{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreietijw34bl7xunojwmclafup7smwwv7lbwayrq7ctzwmhoukjq654",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfxm7mzoqyr2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifrqmjui2q2j27zvmt4vs2m4wrlrhlj46dlnvaxuhbdpehv3w2x3a"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 61630
},
"path": "/node/184859",
"publishedAt": "2026-02-28T10:30:52.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"IndependentUrdu",
"Iran",
"StraightofHormuz",
"pic.twitter.com/uw0RtWGKku",
"February 28, 2026",
"WhatsApp Image 2026-02-28 at 8.32.55 PM.jpeg",
"AFP__20260228__99BP7T3__v1__MidRes__SyriaIsraelUsIranConflict.jpg",
"HCPuVdXaoAE0vnR.jpg",
"pic.twitter.com/kRiamgeCpS",
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"zeeshan.haider",
"ایران",
"اسرائیل",
"امریکہ",
"اعلان جنگ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"video",
"@indyurdu",
"@PahlaviReza"
],
"textContent": " * **امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کو ایران پر حملہ کر دیا ہے، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے مطابق ایران سے ان کو درپیش ’خطرات‘ کو کم کرنا ہے۔**\n * **امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف پر حملوں کو آپریشن ایپک فیوری (Operation Epic Fury) کا نام دیا ہے۔**\n * **ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔**\n * **ایران نے اسرائیل اور****مختلف خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی طرف میزائل داغے ہیں۔**\n\n\n---\n\n* * *\n\n**تازہ ترین اپ ڈیٹس**\n\n**رات 11 بج کر 25 منٹ: ’کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں‘**\n\n> ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت بند کر دی#IndependentUrdu #Iran #StraightofHormuz pic.twitter.com/uw0RtWGKku\n>\n> — Independent Urdu (@indyurdu) February 28, 2026\n\n* * *\n\n**رات 10 بج کر 05 منٹ: ’کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں‘**\n\nیورپی یونین کے بحری مشن کے ایک عہدیدار نے ہفتے کو بتایا کہ ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے وی ایچ ایف ریڈیو کے ذریعے جہازوں کو یہ پیغام موصول ہوا ہے کہ ’کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں۔‘\n\nیورپی بحری مشن کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایران نے تاحال باقدعدہ طور پر ایسے کسی حکم نامے کی تصدیق نہیں کی ہے۔\n\n* * *\n\n**رات 9 بج کر 40 منٹ: بحری جہاز خلیج سے دور رہیں**\n\nامریکی محکمہ ٹرانسپورٹ نے ہفتہ کو تجارتی بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ خلیج کے علاقے سے دور رہیں۔\n\nمحکمے کی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن نے ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز، خلیج عرب، خلیج عمان اور بحیرۂ عرب میں اس وقت نمایاں عسکری سرگرمیاں جاری ہیں، اس لیے درخواست کی جاتی ہے کہ جہاز جہاں تک ممکن ہو اس علاقے سے گریز کریں۔\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ کے پرچم تلے چلنے والے، امریکی ملکیت یا امریکی عملے کے حامل جہاز کسی بھی امریکی عسکری جہاز سے کم از کم 30 ناٹیکل میل کے فاصلے پر رہیں، تاکہ انہیں غلطی سے خطرہ نہ سمجھ لیا جائے۔\n\n* * *\n\n**رات 9 بج کر 38 منٹ: صدر ٹرمپ ایرانی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں: وائٹ ہاؤس**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ معاونین ہفتہ کو اپنے فلوریڈا ریزورٹ سے ایران کی صورت حال پر نظر رکھے رہے۔\n\nوائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایکس پر کہا، ’صدر اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم پورے دن صورت حال پر قریبی نظر رکھیں گے، اور مزید کہا کہ ٹرمپ نے بھی مارلاگو میں رات بھر صورت حال کی نگرانی کی۔‘\n\nادھر اسرائیل کے ایک فوجی سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کے ایران پر جاری حملے اس ملک کے خلاف ایک ’غیرمعمولی‘ کارروائی کا حصہ ہیں۔\n\nلیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا: ’ہم دفاعی اور جارحانہ دونوں لحاظ سے اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہم اب ایرانی دہشت گرد حکومت کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم، فیصلہ کن اور غیرمعمولی آپریشن کر رہے ہیں۔