{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreieowvlvwbq23pmoj7me536ncxsertqhh4d4l6jyi4wcazkw7rbyqq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfyavslx5wl2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreih625wpys632r6nxtz72rgxtpzvlhgvpzhmwtsb4i66uvq5bd7b3a"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 152410
  },
  "path": "/node/184875",
  "publishedAt": "2026-03-01T06:15:46.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "hormuz.jpg",
    "آبنائے ہرمز",
    "ایران",
    "پاسداران انقلاب",
    "امریکہ",
    "اسرائیل",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے اہم سمندری گزر گاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام بحری جہازوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں۔**\n\nاس مصروف تجارتی آبی گزرگاہ کی بندش کے اثرات دنیا کے بیشتر ممالک پر ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے روزانہ دنیا کے تیل کا 20 فیصد حصہ اور قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کا 30 فیصد حصہ گزرتا ہے۔\n\nامریکہ کے توانائی کے ادارے اینرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق اس بحری راہداری سے ہر سال 600 ارب ڈالر کا سامان گزرتا ہے۔ اگر یہ لمبے عرصے کے لیے بند ہو گئی تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔\n\n**آبنائے ہرمز کیا ہے؟**\n\nآبنائے ہرمز عمان اور ایران کے درمیان ایک بحری پٹی ہے۔ اپنے سب سے تنگ مقام پر یہ 33 کلومیٹر چوڑی ہے، لیکن اس مقام پر جہازرانی کا راستہ صرف تین کلومیٹر چوڑا ہے۔\n\nآبنائے ہرمز دنیا کی مصروف ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ 30 سے 40 بحری جہاز گزرتے ہیں۔ یہ جہاز دو کروڑ سے زیادہ بیرل تیل لے کر جاتے ہیں۔\n\nیہی نہیں بلکہ تمام خطے کو فراہم کیے جانے والا ساز و سامان بھی اسی راستے سے آتا ہے۔\n\n\n\n## hormuz.jpg\n\n\n\nآبنائے میں جہازوں کی گزرگاہ والا علاقہ ایرانی سمندر میں نہیں بلکہ عمان کے پانیوں میں واقع ہے۔ البتہ ایرانی بحریہ یہاں کوئی کارروائی کرے تو اس سے کمرشل جہازوں کی آمد و رفت بند ہو جائے گی۔\n\nایران ایک عرصے سے کہتا چلا آیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ اس آبنائے کو بند کر دے گا۔ خدشہ ہے کہ اس گزرگاہ کی بندش سے تیل کی قیمتیں یک دم بڑھ جائیں گی اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔\n\n**امریکہ اور دوسرے ملکوں کا ردعمل کیا ہو گا؟**\n\nآبنائے ہرمز کے قریب بحرین میں قائم 34 ملکوں کا بین الاقوامی اتحاد جہاز رانی کی حفاظت کے لیے موجود ہے۔ امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ بھی قریب ہی تعینات ہے اور ان کی طرف سے اس بندش کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔\n\nایک اور اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان خود ایران کو ہو گا کہ کیوں کہ یہاں سے گزرنے والے 83 فیصد تیل کا خریدار ایشیا ہے، صرف 7.5 فیصد یورپ کو جاتا ہے۔ خود ایرانی تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، جس سے آنے والی آمدن کی موجودہ حالات میں اسے سخت ضرورت ہے۔\n\nآبنائے ہرمز\n\nایران\n\nپاسداران انقلاب\n\nامریکہ\n\nاسرائیل\n\nاسرائیل اور امریکہ کے حملے کے بعد پاسدارن انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, مارچ 1, 2026 - 11:30\n\nMain image:\n\n> <p>31 دسمبر 2022 کو ایرانی بحریہ آبنائے ہرمز کے قریب مشقوں میں حصہ لے رہی ہے۔ (اے ایف پی ہینڈ آف ایران آرمی آفس)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟\n\nآبنائے باب المندب: بحیرہ احمر کی گزرگاہ کے بند ہونے سے تجارت پر کیا اثر پڑے گا؟\n\nامریکہ، اسرائیل حملے کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، آبنائے ہرمز میں جہازوں کا داخلہ بند\n\nSEO Title:\n\nمصروف آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش: دنیا پر کیا اثرات ہوں گے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "مصروف آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش: دنیا پر کیا اثرات ہوں گے؟"
}