{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreid4kv4avnrsm3pz7dqbxrkaj6km2k3ruvbdzdf3mxt3qyr34qebja",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfrcxv2ery32"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibb7inmhwgeyh643rnnvqa2yjehr2hibrm4rq4g4jhenkfzdaro5i"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 141633
  },
  "path": "/node/184832",
  "publishedAt": "2026-02-26T12:24:02.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران",
    "امریکہ",
    "کشیدگی",
    "جوہری مذاکرات",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ایران اور امریکہ کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بالواسطہ مذاکرات جمعرات کو جنیوا میں شروع ہوگئے، جنہیں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سفارتی حل کا ممکنہ آخری موقع قرار دیا جا رہا ہے۔**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے معاہدہ چاہتے ہیں، جبکہ امریکہ نے تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ میں جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کا بڑا بیڑا تعینات کر رکھا ہے۔\n\nدوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کا حق برقرار رکھے گا، حالانکہ گذشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران امریکی حملوں میں اس کی کئی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا تھا۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات سے قبل خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں، جس سے پورا مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ان کے بقول ایسی جنگ ’کسی کے لیے فتح نہیں بلکہ تباہ کن ثابت ہوگی۔‘\n\nیہ مذاکرات گذشتہ جون کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تیسرا رابطہ ہیں اور ایک بار پھر عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی عمانی حکام سے ملاقات کی، جس کے بعد مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔\n\nامریکہ چاہتا ہے کہ ایران مکمل طور پر یورینیم افزودگی روک دے اور اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام سمیت خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت پر بھی بات کرے، جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود رہیں۔\n\nامریکی حکام کے مطابق ایران اس وقت افزودگی نہیں کر رہا، تاہم وہ اپنی صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران نے امریکی حملوں کے بعد متاثرہ تنصیبات تک عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی رسائی بھی محدود کر دی ہے۔\n\nادھر ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات نے خطے میں نئی جنگ کے اندیشے بڑھا دیے ہیں۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ کسی حملے کی صورت میں وہ امریکی اتحادی ممالک اور اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔\n\nتجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں خطہ ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور سکیورٹی صورتحال پر بھی مرتب ہوں گے۔\n\nامریکی بحریہ کی جانب سے آٹھ فروری 2026 کو جاری کی گئی تصویر میں بحیرہ عرب میں موجود نمٹز کلاس کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nواشنگٹن ایران کے اندر ایٹمی افزودگی کو ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ راستے کے طور پر دیکھتا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nعراقچی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’معاہدہ پہنچ میں ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔‘\n\nروئٹرز نے اتوار کو خبر دی تھی کہ تہران امریکی حملے سے بچنے کی کوشش میں، پابندیوں کے خاتمے اور یورینیم افزودہ کرنے کے اپنے حق کو تسلیم کرنے کے بدلے نئی مراعات کی پیشکش کر رہا ہے۔\n\nتاہم، ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں، یہاں تک کہ تباہ کن امریکی پابندیوں سے ریلیف کے دائرہ کار اور ترتیب کے حوالے سے بھی۔\n\nایران کے اندر، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنے 36 سالہ دور کے سنگین ترین بحران کا سامنا ہے، جہاں معیشت سخت پابندیوں کے بوجھ تلے جدوجہد کر رہی ہے اور جنوری میں بڑے ہنگاموں اور خونی کریک ڈاؤن کے بعد نئے مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔\n\nبین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کی بھی مذاکرات کے دوران جنیوا میں موجودگی متوقع ہے تاکہ وہ دونوں فریقین کے ساتھ بات چیت کر سکیں، جیسا کہ انہوں نے گذشتہ ہفتے کیا تھا۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nکشیدگی\n\nجوہری مذاکرات\n\nتہران امریکی حملے سے بچنے کی کوشش میں، پابندیوں کے خاتمے اور یورینیم افزودہ کرنے کے اپنے حق کو تسلیم کرنے کے بدلے نئی مراعات کی پیشکش کر رہا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, فروری 26, 2026 - 17:15\n\nMain image:\n\n> <p>ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے 26 فروری 2026 کو جاری کردہ اس تصویر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جنیوا میں عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nجنیوا مذاکرات سے قبل ٹرمپ کے دباؤ کے خلاف ایران کا سخت ردِعمل\n\nایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت کبھی نہیں دوں گا: صدر ٹرمپ\n\nامریکہ، ایران مذاکرات جمعرات کو جنیوا میں ہوں گے: عمان\n\nامریکی حملے کی صورت میں ’سخت جوابی کارروائی‘ کا ایرانی انتباہ\n\nSEO Title:\n\nسفارتی حل کا آخری موقع: ایران اور امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات جنیوا میں جاری\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "سفارتی حل کا آخری موقع: ایران اور امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات جنیوا میں جاری"
}