{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidp4wcvcwqknaij4qxeklislrrqkelri7riimh6jc63yjnsajkh5y",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfuuzmdflva2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibmupid3x2b3wcj6dtxqivoytttnbvsyvb6ryqbwtmhz57sajqp3a"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 87234
},
"path": "/node/184846",
"publishedAt": "2026-02-27T11:00:44.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"انڈیا",
"انڈین عدالت",
"اروند کیجریوال",
"نریندر مودی",
"کرپشن",
"اے ایف پی",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**ان عدالت نے جمعے کو دارالحکومت دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ کو طویل عرصے سے جاری بدعنوانی کی تحقیقات میں بری قرار دے دیا جس میں انہیں کو حکمران جماعت کی ’سیاسی سازش‘ قرار دیا گیا تھا۔**\n\nاپوزیشن عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال عدالتی کارروائی کے درمیان 2025 میں انتخابات ہارنے سے پہلے دہلی کے وزیر اعلیٰ تھے۔\n\n57 سالہ کیجریوال نے مارچ 2024 میں اپنی نتظامیہ پر شراب کے لائسنس جاری کرنے میں رشوت لینے کے الزام میں گرفتار ہونے کے بعد کئی ماہ جیل میں گزارے تھے۔ جمعے کو فیصلے کے بعد کیجریوال عدالت سے نکلتے ہی رو پڑے۔\n\nکیجریوال نے عدالتی فیصلے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’سچائی کی جیت ہوئی ہے۔‘\n\nانہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر عام آدمی پارٹی کو ختم کرنے کے لیے ’سیاسی سازش‘ کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔\n\nجمعے کو دہلی کی ایک عدالت نے انہیں، ان کے سابق نائب منیش سسودیا اور 21 دیگر افراد کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن ریکھا گپتا فروری 2025 میں تین کروڑ سے زیادہ لوگوں کی وسیع و عریض میگا سٹی کی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئیں۔\n\nکیجریوال نے اپنے کیریئر کا آغاز ٹیکس جمع کرنے والے کے طور پر کیا لیکن بدعنوانی کی مخالفت کی وجہ سے سول سروس کی نوکری چھوڑی، جس سے انہیں قومی شہرت ملی۔\n\nحالیہ برسوں میں مودی کے کئی مخالفین کو مجرمانہ تحقیقات یا مقدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں دو ریاستی وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں۔\n\nاگست 2025 میں حکومت نے سیاست دانوں کو گرفتار کرنے اور 30 دن تک حراست میں رکھنے کی صورت میں ہٹانے کے لیے ایک بل متعارف کروایا، جسے مخالفین نے آئینی تحفظات کو کچلنے کی کوشش قرار دیا۔\n\nانڈیا\n\nانڈین عدالت\n\nاروند کیجریوال\n\nنریندر مودی\n\nکرپشن\n\n57 سالہ کیجریوال کی ریاستی حکومت پر شراب کے لائسنس جاری کرنے میں رشوت لینے کے الزامات تھے۔\n\nاے ایف پی\n\nجمعہ, فروری 27, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p>دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال دو جون 2024 کو دہلی میں جیل سے واپسی سے قبل پارٹی ہیڈکوارٹر میں اپنے حامیوں اور پارٹی کارکنوں سے خطاب کر رہے ہیں (ارون سنکر/ اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکیجریوال مستعفیٰ، آتشی دہلی کی تیسری خاتون وزیر اعلیٰ\n\nدہلی: اروند کیجریوال کا دو روز میں وزارت اعلیٰ چھوڑنے کا اعلان\n\nانڈیا: سپریم کورٹ نے کیجریوال کو الیکشن میں حصہ لینے کے لیے ضمانت دے دی\n\nاروند کیجریوال کی اہلیہ کی قیادت میں انڈین اپوزیشن کی بڑی ریلی\n\nSEO Title:\n\nانڈیا: دہلی کی مقامی عدالت نے مودی کے سیاسی مخالف کو کرپشن کیس میں بری کر دیا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "نریندر مودی کے سیاسی مخالف اروند کیجریوال کرپشن کیس میں بری"
}