{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigvdbiwlzpmjidwhhpn634iprpcudcbrmlehvsoucpuegtnorzsq4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfuuzwku4wd2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihpxf3f5gsrkrx2bah5zymhjhvl5djt5gcz2kbhp3onqwfuabhf6i"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 86018
  },
  "path": "/node/184848",
  "publishedAt": "2026-02-27T09:47:27.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "Screenshot 2026-02-27 150128.jpg",
    "Screenshot 2026-02-27 150238.jpg",
    "اسلام آباد",
    "بلدیاتی انتخابات",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "سیاست",
    "news"
  ],
  "textContent": "**انتخابات اور جمہوری عمل کی نگرانی کرنے والی ایک پاکستانی تنظیم کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانچ برس کے دوران بلدیاتی انتخابات کا چھ مرتبہ التوا جمہوری عمل پر سنگین سوال بن کر ابھرا ہے۔**\n\nپٹن کی تازہ سروے رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں نچلی سطح کی جمہوریت کو پنپنے سے منظم انداز میں روکا گیا، جس سے نہ صرف امیدواروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ عوام کے حقِ نمائندگی کو بھی دھچکا لگا۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ یہ صورتِ حال الیکشن کمیشن آف پاکستان کی خودمختاری پر سوالات اٹھاتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ ادارہ انتظامیہ کے دباؤ میں ہے۔\n\nسروے کے مطابق دو منسوخ شدہ انتخابات میں مجموعی طور پر سات ہزار 866 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی کی مد میں تین کروڑ 77 لاکھ 40 ہزار روپے جمع کرائے۔ اس کے علاوہ قانونی مشاورت اور انتخابی مہم پر بھی خطیر اخراجات ہوئے۔\n\n## Screenshot 2026-02-27 150128.jpg\n\nوفاقی حکومت نے اسلام آباد میں پنجاب طرز کے بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی کی منظوری دیتے ہوئے دو جنوری 2026 کو دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی کر دیے تھے۔\n\nوفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے بلدیاتی قانون میں ترمیم کے لیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ اسلام آباد میں وارڈز کی تعداد بڑھائی جائے۔\n\nپٹن کے اندازوں کے مطابق ان دونوں منسوخ انتخابات پر امیدواروں کے مجموعی اخراجات 54 کروڑ 43 لاکھ روپے تک جا پہنچے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ محض مالی نقصان نہیں بلکہ شہریوں کے آئینی حقِ نمائندگی کی پامالی بھی ہے۔\n\nاعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ انتظامی ترامیم کو عوام اور امیدواروں کی اکثریت نے مسترد کیا۔ 70 فیصد امیدواروں اور 61 فیصد ووٹروں نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کی گئی ترامیم کی مخالفت کی، حالانکہ اس وقت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا۔\n\nچھیاسٹھ فیصد امیدواروں اور 49 فیصد ووٹروں نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے خاتمے کو رد کیا۔ نصف سے زائد شرکا نے ٹاؤن کارپوریشنوں میں بالواسطہ انتخابات کی تجویز کی مخالفت کی جبکہ 90 فیصد امیدواروں اور 60 فیصد ووٹروں نے مزدور اور کسان نشستوں پر تاجروں اور ٹیکنوکریٹس کی شمولیت کو نامنظور قرار دیا۔\n\n## Screenshot 2026-02-27 150238.jpg\n\nسروے کے مطابق 40 فیصد مخالف امیدواروں کا تعلق حکمران جماعتوں سے تھا، جو اس بات کی علامت ہے کہ اختلاف صرف حزبِ اختلاف تک محدود نہیں۔\n\nانتخابات کے بار بار التوا کی وجوہات پر بھی سروے میں نمایاں رجحانات سامنے آئے۔ ایک تہائی سے زائد افراد کا خیال ہے کہ حکمران جماعتوں کو ممکنہ شکست کا اندیشہ تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتقریباً 40 فیصد نے بیوروکریسی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری اہلکار منتخب نمائندوں کے ماتحت کام کرنے سے گریزاں ہیں۔\n\nدس فیصد سے زائد شرکا نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اراکین ترقیاتی فنڈز اور سیاسی اثرورسوخ پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یوں سیاسی اور انتظامی مفادات کے گٹھ جوڑ کا تاثر ابھرتا ہے۔\n\nسروے نے سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی۔ 71 فیصد پارٹی عہدیدار براہِ راست قیادت کی جانب سے مقرر کیے گئے جبکہ صرف 29 فیصد اندرونی انتخابات کے ذریعے سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتِ حال بلدیاتی سطح پر جمہوری خلا کی عکاسی کرتی ہے۔\n\nرپورٹ میں چند سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان فوری طور پر منسوخ شدہ انتخابات کے امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی کی فیس واپس کرے اور حکومت مالی نقصانات کا ازالہ کرے۔\n\nتجویز دی گئی ہے کہ تمام یونین کونسلوں میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کے بجائے مرحلہ وار طریقہ اپنایا جائے، یعنی ہر دو سال بعد 20 فیصد نشستوں پر انتخابات ہوں تاکہ نظام میں تسلسل برقرار رہے۔\n\nمزید برآں، متنازع ترامیم پر عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کرانے، ’تاجر‘ جیسی اصطلاحات کی واضح تعریف دینے اور بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ، مالی و انتظامی خودمختاری فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔\n\nالیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد میں مقا می حکومت کی معیاد 14 فروری 2021ء کو مکمل ہوئی تھی۔\n\nاسلام آباد\n\nبلدیاتی انتخابات\n\nدو منسوخ شدہ انتخابات میں مجموعی طور پر سات ہزار 866 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی کی مد میں تین کروڑ 77 لاکھ 40 ہزار روپے جمع کرائے، جو واپس نہیں کیے گئے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, فروری 27, 2026 - 14:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں قائم ایک پولنگ سٹیشن میں 8 فروری 2024 کو  پاکستانی شہری اپنا ووٹ ڈال رہا ہے (انڈپینڈنٹ اردو / سہیل اختر)</p>\n\nسیاست\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nداعش کے کابل اور اسلام آباد میں حملے، تنظیمی مایوسی؟\n\nداعش اسلام آباد تک کیسے پہنچ گئی؟\n\nکوئی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت نہیں چاہتی: الیکشن کمیشن\n\nوفاقی کابینہ اجلاس: اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات دوبارہ ملتوی\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد: پانچ برسوں میں بلدیاتی انتخاب کا چھ مرتبہ التوا، جمہوری عمل پر سوال؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "اسلام آباد: پانچ برسوں میں بلدیاتی انتخاب کا چھ مرتبہ التوا، جمہوری عمل پر سوال؟"
}