{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifqs5yaf2bmpkh57lgayvq447ilgaykiomcdz22xreg2y26zy3kda",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfxm7stig672"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifwpb2brdimhzdule3bdpotovj6q7lomnjf4twq4pyxte7azacf6i"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 122369
},
"path": "/node/184861",
"publishedAt": "2026-02-28T10:01:48.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"امریکی اور اسرائیلی کی ایران پر حملے",
"القاعدہ کا کوئی رہنما",
"صدام حسین",
"ایران",
"امریکہ",
"اسرائیل",
"احمد الشرع",
"ہارون رشید",
"نقطۂ نظر",
"news"
],
"textContent": "**امریکی اور اسرائیلی کی ایران پر حملے کی بےصبری سنیچر کو اچانک حملوں سے واضح ہو چکی ہے۔ دراصل تمام تر دباؤ اور جنگی حالات پیدا کرنے کا بڑا مقصد جوہری ہتھیار نہیں بلکہ ’رجیم چینج‘ ہے۔**\n\nاسرائیل کے حملے سے چند گھنٹے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں مصروف ملک عمان کے اعلی سفارت کار اور وزیر خارجہ بدر بن حمد البسیدی نے اعلان کیا کہ ایران اس بات پر آمادہ ہو گیا ہے کہ وہ افزودہ یورینیم کبھی نہیں رکھے گا۔ انہیں یقین تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے تمام مسائل چند مہینوں میں خوش اسلوبی اور جامع طریقے سے حل ہو سکتے ہیں۔\n\nیہ بعض ماہرین کے مطابق ایک بڑی اور غیر معمولی پیش رفت تھی۔ لیکن امریکہ اور اسرائیل بظاہر اپنا ذہن حملے کے لیے بنا چکے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان جنگ کے ویڈیو میں بھی حملے کی دو بڑی وجوہات بیان کیں۔ ایک 47 سال سے ایران کا ’مرگ بہ امریکہ‘ نعرہ اور دوسرا بظاہر ’ایرانی عوام‘ کی جانب سے امریکہ کو مداخلت اور مدد کی اپیل۔\n\nاس خطے میں نئی جنگ سے تین آپس میں جڑے مسلمان ممالک بدقسمتی میں جنگی حالت میں پھنس گئے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان پہلے ہی کئی دن بلکہ ماہ سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک دوسرے کو دیکھ اور للکار رہے ہیں۔ اب ایران بھی ایک ایسی جنگ میں الجھ گیا جس کا دورانیہ اسرائیلی حکومت کے مطابق تو چار روز ہو سکتا ہے لیکن ایران کی حکومت اور عوام کے لیے یہ ایک طویل مدتی عدم استحکام کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔\n\nدفاعی ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف حملہ امریکی فوج کے لیے ایک مشکل اور پیچیدہ آپریشن ہو گا۔ صرف اس لیے ایران کو تر نوالہ سمجھنا کہ اس کی حکومت سیاسی طور پر اندرونی دباؤ میں ہے، اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ وہ فوجی طور پر بھی کمزور ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایرانی حکومت کی جانب سے حالیہ احتجاج کو دبانے کی اس کی سخت حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ ملک کا سکیورٹی نظام خصوصا اسلامی انقلابی گارڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوئے ہیں۔ اسی لیے صدر ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کو خصوصی طور پر مزاحمت نہ کرنے کی تجویز دی ہے۔\n\nامریکہ کے پاس خطے میں اتنے فوجی وسائل تو ہیں کہ وہ چند دن ایک محدود مشن چلا سکے لیکن طویل مدت کے لیے اسے جاری رکھنا اس کے لیے بھی مشکل ہوگا۔ پینٹاگون نے خطے میں مزید فوجی طاقت کی ضرورت کے بارے میں اسی لیے پوچھے سوالات وائٹ ہاؤس سے پوچھنے کی بات کی۔