{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreid5iejziw3qt4zfc3npit73palknsx6ibsx2lt6uurdxmjy5kmplu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfqi55b7cwj2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibjqal3ewgcsb45bdstvv7g3c2uen2h62nojh73cquwmfrpr5nu64"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 60133
},
"path": "/node/184823",
"publishedAt": "2026-02-26T02:56:55.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"امریکہ",
"ایران",
"جوہری مذاکرات",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news"
],
"textContent": "**امریکہ اور ایران کے درمیان جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک نیا دور ہو رہا ہے جس کا مقصد دیرینہ ایٹمی تنازعے کو حل کرنا اور بڑے پیمانے پر فوجی تیاریوں کے بعد ایران پر نئے ممکنہ امریکی حملوں کو روکنا ہے۔**\n\nفرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپنے اعلیٰ سفارت کار کی قیادت میں ایک ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے بدھ کو جنیوا پہنچا جب کہ ایران کے صدر نے نئے تنازعے سے بچنے کے لیے بات چیت کے ذریعے طے پانے والے معاہدے کے امکان پر پرامید لہجہ اختیار کیا۔\n\nایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو کہا کہ وہ ’مذاکرات کے حوالے سے سازگار نقطہ نظر‘ رکھتے ہیں۔ مذاکرات بالآخر ’اس نہ جنگ نہ امن والی صورت حال سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘\n\nایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، جو مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، نے اسے ’تاریخی موقع‘ قرار دیا۔\n\nدوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو خبردار کیا کہ ایران کو اپنے میزائل پروگرام پر بات چیت کرنی چاہیے، یہ انتباہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس الزام کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران ایسے راکٹوں پر کام کر رہا ہے جو امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔\n\nامریکی بحریہ کی جانب سے آٹھ فروری 2026 کو جاری کی گئی تصویر میں بحیرہ عرب میں موجود نمٹز کلاس کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان نئی بات چیت سے قبل روبیو نے صحافیوں کو بتایا، ’میں کہوں گا کہ بیلسٹک میزائلوں پر بات نہ کرنے پر ایران کا اصرار ایک بہت، بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تہران کے ایٹمی پروگرام پر دہائیوں پر محیط تعطل ختم کرنے کی امید کے ساتھ دونوں ممالک نے اس ماہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے ہیں، جس کے بارے میں واشنگٹن، دیگر مغربی ریاستوں اور اسرائیل کا خیال ہے کہ اس کا مقصد ایٹمی ہتھیار بنانا ہے۔ تہران اس کی تردید کرتا ہے۔\n\nایک امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ یہ مذاکرات گذشتہ ہفتے جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد ہو رہے ہیں اور ان کی ثالثی عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کریں گے۔\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کانگریس میں اپنی سٹیٹ آف دی یونین تقریر میں ایران پر ممکنہ حملے کے لیے مختصراً اپنا موقف پیش کیا، اور کہا کہ ان کی ترجیح اس مسئلے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا ہے، لیکن وہ تہران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔\n\n**ایران کے اندر اور باہر دباؤ**\n\nبدھ کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹرمپ کے موقف پر زور دیا۔\n\nوینس نے فاکس نیوز پر ایک انٹرویو میں کہا، ’ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ اگر (ٹرمپ نے) یہ راستہ چنا تو یہ حتمی فوجی ہدف ہوگا۔‘\n\nامریکہ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی فوجی طاقت جمع کر رہا ہے، جس سے ایک وسیع تر علاقائی تنازعے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ گذشتہ سال جون میں امریکہ نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملوں میں اسرائیل کا ساتھ دیا تھا۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ سخت جوابی کارروائی کرے گا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nٹرمپ نے 19 فروری کو کہا تھا کہ ایران کو 10 سے 15 دنوں میں معاہدہ کر لینا چاہیے، اور خبردار کیا تھا کہ بصورت دیگر ’بہت بری چیزیں‘ ہوں گی۔\n\nعباس عراقچی نے منگل کو کہا کہ ان کے ملک کا مقصد ایک منصفانہ اور فوری معاہدہ کرنا ہے، لیکن انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ واشنگٹن ایران کے اندر ایٹمی افزودگی کو ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ راستے کے طور پر دیکھتا ہے۔\n\nعراقچی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’معاہدہ پہنچ میں ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔‘\n\nروئٹرز نے اتوار کو خبر دی تھی کہ تہران امریکی حملے سے بچنے کی کوشش میں، پابندیوں کے خاتمے اور یورینیم افزودہ کرنے کے اپنے حق کو تسلیم کرنے کے بدلے نئی مراعات کی پیشکش کر رہا ہے۔\n\nتاہم، ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں، یہاں تک کہ تباہ کن امریکی پابندیوں سے ریلیف کے دائرہ کار اور ترتیب کے حوالے سے بھی۔\n\nایران کے اندر، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنے 36 سالہ دور کے سنگین ترین بحران کا سامنا ہے، جہاں معیشت سخت پابندیوں کے بوجھ تلے جدوجہد کر رہی ہے اور جنوری میں بڑے ہنگاموں اور خونی کریک ڈاؤن کے بعد نئے مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔\n\nبین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کی بھی مذاکرات کے دوران جنیوا میں موجودگی متوقع ہے تاکہ وہ دونوں فریقین کے ساتھ بات چیت کر سکیں، جیسا کہ انہوں نے گذشتہ ہفتے کیا تھا۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nامریکہ\n\nایران\n\nجوہری مذاکرات\n\nاس بات چیت کا مقصد دیرینہ ایٹمی تنازعے کو حل کرنا اور بڑے پیمانے پر فوجی تیاریوں کے بعد ایران پر نئے امریکی حملوں کو روکنا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, فروری 26, 2026 - 07:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی 17 فروری 2026 کو جنیوا میں سوئٹزرلینڈ اور ایران کے درمیان دوطرفہ ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nجنیوا مذاکرات سے قبل ٹرمپ کے دباؤ کے خلاف ایران کا سخت ردِعمل\n\nایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت کبھی نہیں دوں گا: صدر ٹرمپ\n\nامریکی حملے کی صورت میں ’سخت جوابی کارروائی‘ کا ایرانی انتباہ\n\nمختصر خبریں: ایران میں جاپانی چینل کے بیورو چیف گرفتار\n\nSEO Title:\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان آج جنیوا میں دوبارہ مذاکرات ہوں گے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "امریکہ اور ایران کے درمیان آج جنیوا میں دوبارہ مذاکرات ہوں گے"
}