\n\n* * *\n\n**رات 8 بج کر 48 منٹ: ایرانی سپریم رہنما زندہ ہیں: وزیر خارجہ**\n\nایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کے سپریم رہنما اور تمام اعلیٰ حکام امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود زندہ ہیں۔\n\nوزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے این بی سی نیوز کو تہران سے دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ان کے علم کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای خیریت سے ہیں، اور تمام اعلیٰ عہدے دار بھی محفوظ ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ ان کی خلیجی ریاستوں سے بات چیت ہوئی ہے اور انہیں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کا ان ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، بلکہ وہ اپنے دفاع کے تحت امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔\n\nعباس عراقچی نے مزید کہا کہ اس وقت واشنگٹن کے ساتھ کوئی براہِ راست رابطہ نہیں، تاہم اگر امریکی حکام بات چیت کرنا چاہیں تو وہ جانتے ہیں کہ ان تک کس طرح رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ایران کشیدگی میں کمی کا خواہش مند ہے۔\n\n* * *\n\n**رات 8 بج کر 45 منٹ: بچیوں کے سکول پر حملے میں 85 طالبات جان سے گئیں: ایران**\n\nایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بچیوں کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث کم از کم 85 طالبات جان کھو بیٹھی اور 60 زخمی ہو گئیں۔\n\nمیناب کے گورنر محمد ردمہر نے ہفتہ کو بتایا کہ شجرۂ طیبہ سکول پر براہِ راست حملہ کیا گیا اور 53 طالبات اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔\n\nگورنر کے مطابق سکول میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ شہر کی مجموعی سکیورٹی صورت حال قابو میں ہے۔\n\nمرنے والوں کی تعداد کی آذاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔\n\n**رات 8 بج کر 45 منٹ: شہباز شریف کا محمد بن سلمان سے رابطہ**\n\nپاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کی شام سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات کی تاکہ پاکستان کی جانب سے ایران پر اسرائیلی حملے اور خلیجی خطے میں حملوں کے بعد خطرناک علاقائی کشیدگی کی سخت مذمت کا اظہار کر سکیں۔ انہوں نے بعد میں عربی زبان میں بھی پوسٹ کی۔\n\n## WhatsApp Image 2026-02-28 at 8.32.55 PM.jpeg\n\n* * *\n\n**رات 7 بج کر 10 منٹ: چین کی تشدد روکنے کی اپیل**\n\nچین نے ہفتہ کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھانے کی کوششوں کے خلاف سخت تنبیہ کرتے ہوئے فوری طور پر تشدد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔\n\nبیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین فوری طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے، فریقین کو کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کی تلقین کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مکالمے اور مذاکرات کی بحالی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔\n\nچینی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کی قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے، اور تمام اقدامات بین الاقوامی اصولوں اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے مطابق ہونے چاہییں۔\n\n* * *\n\n## AFP__20260228__99BP7T3__v1__MidRes__SyriaIsraelUsIranConflict.jpg\n\n\nشامی بچے ایک ایرانی راکٹ کے ملبے کا معائنہ کر رہے ہیں جسے مبینہ طور پر اسرائیلی فورسز نے قنیطرہ کے جنوبی دیہی علاقے میں، گولان کی پہاڑیوں کے قریب غدیر البستان کے علاقے میں گرا دیا تھا (اے ایف پی)\n\n* * *\n\n**شام 7 بج کر 06 منٹ: الظفرہ اڈے سے دھواں**\n\nدو عینی شاہدین نے ہفتہ کو اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے ابوظبی کے الظفرہ اڈے سے دھواں اٹھتے دیکھا، جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں۔\n\nموقع پر موجود ایک گواہ نے کہا، ’الظفرہ امریکی اڈے سے دھواں اٹھ رہا ہے۔‘ ایک اور گواہ نے اس رپورٹ کی تصدیق کی اور کہا کہ علاقے میں کام کرنے والی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو جانے کو کہا تھا۔\n\n* * *\n\n**شام 6 بج کر 58 منٹ: مزید دھماکوں کی آوازیں**\n\nمتحدہ عرب امارات، قطری اور بحرینی دارالحکومتوں میں رہائشیوں اور اے ایف پی کے رپورٹرز نے ہفتہ کو مزید دھماکوں کی آوازیں سنیں، جب ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خلیج میں جوابی حملے شروع کیے۔