{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiehdya52afxfhm6y6jqvqlgrgwcpfxyvwtnelfnyudzcx6ouwjnna",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mg4h3znvohm2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicgichptigt55tpzt2dchh7xx26ecqrjjk2abuawokipigju7sibi"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 111836
  },
  "path": "/node/184890",
  "publishedAt": "2026-03-02T05:55:17.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران",
    "امریکہ",
    "عرب ممالک",
    "مشرق وسطیٰ",
    "اسرائیل",
    "حملے",
    "جنگ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news",
    "@KSAmofaEN"
  ],
  "textContent": "**خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی وزارتی کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں پڑوسی مسلمان ممالک پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔**\n\nیہ ہنگامی اجلاس اتوار، یکم مارچ 2026، کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد ہوا، جس کی صدارت مملکت بحرین کے وزیر خارجہ اور جی سی سی وزارتی کونسل کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی۔\n\nاجلاس میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سعودی عرب، عمان، قطر اور کویت پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد صورت حال پر غور کیا گیا۔ ان حملوں کا آغاز ہفتہ، 28 فروری 2026 کو ہوا تھا۔\n\nکونسل نے جی سی سی ممالک کے علاوہ اردن کو نشانہ بنانے والے ان ’گھناؤنے‘ ایرانی حملوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کی شدید ترین مذمت کی اور کہا کہ یہ حملے ان ممالک کی خودمختاری، حسن ہمسائیگی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔\n\nکانفرنس میں کہا گیا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔\n\nسعودی وزارت خارجہ نے جی سی سی کے اجلاس کی تصاویر ایکس پر شیئر کیں۔\n\nایران پر امریکی اور اسرائیل کے حملے کے بعد تہران کی طرف سے خلیجی ممالک اور اردن پر میزائل حملے کیے گئے۔\n\nکونسل نے جی سی سی ممالک کے درمیان مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور ان حملوں کے خلاف متحد کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’اس کے رکن ممالک کی سکیورٹی ناقابل تقسیم ہے، اور جی سی سی چارٹر اور مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق کسی بھی رکن ریاست پر جارحیت تمام جی سی سی ممالک پر براہ راست حملہ ہے۔‘\n\nکونسل نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق جی سی سی ممالک کے جواب دینے کے قانونی حق کی توثیق کی، جو جارحیت کی صورت میں انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے دفاع اور اپنی خودمختاری، سکیورٹی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام اقدامات کرنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔\n\nوزارتی کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ جی سی سی ممالک کے خلاف اس بلاجواز ایرانی جارحیت کے تناظر میں، وہ اپنی سکیورٹی، استحکام کے دفاع اور اپنی سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے، جن میں جارحیت کا جواب دینے کا آپشن بھی شامل ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nکشیدگی سے بچنے کے لیے جی سی سی ممالک کی متعدد سفارتی کوششوں اور ان کی اس یقین دہانی کے باوجود کہ ان کی سرزمین ایران پر کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی، ایران نے جی سی سی ممالک کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھیں اور کئی شہری اور رہائشی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔\n\nوزارتی کونسل نے خطے میں سکیورٹی، امن اور استحکام کی بحالی کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا اور خطے میں فضائی، سمندری اور آبی گزرگاہوں کی سکیورٹی، سپلائی چینز کے تحفظ اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے استحکام کو یقینی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔\n\nایک بیان میں کہا گیا کہ خلیجی خطے کا استحکام نہ صرف ایک علاقائی مسئلہ ہے بلکہ یہ عالمی اقتصادی استحکام اور بحری جہاز رانی کے لیے بھی ایک بنیادی ستون ہے۔\n\nوزارتی کونسل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے ان حملوں کی شدید مذمت کرے اور سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ایک فوری اور مضبوط موقف اپنائے تاکہ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والی ان خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے اور علاقائی و بین الاقوامی امن پر ان کے سنگین اثرات کے پیش نظر ان کے دوبارہ ہونے کا سدباب کیا جا سکے۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nعرب ممالک\n\nمشرق وسطیٰ\n\nاسرائیل\n\nحملے\n\nجنگ\n\nخلیجی تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کہ غیر معمولی اجلاس میں کہا گیا کہ جی سی سی چارٹر اور مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق کسی بھی رکن ریاست پر جارحیت تمام جی سی سی ممالک پر براہ راست حملہ ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, مارچ 2, 2026 - 10:45\n\nMain image:\n\n> <p>یکم مارچ 2026 کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ایک ہنگامی اجلاس کا منظر، جس کی صدارت مملکت بحرین کے وزیر خارجہ اور جی سی سی وزارتی کونسل کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی (@KSAmofaEN)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران جنگ: مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد چھ ہوگئی\n\nسابق ایرانی صدراحمدی نژاد کی حملوں میں موت سے متعلق متضاد خبریں\n\nامریکہ، اسرائیل حملے کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، آبنائے ہرمز میں جہازوں کا داخلہ بند\n\nایران پر اسرائیلی حملے خطے میں بدامنی کے لیے بڑا منصوبہ ہے: افغان طالبان\n\nSEO Title:\n\nرکن ممالک جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں: خلیج تعاون کونسل\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "رکن ممالک جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں: خلیج تعاون کونسل"
}