{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreic7nbzllxeazvac4c6ng2feupy4ca5rvoalqjgxcqxiebo7tnmfgm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfnkakigtgf2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreid72zfjl7fz6klsco3k7z4ahub267gt2zrvqtlqo3ffaj4zpswyii"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 69404
  },
  "path": "/node/184791",
  "publishedAt": "2026-02-24T07:31:17.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "انڈیا",
    "مصنوعی ذہانت",
    "سمٹ",
    "اے آئی ٹولز",
    "ستوتی مشرا",
    "ٹیکنالوجی",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ایک انڈین کمپنی نے مصنوعی ذہانت کا ایک نیا ماڈل متعارف کرایا ہے جو بنیادی موبائل فونز پر اور انٹرنیٹ کنکشن کے بغیر کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت دنیا کے دور دراز علاقوں میں اے آئی تک رسائی کو وسعت دے سکتی ہے۔**\n\nبنگلور میں قائم کمپنی سروم اے آئی نے دہلی میں ہونے والے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران اپنے نئے ماڈلز کی مکمل سیریز کا اعلان کیا۔\n\nہفتے کو ختم ہونے والے سمٹ میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی کئی بڑی شخصیات نے بطور کلیدی مقرر شرکت کی۔\n\nیہ پہلا موقع ہے کہ عالمی سطح کے اس فلیگ شپ اے آئی سمٹ کی میزبانی گلوبل ساؤتھ میں کی گئی ہے۔ انڈیا نے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے خود کو اس شعبے میں ایک مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے جو اس وقت امریکہ اور چین کے غلبے میں ہے۔ سمٹ کے دوران تعلیم، وائس ٹیکنالوجی، صحت اور گورننس سمیت مختلف شعبوں میں مقامی طور پر تربیت یافتہ اے آئی سسٹمز پیش کیے گئے۔\n\nتاہم سب سے زیادہ توجہ سروم کی جانب سے دو نئے بڑے لینگویج اے آئی ماڈلز، اپ ڈیٹ شدہ سپیچ اور وژن سسٹمز اور ایک ایسے اے آئی اسسٹنٹ پر رہی جو نوکیا طرز کے سادہ بٹن والے فون پر براہ راست اور انٹرنیٹ کے بغیر چلتا ہوا دکھایا گیا۔\n\nیہ نظام کمپنی کے مطابق سروم ایج کا حصہ ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو ریموٹ ڈیٹا سینٹرز پر انحصار کے بجائے سمارٹ فونز اور لیپ ٹاپس پر براہ راست کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے کمزور یا بالکل نہ ہونے والی کنیکٹیوٹی والے علاقوں میں بھی سپیچ ریکگنیشن، ترجمہ اور ٹیکسٹ ٹو سپیچ جیسی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ یہ پہلو انڈیا اور دیگر ترقی پذیر خطوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ اب بھی غیر مستحکم ہے۔\n\n17 فروری 2026 کو دہلی میں اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شرکت کے لیے آنے والے مہمان (ارون سنکر/ اے ایف پی)\n\n\n\n\nعالمی بینک کے 2024 تک کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی صرف تقریباً 71 فیصد آبادی انٹرنیٹ سے منسلک ہے جبکہ وہ علاقے بھی جہاں کنیکٹیوٹی موجود سمجھی جاتی ہے وہاں اکثر نیٹ ورک کے مسائل پیش آتے ہیں۔\n\nبدھ کے روز لانچ ایونٹ کے دوران سروم کے پروڈکٹ مینیجر آدتیہ دھاولا نے کہا ’ہم ایک ارب انڈینز کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے چھوٹے اور مؤثر ماڈلز انتہائی اہم ہیں۔