\n\nمناما میں اے ایف پی کے ایک نمائندے نے کم از کم دو دھماکوں کی آواز سنی، جبکہ قطر کے صحافیوں نے دھماکوں کی نئی لہر کی اطلاع دی۔ ابوظبی کے رہائشیوں نے بھی دھماکوں کی آواز سنی۔\n\n* * *\n\n**شام 6 بج کر 54 منٹ: 20 سے زائد ایرانی صوبے متاثر**\n\nایران کی ہلال احمر سوسائٹی نے کہا کہ ایران کے 31 صوبوں میں سے 20 سے زیادہ ہفتے کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔\n\n* * *\n\n**شام 6 بج کر 42 منٹ: ایرانی صدر محفوظ ہیں: ارنا**\n\nایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کا کہنا ہے کہ صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان محفوظ ہیں۔ ارنا کے مطابق ایوان صدر کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔\n\n* * *\n\n**شام 6 بج کر 10 منٹ: متحدہ عرب امارات کا ایرانی میزائلوں کی دوسری لہر ناکام بنانے کا دعویٰ**\n\nمتحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے ہفتے کی شام اعلان کیا کہ ملکی فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی دوسری لہر کو کامیابی سے فضا ہی میں تباہ کر دیا جبکہ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔\n\n## HCPuVdXaoAE0vnR.jpg\n\nوزارت دفاع کے مطابق افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور ریاست کی سکیورٹی و استحکام کو نقصان پہنچانے والی ہر کوشش کا بھرپور جواب دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور سیاحوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔\n\nحکام نے بتایا کہ تباہ کیے گئے میزائلوں کے کچھ ٹکڑے ابوظبی کے مختلف علاقوں، جن میں جزیرہ سعدیات، خلیفہ سٹی، بنی یاس، محمد بن زاید سٹی اور الفلاح شامل ہیں۔\n\n* * *\n\n**شام 6 بج کر 07 منٹ: متحدہ عرب امارات میں ایک پاکستانی کی موت**\n\nمتحدہ عرب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی وام نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کو ایران کی جانب سے کیے جانے والے میں حملے میں ایک پاکستانی شہری کی موت ہوئی ہے۔\n\nوام نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے مرنے والے پاکستانی شہری کے اہلخانہ سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔\n\n* * *\n\n**شام 5 بج کر 40 منٹ: ایران میں لڑکیوں کے سکول پر حملہ**\n\nایرانی کے سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتے کو جنوبی ایران میں ایک لڑکیوں کے سکول پر ہونے والے حملے میں مرنے والوں کی تعداد 51 ہو گئی ہے۔\n\nسرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ’میناب کے گرلز ایلیمنٹری سکول میں ابتدائی طور پر 40 اموات ہوئی تھیں جن میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ صوبہ ہرمزگان میں ہونے والے حملے میں مزید 45 افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘\n\n* * *\n\n**سہ پہر چار بج کر 12 منٹ: متحدہ عرب امارات کا ایرانی میزائل کامیابی سے روکنے کا دعویٰ**\n\nمتحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فضائی دفاعی افواج نے انتہائی مؤثر انداز میں کئی ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے روکا ہے۔\n\nتاہم حکام کا کہنا ہے کہ ابوظبی کے ایک رہائشی علاقے میں گرنے والے میزائل سے عمارت کو نقصان پہنچا اور ایک ایشیائی شہری کی موت ہوئی ہے۔\n\nمتعلقہ حکام نے تصدیق کی کہ ملک میں سکیورٹی صورت حال قابو میں ہے، اور تمام متعلقہ فریقین 24 گھنٹے پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔\n\n* * *\n\nتہران پر 28 فروری 2026 کو اسرائیلی حملے کے بعد کے مناظر جن کی اے ایف پی نے تصدیق کی ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**سہ پہر چار بجے: ایرانی پاسداران انقلاب کی کارروائی، ’وعدہ صادق 4‘**\n\nایران کے پاسداران انقلاب نے اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کے بعد اپنی جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔\n\nخبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق ایران نے جوابی کارروائی میں خطے میں متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں بحرین میں ’ففتھ فلیٹ‘ بھی شامل ہے۔\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہپاسداران انقلاب نے ’وعدہ صادق 4‘ نامی آپریشن کے تحت ’مجرم امریکی فوج اور بچوں کے قاتل صہیونی حکومت‘ کے خلاف خطے میں دشمن کے اہداف پر جامع حملے کیے۔\n\nپاسداران انقلاب نے عزم ظاہر کیا کہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے جاری رہیں گے۔