{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiegtaq3e4bb7p44dqpwbbciuiwlhmj2mf4mho5sqf6jtijx7ml3b4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mg54skqwcp22"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreian5nluyiij52qveugnk6x26umfiqlqsje3mfmyyic3bnlc6ds5b4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 129406
  },
  "path": "/node/184858",
  "publishedAt": "2026-03-03T05:30:28.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ممبئی",
    "انڈیا",
    "موسیقی",
    "روڈ",
    "سڑک",
    "معروشہ مظفر، نوپور جمبھیکر",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**انڈیا کی پہلی ’میوزیکل سڑک‘ کے افتتاح کو بمشکل دو ہفتے ہی گزرے ہیں لیکن مقامی رہائشی ابھی سے اس سے تنگ آ چکے ہیں۔ یہ سڑک اس طرح بنائی گئی ہے کہ جب گاڑیاں اس پر سے گزرتی ہیں تو ایک مشہور دھن بج اٹھتی ہے۔**\n\nسڑک کے ارد گرد رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ممبئی میں سڑک کا یہ حصہ، جسے اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ مقررہ رفتار سے گاڑیاں گزرنے پر آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’سلم ڈاگ ملین ایئر‘ کا گانا ’جے ہو‘ بجتا ہے جس سے ان کی روزمرہ زندگی میں خلل پڑتا ہے۔\n\nمغربی ریاست مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ دویندر فڑناوس کی جانب سے 11 فروری کو کھولی گئی 500 میٹر طویل یہ سڑک میوزیکل سڑکوں کے حوالے سے انڈیا کی پہلی کوشش ہے۔\n\nانجینیئرز نے سڑک کی سطح پر ایسی لکیریں بنائی ہیں تاکہ گزرنے والی گاڑیاں ارتعاش پیدا کر کے اس دھن کو بجا سکیں، جس سے یہ سڑک مؤثر طریقے سے ایک بڑے موسیقی کے آلے میں تبدیل ہو گئی ہے۔\n\n70 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر یہ دھن صاف سنائی دیتی ہے، جب کہ بہت تیز رفتاری سے آواز خراب ہو جاتی ہے، جس سے ڈرائیوروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ اپنی رفتار کم کریں۔\n\nحکام اس منصوبے کو جدت، تفریح اور روڈ سیفٹی کا امتزاج قرار دیتے ہیں۔ راستے پر لگے سائن بورڈ ڈرائیوروں کو بتاتے ہیں کہ موسیقی والے اس حصے کا تجربہ کیسے کیا جائے؟ حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کار سواروں کو چوکنا رکھنا ہے۔\n\nتاہم، پوش علاقے بریچ کینڈی کے رہائشیوں، جہاں مشہور شخصیات، صنعت کار اور دیگر اہم شخصیات رہائش پذیر ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ ان کی روزمرہ زندگی میں ایک مستقل اور انتہائی خلل ڈالنے والی چیز بن گئی ہے۔ جسے ابتدا میں ایک عارضی یا نئی چیز سمجھا گیا تھا، وہ ان کے الفاظ میں ایک ’وبال‘ بن گیا ہے۔\n\nبریچ کینڈی میں ٹاٹا گارڈنز کے قریب واقع ویبھو اپارٹمنٹس کی ایک رہائشی کویتا چاولہ نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’یہ آواز واقعی بہت پریشان کن ہے۔‘\n\n29 دسمبر 2023 کو ممبئی میں بحیرہ عرب کے ساحل کے ساتھ کوسٹل روڈ ایکسپریس وے کے ایک زیر تعمیر حصے پر مزدور کام کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n’ہمیں اس کی بالکل ضرورت نہیں۔ اور بھی بہت سے کام ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس پر پیسہ کیوں ضائع کیا؟