{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigfv4t7fz3z6sv5rhmxhw44nnr2llk4cakismfbcxfkru3hk63hee",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfqbffgbvic2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreieo4r6gk7lyn5bxvu4cyqck6zpdpsjwjse5xvtco6rodngt6xrq5e"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 147113
},
"path": "/node/184821",
"publishedAt": "2026-02-26T03:15:26.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"پاک افغان سرحد",
"پاک افغان تعلقات",
"سرحدی کشیدگی",
"پاکستان",
"افغانستان",
"سرحدی جھڑپیں",
"اظہار اللہ",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**’جب بھی سرحد پر کشیدگی اور فائرنگ ہوتی ہے تو خوف کے سائے دوبارہ منڈلانا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم گھروں کے تہہ خانوں میں چھپ جاتے ہیں۔ زیادہ فکر بچوں کی ہوتی ہے۔‘**\n\nیہ کہنا تھا خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے سرحدی علاقے ذخہ خیل سے تعلق رکھنے والے رفیق ذخہ خیل کا، جن کا گھر پاکستان افغانستان بارڈر سے تقریباً 10 منٹ کی پیدل مسافت پر ہے اور کشیدگی کے دوران وہ مشکلات سے دوچار ہو جاتے ہیں۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دو دنوں سے پاکستان افغانستان سرحد پر دونوں جانب سے وقفے وقفے فائرنگ ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ گھروں میں محصور ہیں۔\n\nرفیق کی طرح ہزاروں پاکستانی اور افغان قبائلی باشندے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں کی وجہ سے مسائل سے دوچار ہیں۔\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی افغان صوبہ ننگرہار، پکتیا اور خوست میں، پاکستانی دعوؤں کے مطابق، ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے ٹھکانوں پر بمباری کی وجہ سے شروع ہوئی۔\n\nسرحد پر جھڑپوں کے حوالے سے ابھی تک پاکستان یا افغانستان کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nپاکستان افغانستان سرحد پر تحصیل لنڈی کوتل کی حدود میں وغاؤ، ماروسر اور شاہ کوٹ میں گذشتہ دو دنوں سے کشیدگی برقرار ہے اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق چھوٹے بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔\n\n**’زیادہ پریشانی بچوں کے لیے‘**\n\nرفیق نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کی صورت میں سرحدی علاقوں کے باسیوں کے لیے فکرمندی کی سب سے بڑی وجہ بچے ہوتے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران لوگ گھروں کے اندر بنے تہہ خانوں میں پناہ لیتے ہیں۔\n\nبقول رفیق: ’ایسی صورت حال میں ہم اپنے بچوں کے ہمراہ زیادہ وقت تہہ خانوں میں گزارتے ہیں۔‘\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n**مویشی قیمتی سرمایہ**\n\nرفیق نے مزید بتایا کہ دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے مویشی ایک بڑا سرمایہ ہوتے ہیں اور یہی صورت حال پاکستان افغانستان سرحد کے دونوں طرف رہنے والوں کی بھی ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے کی صورت میں یہاں کے باسیوں کے لیے مویشیوں کی حفاظت بھی ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔\n\n’یہ جانور ہم لوگوں کے لیے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ عام حالات میں لوگ مویشی چرانے کے لیے پہاڑوں پر لے جاتے ہیں اور فائرنگ کے دوران یہی خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کے قیمتی جانوروں کو نقصان نہ پہنچ جائے۔\n\nرفیق نے کہا کہ رمضان کے دوران علاقے کے بازار میں بھی رش نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور ضروری خریداری کے بعد لوگ جلدی واپس اپنے گھروں کو آ جاتے ہیں۔\n\n’اسی طرح سرحدوں کے قریب علاقوں میں جب کشیدگی شروع ہوتی ہے تو گھروں اور باہر کی لائٹس بھی بند رکھی جاتی ہیں۔‘\n\n**تعلیم بھی متاثر**\n\nپڑوسی ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے باعث مقامی آبادیوں میں تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔\n\nرفیق نے بتایا: ’ایسے حالات میں بچوں کو سکول بھیجنا بھی مشکل اور خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ موبائل سگنلز بھی بند کر دیے جاتے ہیں اور بعض اوقات اہل خانہ میں سے کسی کے دوسرے علاقے میں ہونے پر رابطہ بھی مشکل ہو جاتا ہے۔\n\nسرحد پر ڈیوٹی پر مامور ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ دو دنوں سے جھڑپیں جاری ہیں لیکن ابھی تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔\n\nانہوں نے قریبی علاقوں کی مشکلات کے حوالے سے بتایا کہ جب بھی کشیدگی شروع ہوتی ہے تو سرحد کے دونوں جانب رہنے والے رشتہ داروں کے لیے تشویش بڑھ جاتی ہے۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nاہلکار نے بتایا: ’دونوں جانب رشتہ داروں کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ بھی منقطع ہو جاتا ہے تو تشویش مزید بڑھ جاتی اور جب تک کشیدگی برقرار رہتی ہے دونوں جانب لوگوں کی مشکلات بھی بدستور جاری رہتی ہیں۔‘\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات گذشتہ تقریباً چار مہینوں سے کشیدہ ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان زمینی راستے اور سرحدیں بند ہیں۔\n\nتعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ماضی میں ترکی اور قطر میں مختلف نشستیں بھی ہوئی تھیں لیکن اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے تھے۔\n\nپاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان کو یہی بتایا گیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کی جانب سے سرحد پار دراندازی اور پاکستان میں شدت پسند کارروائیوں کو روکے لیکن کابل اسے پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتا ہے۔\n\nپاک افغان سرحد\n\nپاک افغان تعلقات\n\nسرحدی کشیدگی\n\nپاکستان\n\nافغانستان\n\nسرحدی جھڑپیں\n\nرفیق ذخہ خیل کی طرح ہزاروں پاکستانی اور افغان قبائلی باشندے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں کی وجہ سے مسائل سے دوچار ہیں۔\n\nاظہار اللہ\n\nجمعرات, فروری 26, 2026 - 08:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">23 فروری، 2023 کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی گزرگاہ تورخم بند نظر آ رہی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nافغان فورسز کی سرحد پر بلااشتعال فائرنگ: ترجمان وزیراعظم\n\nافغانستان میں فضائی کارروائی کے بعد ملک میں سکیورٹی سخت، درجنوں گرفتار: طلال چوہدری\n\nٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملے، کابل میں پاکستانی سفیر کی طلبی\n\nطالبان حکومت نے نائن الیون سے پہلے سے بدتر حالات پیدا کر دیے: صدر\n\nSEO Title:\n\nپاکستان افغانستان سرحدی کشیدگی: ’تہہ خانوں میں چھپ کر خود کو محفوظ رکھتے ہیں‘\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پاکستان افغانستان سرحدی کشیدگی: ’تہہ خانوں میں خود کو محفوظ رکھتے ہیں‘"
}