\n\n* * *\n\n**سہ پہر تین بج کر 23 منٹ: ایرانی سپریم لیڈر، صدر کو نشانہ بنایا، نتائج واضح نہیں: اسرائیلی عہدیدار**\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز اپنے حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو نشانہ بنایا، تاہم ان حملوں کے نتائج واضح نہیں ہیں۔\n\nعہدیدار نے مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔\n\n* * *\n\n**سہ پہر 3 بج کر 15 منٹ: کامیابی قریب ہے: رضا پہلوی**\n\nایران کے جلاوطن شہزادے رضا پہلوی نے، جو تقریباً 50 سال سے بیرون ملک مقیم ہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کامیابی قریب ہے۔‘\n\nہفتے کو ہونے والے اسرائیلی اور حملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’وہ امداد جو امریکہ کے صدر نے ایران کے بہادر عوام سے وعدہ کی تھی، اب پہنچ گئی ہے۔‘\n\n> هممیهنان عزیزم،\n>\n> لحظاتی سرنوشتساز پیشِ روی ماست.\n>\n> کمکی که رئیسجمهور ایالات متحده به مردم شجاع ایران وعده داده بود، اکنون رسیده است. این یک مداخله بشردوستانه است؛ و هدف آن، جمهوری اسلامی، دستگاه سرکوب و ماشین کشتار آن است؛ نه کشور و ملت بزرگ ایران.\n>\n> اما، با وجود رسیدن این کمک،… pic.twitter.com/kRiamgeCpS\n\n> — Reza Pahlavi (@PahlaviReza) February 28, 2026\n\n* * *\n\n**دوپہر 2 بج کر 30 منٹ: ایران کے مختلف خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے**\n\nایران کی جانب سے اپنی سرزمین پر حملوں کے ردعمل میں اسرائیل کے بعد مختلف خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ ایک ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ تمام امریکی اڈے اور مفادات ایران کی پہنچ میں ہیں۔\n\nروئٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ہفتے کو متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظبی میں زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔\n\nاسی طرح کویت میں بھی سائرن کی آواز سنی گئی جب کہ قطری دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں\n\nبحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی پانچویں بیڑے کے سروس سینٹر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔\n\nعراقی ملیشیا حشد کے ترجمان نے بتایا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے جنوب میں تنظیم کے ہیڈ کوارٹرز پر فضائی حملوں میں ایک شخص کی جان گئی اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔\n\n* * *\n\n**دوپہر 2 بجے: ایران پر حملوں کے آپریشن کو ’ایپک فیوری‘ کا نام دیا گیا ہے: پینٹاگون**\n\nامریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ہفتے کو بتایا ہے کہ امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف کے خلاف اپنے بڑے پیمانے کے حملوں کو آپریشن ایپک فیوری (Operation Epic Fury) کا نام دیا ہے۔\n\nمحکمہ دفاع نے اس نام کا اعلان سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کیا لیکن ان حملوں کے حوالے سے اب تک مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔\n\nاے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج تہران کی بحری اور میزائل قوتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔\n\n* * *\n\n**دوپہر 1 بج کر 55 منٹ: اسرائیل کی طرف ڈرونز اور میزائلوں کی ’پہلی لہر‘ روانہ: پاسداران انقلاب**\n\nخبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسداران انقلاب نے ہفتے کو کہا ہے کہ حملے کے بعد ااسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرونز اور میزائلوں کی ’پہلی لہر‘ روانہ کر دی ہے۔\n\n* * *\n\n**دوپہر 1 بج کر 21 منٹ: ایران سے آنے والے میزائلوں کو روک رہے ہیں: اسرائیل**\n\nخبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے آنے والے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔\n\nایرانی حملے سے ہونے والے کسی نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔\n\n28 فروری 2026 کو مقبوضہ بیت المقدس کے آسمان پر اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام سے داغے گئے راکٹ کا نشان دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے یران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو مار گرایا (اے ایف پی)\n\n\n\n\n* * *\n\n**12 بج کر 35 منٹ دوپہر: ایران پر حملے کا مقصد خطرات کو ختم کرنا: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ امریکہ نے ایران میں ’اہم جنگی کارروائیاں‘ شروع کر دی ہیں۔