{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiblttv4ccr4cx2vr6jlmlewp5rx6xykumkezj4voz3skgz2jsddna",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfy273lwjdi2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiefg47qwfmffpsrcpkgpvjj4mwkeankuw5yk3av3odo6zh47dxh6e"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 126366
  },
  "path": "/node/184864",
  "publishedAt": "2026-03-01T03:00:35.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران",
    "امریکہ",
    "مشرق وسطیٰ",
    "امریکی فوجی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ہفتے کی صبح امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملوں کا آغاز کیا، جس کے جواب میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ کے چند ملکوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق کویت، بحرین، عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔**\n\nمشرقِ وسطیٰ میں 1958 سے امریکی اڈے موجود ہیں۔ کونسل آن فارن ریلیشینز کی ایک رپورٹ کے مطابق ان اڈوں کی تعداد کم از کم 19 ہے، جن میں سے آٹھ مستقل اڈے ہیں جو بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں واقع ہیں۔ ان میں 40 سے 50 ہزار تک امریکی فوجی تعینات ہیں، تاہم ان کی تعداد بدلتی رہتی ہے۔\n\nمشرق وسطیٰ میں اہم امریکی فوجی تنصیبات درج ذیل ہے۔\n\n**قطر**\n\nمشرقِ وسطیٰ میں سب سے اہم امریکی اڈہ العدید ایئر بیس ہے جو قطر میں واقع ہے، اور یہاں تقریباً دس ہزار فوجیوں کے علاوہ 100 طیارے اور متعدد ڈرونز موجود ہیں۔ یہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے فارورڈ ہیڈ کوارٹرز کے طور پر کام کرتا ہے اور عراق، شام اور افغانستان میں ہونے والے آپریشنز کے لیے اس کی حیثیت مرکزی رہی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**بحرین**\n\nبحرین میں امریکی بحریہ کے فِفتھ فلیٹ کے ہیڈ کوارٹر کا مرکز واقع ہے، جس کی ذمہ داری کے علاقوں میں خلیج عرب، بحیرہ احمر، بحیرہ عرب اور بحر ہند کے کچھ حصے شامل ہیں۔\n\n**کویت**\n\nکویت میں کئی امریکی فوجی تنصیبات ہیں جن میں کیمپ عریفجان شامل ہے، جو امریکی آرمی سینٹرل کا فارورڈ ہیڈ کوارٹر ہے۔ اس کے علاوہ یہیں علی السالم ایئر بیس بھی ہے جو عراقی سرحد سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ہے۔\n\nکیمپ بیوہرنگ 2003 کی عراق جنگ کے دوران قائم کیا گیا تھا اور یہ امریکی آرمی کی ویب سائٹ کے مطابق عراق اور شام میں تعینات ہونے والی امریکی آرمی یونٹس کے لیے سٹیجنگ پوسٹ ہے۔\n\n**متحدہ عرب امارات**\n\nالظفرہ ایئر بیس، متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی کے جنوب میں واقع ہے اور امریکی فضائیہ کا ایک اہم مرکز ہے، جس نے داعش کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔\n\nدبئی کی جبل علی بندرگاہ اگرچہ ایک باقاعدہ فوجی اڈہ نہیں ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں امریکی بحریہ کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے جہاں بڑی تعداد میں امریکی طیارہ بردار جہاز اور دیگر بحری جہاز ٹھہرتے ہیں۔\n\nمشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے (روئٹرز)\n\n\n\n\n**عراق**\n\nصوبہ انبار میں عین الاسد میں امریکی ایئر بیس موجود ہے، جو وائٹ ہاؤس کے مطابق نیٹو مشنز میں حصہ لیتی ہے۔ 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں ایران نے اس اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔\n\nشمالی عراق کے نیم خودمختار کردستان خطے میں واقع، اربیل ایئر بیس امریکی اور اتحادی افواج کا تربیتی مرکز ہے، جہاں تربیتی مشقوں اور جنگی ڈرلز انجام دی جاتی ہیں۔\n\n**اردن**\n\nازرق میں واقع دارالحکومت عمان سے 100 کلومیٹر شمال مشرق میں، موفق الصلتی ایئر بیس امریکی ایئر فورسز سینٹرل کا 332ویں ایئر ایکسپیڈیشنری ونگ تعینات ہے، جو بلاد شام میں مشنوں میں مصروف ہے۔\n\n**سعودی عرب**\n\nوائٹ ہاؤس کے مطابق سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کی 2024 میں تعداد 2,321 تھی۔ سعودی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی سے کام کرتے ہیں، فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں۔\n\n**ڈیاگو گارشیا**\n\nیہ اڈا مشرقِ وسطیٰ میں نہیں بلکہ بحیرۂ عرب میں واقع ہے، تاہم اس کی موجودہ جنگ میں بےحد اہمیت ہے۔ 18 فروری کو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس اڈے کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔\n\nبعض اطلاعات کے مطابق یہاں خطرناک بی 52 بمبار طیارے موجود ہیں۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nمشرق وسطیٰ\n\nامریکی فوجی\n\nایک رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے تقریباً 19 اڈے ہیں جہاں فوجیوں اور اسلحے کی تعداد بدلتی رہتی ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, فروری 28, 2026 - 08:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی صدر ٹرمپ نے 15 مئی 2025 کو العُدید ایئر بیس کا دورہ کیا تھا (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ، اسرائیل حملے کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، آبنائے ہرمز میں جہازوں کا داخلہ بند\n\nسعودی عرب کی ریاض اور مشرقی علاقوں پر ایرانی حملوں کی مذمت\n\nایران پر حملہ: پی آئی اے سمیت کئی ایئر لائنز کی مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں معطل\n\nایران پر امریکی حملہ، اصل ہدف کیا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nمشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے کہاں کہاں ہیں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے کہاں کہاں ہیں؟"
}