{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreia6qaondeubizdwrcbwumngzjhyfbpmomazzwcpjhzkqnz4eijio4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfuuzh4sc432"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigoc6lav3oy5kyw2jrnh5ppfritzl3yg7mp3p5qxbc5eye6wxs6fq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 51534
},
"path": "/node/184850",
"publishedAt": "2026-02-27T12:04:26.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان",
"ایشیا",
"افغانستان",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"video"
],
"textContent": "**پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو افغانستان سے جھڑپوں کے دوران اب تک 274 افغان طالبان اہلکار اور 12 پاکستانی فوجی مارے جا چکے ہیں۔**\n\nڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ’آپریشن غضب للحق میں 53 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں جمعرات کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔\n\nپاکستانی حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے افغانستان کی جانب سے ’بلااشتعال حملے کا آپریشن غضب للحق کے تحت فوری اور موثر جواب دیا۔‘ اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اب دما دم مست قلندر ہو گا۔‘\n\nاس حوالے سے جمعے کو پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک نیوز کانفرنس کی جس میں انہوں نے صحافیوں کو تازہ تفصیلات سے آگاہ کیا۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ’اس آپریشن میں اب تک پاکستان کے 12 فوجی اہلکار جان سے گئے ہیں جبکہ 27 زخمی اور ایک فوجی لاپتہ ہے۔‘\n\nڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے بتایا کے ’غضب للحق آپریشن میں اب تک افغان طالبان کے 274 اہلکار مارے جا چکے ہیں، 400 سے زائد زخمی ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان کے مطابق ’افغان طالبان رجیم کی 73 پوسٹیں مکمل تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 18 پوسٹیں ہمارے کنٹرول میں ہیں۔\n\n’اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق طالبان فورسز کے 115 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں وغیرہ تباہ کی جا چکی ہیں۔‘\n\nساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ آپریشن اب بھی جاری ہے اور مارے جانے والے افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔\n\n**’افغانستان بدستور پرامن حل کا خواہاں ہے‘**\n\nدوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی جمعے کو ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان کی موجودہ حکومت شروع دن سے ہمسایہ ممالک اور دنیا کے ساتھ مثبت اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کی خواہاں رہی ہے۔‘\n\nذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں جاری شورش ایک داخلی معاملہ ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد بار افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور سرحدی علاقوں میں بمباری کی۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’افغانستان نے ہر بار کشیدگی کم کرنے اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔ ماضی میں ہونے والی جنگ بندی بھی پاکستان کی جانب سے توڑی گئی۔‘\n\n’افغانستان نے صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے اور کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں کی۔‘\n\nتاہم آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ صورتحال کا حل مذاکرات اور باہمی سمجھوتے میں ہے اور افغانستان بدستور پرامن حل کا خواہاں ہے۔‘\n\nپاکستان\n\nایشیا\n\nافغانستان\n\nڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے بتایا کے ’غضب للحق آپریشن میں اب تک افغان طالبان کے 274 اہلکار مارے جا چکے ہیں، 400 سے زائد زخمی ہیں۔‘\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, فروری 27, 2026 - 19:30\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان فوج کے ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے 27 فروری 2026 کو نیوز کانفرنس کی (سکرین گریب/ آئی ایس پی آر)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nieewXr3r\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nافغانستان سے خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں پر ڈرون حملے ناکام: وزیر اطلاعات\n\nپاکستان، افغانستان کشیدگی: اسحٰق ڈار کی سعودی ہم منصب سے گفتگو\n\n’افغانستان کی جارحیت کے خلاف‘ سینیٹ سے مذمتی قرارداد منظور\n\nSEO Title:\n\nاب تک 274 افغان طالبان اہلکار، 12 پاکستانی فوجی جان سے گئے: ترجمان فوج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "اب تک 274 افغان طالبان اہلکار، 12 پاکستانی فوجی جان سے گئے: ترجمان فوج"
}