\n\nانہوں نے کہا: ’ہمارا مقصد امریکی عوام کا دفاع اور ایرانی حکومت سے فوری خطرات کو ختم کرنا ہے۔‘\n\nامریکی صدر نے مزید کہا کہ ’ایران کے میزائل تباہ کر دیے جائیں گے اور ان کی میزائل صنعت کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔ ‘\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔\n\nان کا مزید کہنا تھا کہ ایران ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنا رہا ہے جو امریکہ اور دوسروں کے لیے خطرہ ہیں۔ ’ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی۔ ہمارا مقصد ایرانی حکومت کی جانب سے منڈلاتے خطرات کو ختم کر کے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔‘\n\nامریکی صدر نے زور دیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کو ’ہتھیار ڈال دینے چاہییں۔‘ بقول ان کے: ’ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا اور مکمل تحفظ دیا جائے گا، ورنہ انہیں یقینی موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘\n\nیہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ نے اس خطے میں اپنے لڑاکا طیاروں اور جنگی جہازوں کی ایک بڑا بیڑہ جمع کر رکھا ہے تاکہ ایران پر اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈال سکے۔\n\n* * *\n\n**دوپہر 12 بج کر 25 منٹ: امریکہ ان حملوں میں شامل ہے: امریکی عہدیدار**\n\nخبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایک امریکی عہدیدار اور اس آپریشن سے واقف ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ ان حملوں میں شامل ہے۔\n\nامریکی شمولیت کس حد تک ہے، یہ واضح نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔\n\nیہ بھی فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ آیا 86 سالہ خامنہ ای اس وقت اپنے دفاتر میں موجود تھے۔ امریکہ کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے باعث وہ کئی دنوں سے منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔\n\nایک امریکی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ ایران پر امریکی حملے فضا اور سمندر سے کیے جا رہے ہیں۔\n\n* * *\n\n**دوپہر 12 بج کر 10 منٹ: حملے امریکہ کی مشاورت سے کیے: اسرائیلی عہدیدار**\n\nایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ہفتے کو ایران کے خلاف اسرائیلی حملہ امریکہ کی مشاورت سے کیا گیا۔\n\nعہدیدار نے مزید بتایا کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی اور اس کے آغاز کی تاریخ کئی ہفتے قبل ہی طے کر لی گئی تھی۔\n\n* * *\n\n**دن 11 بج کر 40 منٹ: ایران میں دھماکوں کی آوازیں، فضائی حدود بند**\n\nایران کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران میں لوگوں نے دھماکے کی آواز سنی۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے حوالے سے خبر دی کہ تہران میں یونیورسٹی سٹریٹ اور جمہوری کے علاقے میں کئی میزائل گرے ہیں۔\n\nاسی طرح اصفہان، قم، کرج اور کرمان شاہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔\n\nاے ایف پی نے تسنیم نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ایرانی سول ایوی ایشن ایجنسی نے بتایا ہے کہ دارالحکومت تہران اور دیگر مقامات پر متعدد دھماکوں کے بعد ایران نے ہفتے کو اپنی فضائی حدود تاحکم ثانی بند کر دی ہے۔\n\nایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ’پورے ملک کی فضائی حدود تاحکم ثانی بند رہیں گی۔‘\n\n28 فروری 2026 کو ایرانی دارالحکومت تہران میں اسرائیلی حملے کے بعد دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\n* * *\n\n**دن 11 بج کر 30 منٹ: ایران نے اسرائیل پر حملہ کر دیا**\n\nاسرائیل نے ہفتے کو کہا ہے کہ اس نے ہفتہ کو ایران پر پیشگی حملہ کر دیا ہے۔\n\nخبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا: ’ریاست اسرائیل نے اپنے اوپر منڈلاتے خطرات کو ختم کرنے کے لیے ایران پر پیشگی حملہ کیا ہے۔‘\n\nاے پی کے مطابق اسرائیل کے مختلف حصوں میں بھی سائرن بج اٹھے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’عوام کو یہ تیاری دینے کے لیے ایک پیشگی الرٹ جاری کیا کہ ممکن ہے ریاست اسرائیل کی طرف میزائل داغے جائیں۔