{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiciicrrv667ajnhk725dc3xaertrtdihgxvrlpaxdhewx4mpdvid4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfr4aspxqfz2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreih5teym6y73glmgv6fqn5wnxz4j3jln6zudxprm3mn5t3awaokfnm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 176653
},
"path": "/node/184831",
"publishedAt": "2026-02-26T11:30:41.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افغانستان",
"افغان طالبان",
"کابل",
"حملہ",
"داعش خراسان",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان کے دفتر خارجہ نے جعمرات کو بریفنگ میں بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ‘ بنانے کا مقصد پاکستانی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔**\n\nپاکستان نے 21 فروری کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان سے منسلک شدت پسندوں کے سات مختلف ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔\n\nافغانستان میں طالبان کی زیر قیادت حکومت نے بدھ کو کہا کہ وہ افغان سرزمین پر حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا فوجی جواب دے گی۔ افغان طالبان کی حکومت نے اسلام آباد پر شہریوں کو نشانہ بنانے اور یہاں تک کہ داعش کے عسکریت پسندوں کو ’محفوظ پناہ گاہیں‘ فراہم کرنے کا الزام لگایا۔\nترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بریفنگ کے بعد ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ’دہشت گردوں کے کیمپوں اور ان کے ٹھکانوں کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر منتخب طور پر نشانہ بنایا گیا اور اس کا مقصد پاکستان کے خلاف ممکنہ فوری حملوں کو روکنا تھا۔‘\n\nطاہر اندرابی نے کہا ’ہم نے کسی بھی شہری جانی نقصان سے بچنے کے لیے انتہائی احتیاط برتی ہے۔‘\n\nطالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جوابی کاروائی سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ ’فطری طور پر یہ ایک فوجی جواب ہوگا، لیکن اس کی تفصیلات خفیہ ہیں اور میں مزید وضاحت نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو اس کی شرمناک حرکت کا جواب ملنا چاہیے۔‘\n\nترجمان دفتر خارجہ نے ذبیح اللہ مجاہد سمیت دیگر افغان طالبان کے عہدے داران کی جانب سے دیے گئے بیانات پر ردعمل میں کہا ہے کہ ’یہ (دھمکی آمیز) بیانات حوصلہ شکن ہیں۔ پاکستان نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر انتہائی درست حملے کیے گئے اور ہم افغانستان سے اٹھنے والے خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔‘\n\nطاہر اندرابی نے کہا ’ہم اپنے دفاع کے حق کے تحت فوری اور بھرپور جواب دیں گے۔ یہ پیغام تمام متعلقہ فریقین کی جانب سے واضح طور پر دیا جا چکا ہے۔ ہم افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے جو بلا روک ٹوک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ جب سے افغان طالبان ’اقتدار میں آئے ہیں، خاص طور پر گزشتہ 12 سے 18 ماہ کے دوران، دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہماری اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گرد عناصر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔‘\n\nطالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے العربیہ انگریزی کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ’فطری طور پر یہ ایک فوجی جواب ہوگا، لیکن اس کی تفصیلات خفیہ ہیں اور میں مزید وضاحت نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو اس کی شرمناک حرکت کا جواب ملنا چاہیے۔‘\n\nذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر عسکریت پسندوں کے بجائے شہری اہداف کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ننگرہار میں 22 افراد پر مشتمل ایک خاندان کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 17 افراد جان سے گئے اور پانچ زخمی ہوئے۔\n\nانہوں نے کہا کہ پکتیکا میں بچوں کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ایک بچہ زخمی ہوا اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔\n\nانہوں نے کہا، ’وہاں کوئی مسلح افراد نہیں تھے۔ صرف شہری زخمی ہوئے اور جان سے گئے، اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘\n\nپاکستان کا مؤقف ہے کہ اس نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں اور مبینہ طور پر افغان سرزمین سے کام کرنے والے داعش سے منسلک جنگجوؤں کو نشانہ بنایا، جن دعوؤں کی کابل تردید کرتا ہے۔\n\nذبیح اللہ مجاہد نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ افغانستان عسکریت پسند گروپوں کو پڑوسی ممالک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔\n\nانہوں نے کہا، 'بدقسمتی سے، جب بھی پاکستان کے اندر حملے ہوتے ہیں، وہ فوری طور پر بغیر ثبوت کے انہیں افغانستان سے جوڑ دیتے ہیں اور ہم پر الزام لگاتے ہیں۔ ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔'\n\nذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ٹی ٹی پی، جسے پاکستانی طالبان بھی کہا جاتا ہے، افغانستان میں موجود نہیں ہے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کے اندرونی مسائل ہیں۔ ٹی ٹی پی خود پاکستان کے اندر بڑے علاقوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ وہ وہاں رہ سکتے ہیں؛ انہیں افغان سرزمین کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اول تو ہم انہیں افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت ہی نہیں دیں گے۔'\n\nذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دعوؤں کی تائید میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔\n\n’ثبوت یا شواہد پیش کیے بغیر، وہ محض دعوے کرتے ہیں، پروپیگنڈا کرتے ہیں، اور پھر ایسے اقدامات کرتے ہیں جنہیں ہم ناقابل معافی سمجھتے ہیں۔‘\n\n22 فروری 2026 کو افغان صوبہ ننگرہار کے ضلع بہسود کے گاؤں گردی کس کے ایک رہائشی علاقے پر رات گئے مبینہ پاکستانی فضائی حملے کے بعد طالبان سکیورٹی اہلکار متاثرین کو تلاش کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**پاکستان پر الزامات**\n\nذبیح اللہ مجاہد نے مزید آگے بڑھتے ہوئے، پاکستان پر داعش کے عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے انہیں پناہ دینے کا الزام لگایا۔\n\nبلوچستان اور خیبر پختونخوا کے کچھ حصوں میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کا الزام لگاتے ہوئے، انہوں نے کہا، ’داعش کو دبانے کی بجائے، پاکستان نے انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں۔\n\n’کچھ معاملات میں، انہوں نے انہیں افغانستان کے خلاف استعمال کیا ہے اور انہیں کارروائیاں اور دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے بھیجا ہے۔‘\n\nذبیح اللہ مجاہد نے اسلام آباد پر خطے میں عدم استحکام اور عدم تحفظ کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا: 'ہمارا ماننا ہے کہ پاکستان کے اندر ایک خاص فوجی حلقے کو خطے کو غیر مستحکم کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ طالبان حکام نے افغانستان کے اندر داعش کے خلاف وسیع کارروائیاں کی ہیں۔\n\n’ہم نے کابل اور دیگر صوبوں میں داعش کے خلاف ایک بہت سنجیدہ مہم چلائی۔ ہم نے ان کا خاتمہ کر دیا۔ افغانستان میں ان کی کوئی طبعی موجودگی نہیں ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n2021 میں امریکی قیادت میں افواج کے انخلا کے بعد طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔\n\nپاکستان افغانستان پر سرحد پار حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کو روکنے میں ناکام رہنے کا الزام لگاتا ہے، جب کہ طالبان حکام ایسے گروپوں کو پناہ دینے کی تردید کرتے ہیں اور اسلام آباد کے اندرونی سکیورٹی چیلنجز کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔\n\nدونوں جانب درجنوں افراد کی موت کا سبب بننے والی جان لیوا جھڑپوں کے بعد، تجارت اور سفر کے لیے اہم سرحدی گزرگاہیں مہینوں سے بڑی حد تک بند ہیں۔\n\nذبیح اللہ مجاہد نے ناکام سفارتی کوششوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ’مسلسل ایسے بہانے بنائے جو ناکامی کا سبب بنے۔‘\n\nان کے بقول: ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خطے میں امن کے حق میں نہیں ہیں۔ بلکہ ان کے مقاصد اسے غیر مستحکم کرنا ہیں۔ یہ ایک بیرونی مشن ہے جو بڑی طاقتوں نے انہیں عدم تحفظ پیدا کرنے اور تنازعے کو ہوا دینے کے لیے سونپا ہے۔'\n\nانہوں نے خاص طور پر علاقائی اور مسلم اکثریتی ممالک پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے اقدامات کی مذمت کریں اور اسلام آباد پر اپنا راستہ بدلنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔\n\nافغانستان\n\nافغان طالبان\n\nکابل\n\nحملہ\n\nداعش خراسان\n\nافغانستان میں طالبان کی زیر قیادت حکومت نے بدھ کو کہا کہ وہ افغان سرزمین پر حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا فوجی جواب دے گی۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, فروری 26, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p>22 فروری 2026 کو افغان صوبہ ننگرہار کے ضلع بہسود کے گاؤں گردی کس کے ایک رہائشی علاقے پر رات گئے مبینہ پاکستانی فضائی حملے کے بعد طالبان سکیورٹی اہلکار متاثرین کو تلاش کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان افغانستان سرحدی کشیدگی: ’تہہ خانوں میں خود کو محفوظ رکھتے ہیں‘\n\nافغانستان حملے کے بعد ملک میں سکیورٹی سخت، گرفتاریاں: طلال\n\nانڈیا، افغانستان پاکستان کے خلاف ’ایک صفحے‘ پر: خواجہ آصف\n\nطالبان افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nافغانستان میں کارروائی کا مقصد پاکستانیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا: دفتر خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "افغانستان میں کارروائی کا مقصد پاکستانیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا: دفتر خارجہ"
}