا عکس\n\n\n\n\nاس بیماری کا علاج کرنے کے لیے عمران خان کو اب تک دو اینٹی وی ای جی ایف انجیکشن لگائے جا چکے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہیں پمز ہسپتال لایا گیا تھا۔\n\nعمران خان کو پہلا انجیکشن 24 جنوری اور دوسرا 23 فروری کو لگایا گیا تھا۔\n\nپمز کے ترجمان نے مزید بتایا کہ گذشتہ رات عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والا میڈیکل بورڈ دو ماہرین امراض چشم پر مشتمل تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبورڈ میں راولپنڈی کی الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے ویٹریوریٹینل ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسرڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز اسلام آباد میں آپتھالمالوجی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ایم عارف خان شامل تھے۔\n\nپی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کئی مہینوں سے عمران خان کی صحت، آزاد طبی سہولیات تک رسائی اور خاندانی نگرانی میں جانچ پڑتال سے انکار کے حوالے سے سنگین خدشات اٹھائے جا رہے ہیں۔\n\n’پی ٹی آئی اپنی واضح اور غیرمشروط مانگ کو دہراتی ہے کہ عمران خان کا فوری معائنہ ان کے ذاتی معالجین اور اہل خانہ کی موجودگی میں کیا جائے۔ ان کے خاندان کی خواہشات کے مطابق، انہیں آزاد، شفاف اور جامع طبی معائنہ اور علاج کے لیے فوری طور پر شفہ انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔‘\n\nبیان میںں مزید کہا گیا کہ ’آزاد طبی رسائی کی اجازت نہ دینے کی مسلسل انکار عوامی تشویش کو مزید بڑھاتا ہے اور سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عمران خان کی صحت اور فلاح و بہبود کو سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔‘\n\nپاکستان تحریک انصاف کے بانی 16 مئی 2024 کو اڈیالہ جیل سے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران پیش ہوئے (پی ٹی آئی ایکس اکاؤنٹ)\n\n\n\n\nبیان میں کہا گیا کہ معائنے کے دوران عمران خان کی دونوں آنکھوں کی بصری تیزی، فنڈوسکوپی، سلٹ لیمپ ایگزامینیشن اور آپٹیکل کوہرنس ٹوموگرافی کا معائنہ کیا گیا۔\n\n’بورڈ اس نتیجے پر پہنچا کہ ان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے جو کہ اس سٹیج پر کافی حد تک اچھی بصارت ہے۔‘\n\nترجمان پمز کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’بورڈ نے پہلے سے طے شدہ مزید دیکھ بھال اور علاج کے مشورے کے لیے ہدایات کی سفارش کی۔‘\n\nڈاکٹروں کے مطابق عمران خان کو آنکھوں کی بیماری سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (Central Retinal Vein Occlusion) یا سی آر او تشخیص ہوئی ہے۔\n\nسی آر او میں ریٹینا کی مرکزی ورید میں خون کا لوتھڑا یا کلاٹ پھنس جاتا ہے اور خون کی واپسی میں رکاوٹ بنتا ہے، جس سے آنکھ کے اندر پانی جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔\n\nاس کے نتیجے میں ریٹینا میں سوجن آ جاتی ہے جس کے باعث نظر دھندلی یا کم ہو جاتی ہے۔\n\nدوسرا انجیکشن لگنے سے پہلے ہی ایک مرحلے پر کے رہنماؤں نے بتایا تھا کہ سابق وزیراعظم کی متاثرہ آنکھ کی بینائی میں بہتری واقعہ ہوئی ہے۔\n\nعمران کی بینائی کے متاثر ہونے کی خبر وصول ہونے کے بعد پی ٹی آئی پارلیمینٹیرینز نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے بعد دھرنا بھی دیا۔\n\nاسی دوران پی ٹی آئی ورکرز نے خینر پختونخوا کے مختلف مقامات پر احتجاج کیا اور دوسرے صوبوں کو جانے والی شاہراہوں کو کئی دن تک بند رکھا۔\n\nعمران خان\n\nپی ٹی آئی\n\nپمز\n\nبینائی\n\nعلاج\n\nطبی معائنہ\n\nاڈیالہ جیل\n\nپمز کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ایک میڈیکل بورڈ نے منگل (3 مارچ) کو عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ کیا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مارچ 4, 2026 - 08:15\n\nMain image:\n\n> <p>10 مارچھ 2024 کو پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور میں احتجاج کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کے پورٹریٹ اٹھا رکھے ہیں (عبدالمجید/ اے ایف پی)</p>\n\nسیاست\n\njw id:\n\nhqzrTc3W\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nعمران خان کو دوبارہ ہسپتال لایا گیا، دوسرا انجیکشن لگایا گیا: پمز\n\nعمران خان کو ڈاکٹروں اور خاندان تک رسائی دی جائے: برطانوی اراکین پارلیمان\n\nعمران خان کا کیا علاج ہو رہا ہے؟\n\nگواسکر سمیت کئی کرکٹ لیجنڈز کی پاکستان سے عمران خان کے لیے اپیل\n\nSEO Title:\n\nعمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ: ’بینائی میں نمایا بہتری آئی ہے‘ میڈیکل بورڈ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "عمران خان کا جیل میں طبی معائنہ: بینائی میں نمایا بہتری: میڈیکل بورڈ"
}