{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiaao6tk2qerrvujlp7itsutjutay442d4xzkgmqjikazx4pro45ze",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mg5f4hgdqip2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibmutcicxbovrtdnfi66fpkp2l4xf5ytbzg3swppf5jvkfffmigs4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 92064
  },
  "path": "/node/184899",
  "publishedAt": "2026-03-03T04:35:51.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران",
    "امریکہ",
    "اسرائیل",
    "جنگ",
    "آبنائے ہرمز",
    "سمندر",
    "خلیجی ممالک",
    "مشرق وسطیٰ",
    "صالحہ فیروز خان",
    "معیشت",
    "video"
  ],
  "textContent": "**امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کیا تھا جس نے دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ یہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان دنیا کے مختلف ملکوں سے آتا اور کو جاتا ہے۔**\n\nاس مصروف تجارتی آبی گزرگاہ کی بندش کے اثرات دنیا کے بیشتر ممالک پر ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے روزانہ دنیا کے تیل کا 20 فیصد حصہ اور قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کا 30 فیصد حصہ گزرتا ہے۔\n\nامریکہ کے توانائی کے ادارے اینرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق اس بحری راہداری سے ہر سال 600 ارب ڈالر کا سامان گزرتا ہے۔ اگر یہ لمبے عرصے کے لیے بند ہو گئی تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔\n\nایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے اہم سمندری گزر گاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام بحری جہازوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں۔\n\nماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کسی بھی وجہ سے یہ گزرگاہ بند رہتی ہے تو نہ صرف عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کو فوری بحران کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔\n\nاس تمام معاملے پر پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر احمد چنائے نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔‘\n\nعمانی جزیرے مسندم سے یکم مارچ 2026 کو بنائی گئی اس تصویر میں بحری جہاز آبنائے ہرمز میں کھڑے دکھائی دے رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nاحمد چنائے کہتے ہیں کہ ’یہی وجہ ہے کہ اگر ایران اس اہم گزرگاہ کو بند کر دیتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی فوری طور پر متاثر ہو گی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔‘\n\nاحمد چنائے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر ان ممالک پر پڑے گا جو خلیجی ریاستوں سے تیل درآمد کرتے ہیں۔\n\n’پاکستان بھی انہی ملکوں میں شامل ہے کیونکہ اس کی تقریباً 90 فیصد تیل کی درآمدات اسی راستے سے آتی ہیں۔ پاکستان کے بڑے سپلائرز میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہیں اور ان سب کی برآمدات بڑی حد تک آ بنائے ہرمز سے ہو کر گزرتی ہیں۔‘\n\nاحمد چنائے کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب کی تقریباً 80 سے 90 فیصد آئل ایکسپورٹس بھی اسی راستے سے گزرتی ہیں، جبکہ محدود مقدار متبادل پائپ لائنز یا دیگر روٹس کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔ اس لیے بندش کی صورت میں سعودی معیشت بھی دباؤ میں آ سکتی ہے۔‘\n\nاسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ ’اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 110 یا 120 ڈالر تک پہنچ جاتی ہے تو پاکستان میں مہنگائی کا شدید طوفان آ سکتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ صنعتی لاگت میں بھی اضافہ ہو گا، جس کے نتیجے میں برآمدات متاثر ہوں گی اور پاکستان کی عالمی منڈی میں مسابقتی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔\n\n2 مارچ 2026 کو 2026 پلینیٹ لیبز پی بی سی کی طرف سے لی گئی اس ہینڈ آؤٹ سیٹلائٹ تصویر میں آبنائے ہرمز کے ساتھ بندر عباس کی بندرگاہ سے ایک دھماکے کے بعد دھواں اٹھتا ہوا دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\n’مزید یہ کہ متبادل راستوں سے تیل کی ترسیل ممکن تو ہے لیکن بھاری فریٹ اور کنٹینر چارجر اسے معاشی طور پر کم قابلِ عمل بنا سکتے ہیں۔