‘\n\nوہ مزید کہتی ہیں کہ ’کم از کم رہائشیوں کا کچھ تو خیال رکھیں۔ ان لوگوں اور بچوں کے بارے میں سوچیں جن کے امتحانات ہو رہے ہیں، وہ اس شور میں پڑھ نہیں سکتے۔‘\n\n650 سے زائد خاندانوں نے میونسپل حکام سے شکایت کی ہے کہ گانے کا مسلسل بجنا ایک ’پس منظر کا پریشان کن شور‘ بن گیا ہے۔\n\nمقامی شہری ادارے کے سربراہ بھوشن گاگرانی کو لکھے گئے ان کے خط میں کہا گیا ہے کہ ’رہائشی اپنی کھڑکیاں کھلی رکھنے سے قاصر ہیں۔ خاص طور پر معمر شہریوں نے شدید تکلیف کا اظہار کیا ہے۔ یہ آواز گھروں میں ایک مستقل، دبی ہوئی لیکن پریشان کن پس منظر کی آواز کے طور پر داخل ہوتی ہے۔‘\n\nرہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے یہ خط مشرقی مضافات کے ایڈیشنل میونسپل کمشنر اویناش ڈھکنے کو بھی بھیجا ہے۔ لیکن اویناش ڈھکنے نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ انہیں یہ خط نہیں ملا، اور انہوں نے اس بارے میں صرف مقامی اخبارات میں پڑھا ہے۔\n\nبھوشن گاگرانی نے کہا: ’ہمیں ایسی کوئی پریشانی نظر نہیں آتی۔ یہ بمشکل 500 میٹر کا فاصلہ ہے۔ ٹریفک کی حفاظت کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم، ہم ان شکایات کا جائزہ لیں گے۔‘\n\nرہائشیوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ میوزیکل سڑک اپنے طور پر حفاظتی خدشات پیدا کر سکتی ہے۔ ان کی شکایت میں کہا گیا ہے کہ تیز رفتار سڑک پر آواز کی وجہ سے دھیان بٹنا خطرات کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر کیوں کہ حکام سڑک پر تیز رفتار اور بھاری انجن والی گاڑیوں جیسے فوری مسائل کو حل کرنے کے بجائے نئی چیزوں کو ترجیح دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔\n\nرہائشیوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر ٹریفک کا مسلسل شور پہلے ہی زیادہ سے زیادہ شور کی حد کی خلاف ورزی کر رہا تھا، اور میوزیکل لکیریں متعارف کرائے جانے کے بعد، یہ شور بہت زیادہ پریشان کن ہو گیا ہے جس سے نیند، توجہ اور روزمرہ زندگی کا معمول متاثر ہو رہا ہے۔\n\nانہوں نے نشاندہی کی ہے کہ سمندری ہوا اور قریبی عمارتوں سے آواز ٹکرا کر جس طرح پھیلتی ہے، اس سے لگتا ہے کہ یہ دھن اتنی زیادہ تیز ہو کر رہائشی علاقوں کے اندر تک پہنچ رہی ہے جس کی منصوبہ سازوں نے شاید توقع بھی نہیں کی تھی۔\n\nویبھو اپارٹمنٹس کی 22ویں منزل پر رہنے والی ایک اور رہائشی نمرتا سنگھائی کے بقول: ’ہمارے پاس حال ہی میں یہ نئی میوزیکل سڑک بنی ہے، اور میں کہوں گی کہ یہ ایک وبال ہے۔ یہ 24 گھنٹے اور ساتوں دن کا مسئلہ ہے۔ یہ بہت، بہت پریشان کن ہے۔ میرے گھر میں میرے سسر ہیں جو کافی ضعیف ہیں، اور یہ ان کے لیے بہت پریشان کن ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’میرے بیٹے کے 12ویں کے امتحانات ہو رہے ہیں اور وہ سارا دن کھڑکی بند کر کے بیٹھا رہتا ہے، جو صحت کے لیے واقعی زیادہ اچھا نہیں ہے، لیکن ہمارے پاس واقعی کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ بہت زیادہ کوفت میں مبتلا کرنے والا اور بہت ہی پریشان کن ہے۔‘\n\n’اسے بند کریں۔ فوراً۔ مکمل طور پر۔ اسے بند کریں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمیوزیکل سڑکوں کا آغاز جاپان سے ہوا، جہاں انہیں 2007 میں انجینیئر شیزو شینوڈا نے بنایا تھا۔ اس کے بعد سے یہ ہنگری، جنوبی کوریا، متحدہ عرب امارات اور امریکہ جیسے ممالک میں نظر آئی ہیں۔ عام طور پر، یہ سڑکیں کم آبادی والے علاقوں میں واقع ہوتی ہیں، جس سے قریبی آبادیوں کو کم سے کم پریشانی ہوتی ہے۔\n\nاس کے برعکس، ممبئی کی یہ سڑک براہ راست ایک گنجان آباد اور امیر علاقے سے گزرتی ہے۔\n\nموسیقی والا یہ راستہ ممبئی کی کوسٹل روڈ کا حصہ ہے، جو 160 کروڑ ڈالر (118 کروڑ پاؤنڈز) کا ایک منصوبہ ہے جسے زیادہ تر بحیرہ عرب سے حاصل کی گئی زمین پر بنایا گیا ہے اور یہ 2011 میں اپنے آغاز سے ہی متنازع رہا ہے۔\n\nاگرچہ اس نے میرین ڈرائیو اور ورلی کے درمیان سفر کا وقت 45 منٹ سے کم کر کے 10 منٹ کر دیا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے بنیادی طور پر امیر کار مالکان کو فائدہ ہوتا ہے، جب کہ شہر کی وسیع تر آبادی، جو پرہجوم پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتی ہے، بڑی حد تک اس کے فوائد سے محروم رہتی ہے۔\n\nرہائشیوں نے اپنے خط میں کہا: ’رہائشی بار بار سنگین شہری مسائل اٹھانے سے تیزی سے تھک رہے ہیں، لیکن وہ دیکھتے ہیں کہ توجہ ایسی غیر ضروری چیزوں پر مرکوز ہے جن سے بچا جا سکتا تھا۔‘\n\nمحترمہ سنگھائی کی دلیل ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ’پوری جگہ کو سرسبز بنانے‘ یا عوامی سہولیات کو بہتر بنانے پر زیادہ بہتر طریقے سے خرچ کیا جا سکتا ہے۔\n\nتاہم، کچھ رہائشیوں کو اس شور سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔\n\nبریچ کینڈی کے قریب ایک کیفے کے مالک گورو کیسرکر کہتے ہیں: ’میں اسے کوئی درد سر نہیں سمجھتا۔ آواز یہاں تک بالکل نہیں پہنچتی۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ کیوں سوچ رہے ہیں کہ یہ ایک وبال ہے، یا انہیں اپنی کھڑکیاں بند کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے۔ یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔‘\n\nممبئی\n\nانڈیا\n\nموسیقی\n\nروڈ\n\nسڑک\n\nمخصوص رفتار پر فلمی دھن بجانے کے لیے تیار کی گئی اس سڑک کا مقصد حفاظت کو فروغ دینا ہے لیکن وہ مصروف علاقے کے رہائشیوں کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی۔\n\nمعروشہ مظفر، نوپور جمبھیکر\n\nمنگل, مارچ 3, 2026 - 10:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ممبئی کی کوسٹل روڈ جہاں 500 میٹر طویل میوزیکل حصے پر سے گاڑیوں کے گزرنے پر فلمی گانے کی دھن بجتی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکے پوپ میوزیکل شو: بھگدڑ مچنے سے 30 افراد بے ہوش\n\nکلاسک میوزیکل رومانی فلم ’دیوداس‘ کی نمائش کے 20 سال\n\nانسان مصنوعی ذہانت اور حقیقی موسیقی میں ’فرق نہیں کر پاتے‘\n\nانتہائی نگہداشت کے مریضوں میں موسیقی مددگار: تحقیق\n\nSEO Title:\n\nانڈیا کی پہلی میوزیکل روڈ سے لوگ تنگ کیوں ہیں؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/india/mumbai-musical-coastal-road-breach-candy-b2925602.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "انڈیا کی پہلی میوزیکل روڈ سے لوگ تنگ کیوں ہیں؟"
}