‘\n\nسمٹ میں سروم نے اپنے اسسٹنٹ کو ایک سادہ یا ’فیچر فون‘ پر فون کال کے ذریعے چلا کر دکھایا۔ اس کے ذریعے صارفین بغیر فعال انٹرنیٹ کنکشن کے انڈین زبانوں میں بات چیت کر سکتے ہیں۔ کمپنی نے بتایا کہ وہ نوکیا برانڈ کی لائسنس ہولڈر کمپنی ایچ ایم ڈی اور چپ ساز ادارے Qualcomm کے ساتھ مل کر موجودہ موبائل پروسیسرز پر کارکردگی بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔\n\nکمپنی کے ایک بلاگ میں فیچر فونز پر توجہ کو اس بات پر نظرثانی قرار دیا گیا کہ اے آئی کو کیسے فراہم اور اس کی قیمت کیسے وصول کی جاتی ہے۔ بلاگ میں لکھا گیا ’ذہانت ہر جگہ کام کرنی چاہیے۔ دور دراز سرورز سے طلب کی جانے والی نہیں، کنیکٹیوٹی کی شرط کے پیچھے قید نہیں اور ہر سوال کے حساب سے ناپی جانے والی نہیں۔ بلکہ فوری اور مقامی ہے۔‘\n\nکمپنی کے مطابق اے آئی کو مقامی طور پر چلانے سے بار بار آنے والے کلاؤڈ اخراجات ختم ہو جاتے ہیں اور پرائیویسی بہتر ہوتی ہے۔\n\nبلاگ میں کہا گیا ’نہ فی سوال کوئی لاگت، نہ استعمال پر مبنی قیمتیں، نہ صارفین بڑھنے پر سکیلنگ کا مسئلہ۔ انفیرینس کی لاگت پہلے ہی ادا ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ ڈیوائس میں شامل ہوتی ہے۔\n\nفرانس کے صدر ایمانوئل میکرون 19 فروری 2026 کو دہلی میں اے آئی امپیکٹ سمٹ کے موقع پر سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے سے مصافحہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n’آپ کا ڈیٹا کبھی آپ کی ڈیوائس سے باہر نہیں جاتا۔ کوئی سرور آپ کے سوالات لاگ نہیں کرتا، کوئی ڈیٹابیس آپ کی گفتگو محفوظ نہیں کرتی۔‘\n\nآزاد ماہرین کے مطابق اس خیال کا ایک پہلو نیا نہیں ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیاں طویل عرصے سے اپنے بڑے ماڈلز کے چھوٹے اور تیز ورژن پیش کرتی آ رہی ہیں اور ایپل نے بھی پرائیویسی کی بنیاد پر آن ڈیوائس اے آئی کو فروغ دیا ہے۔ تاہم اصل چیلنج یہ رہا ہے کہ ایسے سسٹمز کو کم طاقتور، سستے آلات اور غیر مستحکم کنیکٹیوٹی والے ماحول میں مؤثر بنایا جائے۔\n\nکارنیل ٹیک میں آپریشنز، ٹیکنالوجی اور انوویشن کے پروفیسر کرن گیروترا نے کہا ’ایک بات یہ ہے کہ کوئی ایج ماڈل جدید آئی فون پر چل جائے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ کم طاقتور فون پر بھی کام کرے۔‘\n\nاگر کمپنی کنٹرولڈ ڈیمو سے آگے بڑھ کر کم لاگت ڈیوائسز پر مسلسل یہ صلاحیت فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو گیروترا کے مطابق اس کی کشش انڈیا کی کنیکٹیوٹی کے مسائل سے کہیں آگے جا سکتی ہے۔\n\nانہوں نے کہا ’اس بات کا امکان ہے کہ یہ منفرد پوزیشننگ انڈیا سے باہر بھی ایک بڑی مارکیٹ تلاش کر لے۔‘\n\nانڈین وزیراعظم نریندر مودی 19 فروری 2026 کو دہلی میں اے آئی امپیکٹ سمٹ میں اے آئی کمپنی کے رہنماؤں کے ساتھ ایک گروپ فوٹو میں (لڈووک مارین / اے ایف پی)\n\n\n\n\nآن ڈیوائس اسسٹنٹ کے پیچھے ماڈلز کی ایک وسیع بنیاد موجود ہے جو سمٹ میں پیش کی گئی۔ ان میں 30 ارب پیرامیٹرز پر مشتمل ایک لینگویج ماڈل اور 105 ارب پیرامیٹرز پر مشتمل ایک بڑا نظام شامل ہے۔ پیرامیٹرز وہ اندرونی اقدار ہوتی ہیں جو ماڈل تربیت کے دوران سیکھتا ہے۔ زیادہ پیرامیٹرز عموماً زیادہ پیچیدہ کاموں کی صلاحیت دیتے ہیں لیکن اس کے لیے زیادہ کمپیوٹنگ پاور درکار ہوتی ہے۔