\n\nامریکی صدر نے اپنے ویڈیو پیغام میں پاسداران انقلاب کو نہ صرف ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دیا بلکہ عوام سے کہا کہ وہ بعد میں خود ملک کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ کسی مقبول متبادل ایرانی قیادت کی غیر موجودگی میں یہ کیسے ممکن ہو گا کچھ واضح نہیں۔ امریکہ اور اسرائیل موجودہ ایران قیادت سے بس جان چھڑانا چاہتے ہیں باقی شام کی طرح بےشک داعش یا القاعدہ کا کوئی رہنما ہی سامنے آئے ان کی بلا سے۔\n\nرجیم چینج کا ایک اور تجربہ امریکہ نے عراق میں بھی کیا تھا، لیکن فرق یہ ہے کہ وہاں صدام حسین جیسے ڈکٹیٹر کی حکومت تھی جس کی جڑیں عوام میں نہیں تھیں، ایران کا معاملہ بظاہر اس سے مختلف ہے۔ حالیہ ہفتوں میں حکومت کی حمایت میں بھی بہت سے لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں، اس لیے وہاں کی رجیم چینج اتنی آسانی سے نہیں ہو سکے گی۔\n\nایران نے ایک روز قبل ہی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ کابل میں ایران کے سفارت خانے نے اعلان کیا کہ ایران افغانستان کی عبوری حکومت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔ سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی وزارت خارجہ میں جنوبی ایشیا کے امور کے ڈائریکٹر جنرل علی رضا بہرامی نے طالبان حکام اور پاکستان کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے کے لیے تہران کی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔\n\nاس سے قبل، ایران کی وزارت خارجہ نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔ وزارت نے فوری طور پر مذاکرات کے آغاز پر زور دیا تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔ لیکن شاید پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی کوشش بھی امریکہ کو پسند نہیں آئی۔ اس کے برعکس صدر ٹرمپ نے دونوں ہمسایہ مملک کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اسلام آباد ’بہت شاندار کام‘ کر رہا ہے۔ یعنی پاکستان کی حکمت عملی کو امریکہ کی حمایت بظاہر حاصل ہے۔\n\nایران نے جس طرح سے حملے کے ردعمل کی دھمکی میں کہا تھا کہ پھر یہ امریکہ، اسرائیل اور ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خلیج کے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔\n\nاس امریکی حکمت عملی سے واضح ہے کہ امریکہ اس خطے میں امن یا پائیدار استحکام کا فی الحال متمنی نہیں ہے۔ کچھ آپس میں لڑا کر اور کچھ سے خود لڑ کر انہیں ترقی اور استحکام سے دور ہی رکھنا اس کی سوچ کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ ماضی کے استعماری نظام کی شاید یہ نئی شکل و صورت ہے؟\n\nایران\n\nامریکہ\n\nاسرائیل\n\nصدام حسین\n\nاحمد الشرع\n\nامریکی حکمت عملی سے واضح ہے کہ امریکہ اس خطے میں امن یا پائیدار استحکام کا فی الحال متمنی نہیں ہے۔ کچھ آپس میں لڑا کر اور کچھ سے خود لڑ کر انہیں ترقی اور استحکام سے دور ہی رکھنا اس کی سوچ کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔\n\nہارون رشید\n\nہفتہ, فروری 28, 2026 - 15:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">تہران میں 28 فروری 2026 کو ایک عمارت سے دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ، اسرائیل حملے کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، آبنائے ہرمز میں جہازوں کا داخلہ بند\n\nایران میں پاکستانیوں کو سفری دستاویزات تیار رکھنے کی ہدایت\n\nامریکی حملے کی صورت میں ’سخت جوابی کارروائی‘ کا ایرانی انتباہ\n\nایران امریکہ مذاکرات جمعے کو عمان میں ہوں گے: ایرانی نیوز ایجنسی\n\nSEO Title:\n\nایران پر امریکی حملہ، اصل ہدف کیا ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ایران پر امریکی حملہ، اصل ہدف کیا ہے؟"
}