‘\n\nاحمد چنائے نے افغانستان کے تناظر میں بھی خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی مسائل اور دہشت گردی کے واقعات پہلے ہی خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ اگر توانائی بحران بھی اس میں شامل ہو گیا تو اس کے معاشی اور سلامتی سے متعلق اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں، کیونکہ موجودہ دور میں ہر شعبے کا دارومدار ایندھن اور توانائی پر ہے۔‘\n\nدوسری جانب انہوں نے ایل این جی کے حوالے سے کہا کہ ’اگرچہ قطر کے ساتھ پاکستان کے معاہدے موجود ہیں، تاہم اس وقت ملک میں گیس کی پیداوار اور طلب کے درمیان کسی حد تک توازن پایا جاتا ہے اور ایل این جی کی آمد بعض اوقات ضرورت سے زیادہ بھی ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر عارضی طور پر ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو یہ فوری طور پر بڑے بحران کا سبب نہیں بنے گی۔‘\n\nان کے مطابق موجودہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتی کیونکہ اس سے عالمی معیشت کو بھاری نقصان ہو گا۔ فضائی حدود کی بندش سے بیرونِ ملک پھنسے پاکستانیوں کے مسائل بڑھیں گے اور تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہو سکتی ہیں۔\n\n’لہٰذا تمام متعلقہ ممالک کو سنجیدہ سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کر کے عالمی اورعلاقائی معیشت کو استحکام دینا ہو گا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسٹاک مارکیٹ ماہر اور ٹریڈر جاوید خنانی نے آبنائے ہرمز کے راستوں کی ممکنہ بندش کو پاکستان کی معیشت کے لیے بڑانقصان کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس صورت حال کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں، تقسیم کار اداروں اور مجموعی صنعتی ڈھانچے پر بھی پڑیں گے، کیونکہ توانائی ہر شعبے کی بنیادی ضرورت ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ کووڈ کے دوران بھی ترسیلی نظام میں رکاوٹ آئی تھی، تاہم موجودہ صورت حال زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے، خصوصاً اگر فضائی حدود اور بحری راستے طویل عرصے تک بند رہتے ہیں۔‘\n\nماہرین کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو تیل اور گیس کی درآمدات کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اس پیش رفت کے گہرے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔\n\nآبنائے میں جہازوں کی گزرگاہ والا علاقہ ایرانی سمندر میں نہیں بلکہ عمان کے پانیوں میں واقع ہے۔ البتہ ایرانی بحریہ یہاں کوئی کارروائی کرے تو اس سے کمرشل جہازوں کی آمد و رفت بند ہو جائے گی۔\n\nایران ایک عرصے سے کہتا چلا آیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ اس آبنائے کو بند کر دے گا۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nاسرائیل\n\nجنگ\n\nآبنائے ہرمز\n\nسمندر\n\nخلیجی ممالک\n\nمشرق وسطیٰ\n\nاس مصروف تجارتی آبی گزرگاہ کے ذریعے روزانہ دنیا کے تیل کا 20 فیصد حصہ اور قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کا 30 فیصد حصہ گزرتا ہے\n\nصالحہ فیروز خان\n\nمنگل, مارچ 3, 2026 - 11:30\n\nMain image:\n\n> <p>25 فروری 2026 کو شمالی امارات کے آبنائے ہرمز میں ساحلی شہر فجیرہ کے قریب ایک کارگو جہاز دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\njw id:\n\nI7nEMDT9\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nمصروف آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش: دنیا پر کیا اثرات ہوں گے؟\n\nامریکہ، اسرائیل حملے کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، آبنائے ہرمز میں جہازوں کا داخلہ بند\n\nسینٹ کام کا ایران کو آبنائے ہرمز میں کارروائی پر انتباہ\n\nکیا ایران آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nآبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے پاکستانی معیشت پر کیا اثرات ہوں گے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے پاکستانی معیشت پر کیا اثرات ہوں گے؟"
}