‘\n\nروئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل بھر میں سکول بند کر دیے گئے ہیں اور عوام کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ملک میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔\n\nاسی طرح اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے اعلان کیا کہ ’سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر اسرائیل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر کو ریاست اسرائیل کی فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔‘\n\n* * *\n\n**حملوں سے ایرانی جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدیں مزید مدھم**\n\nاس نئی صورت حال نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے فوجی تصادم کی طرف دھکیل دیا ہے اور مغرب کے ساتھ ایران کے دیرینہ جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدوں کو مزید مدھم کر دیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nگذشتہ برس جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ فضائی جنگ کے بعد یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کے ان مسلسل انتباہات کے بعد کیا گیا ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کو آگے بڑھایا تو وہ دوبارہ نشانہ بنائیں گے۔\n\nامریکہ اور ایران نے فروری میں سفارت کاری کے ذریعے اس دہائیوں پرانے تنازع کو حل کرنے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے والے ممکنہ فوجی تصادم کے خطرے کو ٹالنے کی کوشش میں مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے۔\n\nتاہم، اسرائیل کا اصرار تھا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی امریکی معاہدے میں صرف افزودگی کے عمل کو روکنا ہی نہیں بلکہ تہران کے جوہری ڈھانچے کا خاتمہ بھی شامل ہونا چاہیے اور اس نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیوں کو بھی شامل کرے۔\n\nایران نے کہا کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر قدغنوں کے حوالے سے بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے اس معاملے کو میزائلوں کے ساتھ جوڑنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔\n\nتہران نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرے گا۔\n\nاس نے امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے پڑوسی ممالک کو متنبہ کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کو نشانہ بنایا تو وہ امریکی اڈوں پر جوابی کارروائی کرے گا۔\n\nجون میں، امریکہ ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف ایک اسرائیلی فوجی مہم کا حصہ بنا تھا، جو اسلامی جمہوریہ کے خلاف اب تک کی سب سے براہ راست امریکی فوجی کارروائی تھی۔\n\nجس پر تہران نے قطر میں واقع مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے امریکی ہوائی اڈے ’العدید‘ کی جانب میزائل داغ کر جوابی کارروائی کی۔\n\nمغربی طاقتوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل منصوبہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے اور اگر اسے مزید تیار کر لیا گیا تو یہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم تہران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتا ہے۔\n\nتہران پر 28 فروری 2026 کو اسرائیلی حملے کے بعد کے مناظر جن کی اے ایف پی نے تصدیق کی ہے (اے ایف پی)\n\nIran-Israel.jpg, by zeeshan.haider\n\nایران\n\nاسرائیل\n\nامریکہ\n\nاعلان جنگ\n\nیورپی یونین کے بحری مشن کے ایک عہدیدار نے ہفتے کو بتایا کہ ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے وی ایچ ایف ریڈیو کے ذریعے جہازوں کو یہ پیغام موصول ہوا ہے کہ ’کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں۔‘\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, فروری 28, 2026 - 22:00\n\nMain image:\n\n> <p>بحرین میں 28 فروری 2026 کو منامہ کی ایک عمارت میں آگ لگی دیکھی جا سکتی ہے جو ایک ایرانی ڈرون کے ٹکرانے سے لگی (روئٹرز)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nijOJZGPn\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ سے مذاکرات میں ’اچھی پیش رفت‘ ہوئی، آئندہ دور اگلے ہفتے ہوگا: ایران\n\nجنیوا مذاکرات سے قبل ٹرمپ کے دباؤ کے خلاف ایران کا سخت ردِعمل\n\nایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت کبھی نہیں دوں گا: صدر ٹرمپ\n\nامریکی حملے کی صورت میں ’سخت جوابی کارروائی‘ کا ایرانی انتباہ\n\nSEO Title:\n\nامریکہ، اسرائیل حملے کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، آبنائے ہرمز میں جہازوں کا داخلہ بند\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "امریکہ، اسرائیل حملے کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، آبنائے ہرمز میں جہازوں کا داخلہ بند"
}