{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibbbpjwbjm5ixte5gf63jqcpe4lxioehjrh3onhmrjqd6enhgbnoy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mg54smcsvdv2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreichg2i74dlr5rswjqnsu2bwt6la2dsjaigl6wnupaxmlvs6qf5ovq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 152477
},
"path": "/node/184900",
"publishedAt": "2026-03-03T05:13:58.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افواج پاکستان",
"افغانستان",
"سرحدی جھڑپیں",
"ڈرون",
"فضائی حملے",
"کابل",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**افغانستان کے دارالحکومت میں منگل کو دھماکوں، طیارہ شکن ہتھیاروں اور فائرنگ کی آوازوں سنی گئی ہیں اور یہ ایسے وقت ہوا جب افغان وزارتِ دفاع نے کہا کہ پاکستانی افواج کے خلاف ’لڑائی اب بھی جاری ہے۔‘**\n\nخبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے منگل کو کہا ہے کہ جلال آباد میں موجود اس کے ایک صحافی نے کابل میں متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنے جانے سے متعلق اطلاع دی۔\n\nجلال آباد سے تقریباً 50 کلومیٹر (30 میل) دور قریب ترین سرحدی گزرگاہ طورخم میں مقامی رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ کئی دنوں سے جاری لڑائی اب بھی جاری ہے۔\n\nدونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جمعرات سے سرحدی جھڑپیں جاری ہیں، جب افغانستان نے پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں سرحدی چوکیوں پر حملے کیے تھے۔\n\nافغان وزارت دفاع کی جانب سے جاری تازہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ رات صوبہ پروان میں پاکستان کی جانب سے آئے ڈرون کو ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا گیا ہے۔\n\nبیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے کرم میں سرحد پر قائم پاکستان فوج کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا ہے۔\n\nاے ایف پی کے مطابق افغان حکومت نے کہا ہےک جمعرات سے اب تک کم از کم 39 شہری مارے جا چکے ہیں، تاہم پاکستان نے اس تعداد پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔\n\nاقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے نے لڑائی میں بچوں کی اموات کی خبروں پر ’تشویش‘کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے ’زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور شہری جانوں کے تحفظ‘ کی اپیل کی۔\n\nاسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغانستان ان عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں، تاہم طالبان حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔\n\nسرحدی لڑائی نے افغانستان کے متعدد صوبوں کو متاثر کیا ہے۔\n\n**افغانستان اور پاکستان جھڑپیں بدستور جاری ہیں**\n\nپاکستان کے وزیراطلاعات عطا تارڑ نے افغانستان کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پیر کی سہ پہر تین بجے تک کارروائی میں افغان طالبان حکومت کے 435 افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ 630 سے زائد زخمی ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ اب تک کی کارروائی میں 188 چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 31 چوکیوں کو قبضے میں لیا گیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوزیراطلاعات نے کہا کہ اب تک کی کارروائی میں افغان فورسز کے 188 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے کو تباہ کیا جا چکا ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’افغانستان بھر میں 51 مقامات کو فضائی کارروائی کے ذریعے مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔‘\n\nدونوں ملکوں کے درمیان لگ بھگ 2,600 کلومیٹر (1,615 میل) طویل سرحد سرحد ہے اور یہ براہ راست لڑائی حالیہ برسوں کی شدید ترین جھڑپ ہے۔\n\n**بگرام ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا**\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز نے پیر کو طالبان کی وزارتِ دفاع کے حوالے سے کہا تھا کہ افغان فورسز نے صوبہ پکتیکا میں سرحد پر ایک پاکستانی فوجی بکتر بند ٹینک کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔\n\nاتوار کی شب افغان فورسز نے کہا تھا کہ پاکستانی جیٹ طیاروں نے کابل کے قریب واقع بگرام ایئر بیس پر بمباری کی کوشش کی، مگر انہیں روسی ساختہ ZU-23 طیارہ شکن توپوں کے ذریعے پسپا کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی مالی نقصان۔\n\n**پاکستان کا مؤقف: مسئلہ صرف عسکریت پسندی**\n\nافغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو پناہ دیتا ہے، جو پاکستان کے اندر تواتر سے حملے کر رہیں\n\nافغانستان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا اور پاکستان کے سکیورٹی مسائل اس کا اندرونی معاملہ ہیں۔\n\nپاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے رواں ہفتے اسلام آباد میں سفارت کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ پاکستان کی صرف ایک ہی درخواست ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔۔۔ ہمارا افغانستان کے ساتھ کوئی اور مسئلہ نہیں ہے۔‘\n\nافواج پاکستان\n\nافغانستان\n\nسرحدی جھڑپیں\n\nڈرون\n\nفضائی حملے\n\nکابل\n\nخبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے منگل کو کہا ہے کہ جلال آباد میں موجود اس کے ایک صحافی نے کابل میں متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنیں۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, مارچ 3, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p> 2 مارچ 2026 کو صوبہ خوست کے ضلع تری زئی میں ایک طالبان سکیورٹی اہلکار طیارہ تعینات ہے۔ (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان کا افغانستان اور خطے کی صورت حال پر غور\n\nافغانستان سے مختلف شہروں پر ڈرون حملے ناکام: پاکستان\n\nافغانستان میں کارروائی کا مقصد پاکستانیوں کا تحفظ یقینی بنانا تھا: دفتر خارجہ\n\n’پاکستان شاندار کام کر رہا ہے‘: افغانستان سے جنگ کے سوال پر ٹرمپ کا جواب\n\nSEO Title:\n\nکابل میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں، پاکستان افغانستان لڑائی جاری\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "کابل میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں، پاکستان افغانستان لڑائی جاری"
}