\n\nموازنہ کیا جائے تو جدید ترین نظام جیسے اوپن اے آئی کا جی پی ٹی فور اندازوں کے مطابق سیکڑوں ارب بلکہ ممکنہ طور پر کھربوں پیرامیٹرز پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے سروم کے ماڈلز دنیا کے سب سے بڑے نظاموں سے چھوٹے ہیں۔\n\nدونوں ماڈلز میں mixture-of-experts آرکیٹیکچر استعمال کیا گیا ہے جس میں ایک وقت میں کل پیرامیٹرز کا صرف ایک حصہ فعال ہوتا ہے جس سے کمپیوٹنگ لاگت کم ہو جاتی ہے۔ 30 ارب پیرامیٹرز والا ماڈل گفتگو کے لیے 32 ہزار ٹوکنز کا کانٹیکسٹ ونڈو فراہم کرتا ہے جبکہ 105 ارب پیرامیٹرز والا ماڈل زیادہ پیچیدہ استدلال کے لیے 128 ہزار ٹوکنز کا ونڈو رکھتا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nماہرین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ سروم سلیکون ویلی یا بیجنگ سے ماڈل کے حجم میں مقابلہ کر سکتا ہے یا نہیں بلکہ یہ کہ آیا اسے ایسا کرنے کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔\n\nگیروترا نے کہا ’یہ ایسا نہیں کہ آپ براہ راست سب سے ذہین ماڈل کے لیے مقابلہ کریں۔ دانشمندانہ حکمت عملی یہ ہو گی کہ اپنی طاقتوں پر مقابلہ کیا جائے جیسا کہ ہر ملک میں ہوتا ہے۔‘\n\nان کے مطابق کمپنی نے ’چند ایسے پہلو منتخب کیے ہیں جہاں اسے اسٹریٹیجک برتری حاصل ہو سکتی ہے اور وہ اسی پر توجہ دے رہی ہے جو درست حکمت عملی ہے۔‘\n\nیہ سب سروم کو اے آئی مارکیٹ کے ایک مختلف حصے میں لے آتا ہے۔\n\nانہوں نے کہا ’کیا یہ چیٹ جی پی ٹی سے مقابلہ کر رہے ہیں؟ ہر چیٹ جی پی ٹی صارف کے لیے نہیں۔ اعلیٰ درجے کے انٹرپرائز صارف کے لیے شاید نہیں۔ لیکن وہ صارف جو وسائل کی کمی کا شکار ہو اور مقامی زبانوں کی ضرورت رکھتا ہو، اس کے لیے یقیناً۔‘\n\nاے آئی کمپنی کا نمائندہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ زیورات دکھا رہا ہے، جو 17 فروری 2026 کو دہلی میں اے آئی امپیکٹ سمٹ میں پیش کیے گئے (ارون سنکر / اے ایف پی)\n\n\n\n\nانڈیا کے اے آئی سمٹ میں بنیادی توجہ ’خودمختاری‘ کے مسئلے پر رہی ہے یعنی یہ کہ انڈیا اور دیگر ترقی پذیر ممالک عالمی سطح پر اے آئی کی ترقی میں اپنا کردار کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں۔\n\nاگرچہ کچھ ناپسندیدہ عوامل بھی سامنے آئے جن میں ایک انڈین یونیورسٹی کی جانب سے چینی روبوٹ ڈاگ کی تیاری کا دعویٰ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی کے دوران سمٹ مقام کی کئی گھنٹوں پر محیط خالی کرانے کی کارروائیاں شامل تھیں تاہم اس کے باوجود متعدد اعلانات ایسے تھے جو اے آئی کی دوڑ میں انڈیا کے بڑے کھلاڑی بننے کے عزم کی نشاندہی کرتے ہیں۔\n\nسروم اے آئی کے علاوہ اس ہفتے کئی نئے ماڈلز بھی متعارف کرائے گئے۔ انڈیا کی بڑی آئی ٹی کمپنی Tech Mahindra نے تعلیم اور شہری خدمات کے لیے ایک ہندی فرسٹ لینگویج ماڈل پیش کیا۔ اسی طرح http://Gnani.ai جیسے سٹارٹ اپس نے کثیر لسانی وائس اے آئی سسٹم متعارف کرایا جبکہ BharatGen اور Fractal Analytics نے مخصوص شعبوں کے لیے تیار کردہ ماڈلز پیش کیے۔\n\nسروم کا کہنا ہے کہ اس کے نئے ماڈلز کو غیر ملکی ملکیتی نظاموں کو بہتر بنانے کے بجائے حکومتی تعاون سے فراہم کردہ کمپیوٹنگ وسائل کے ذریعے مقامی طور پر تربیت دی گئی ہے۔\n\nانڈیا\n\nمصنوعی ذہانت\n\nسمٹ\n\nاے آئی ٹولز\n\nسروم اے آئی کا متعارف کیا گیا یہ ماڈل دنیا میں دور دراز علاقوں میں مصنوعی ذہانت تک رسائی کو ممکن بنائے گا۔\n\nستوتی مشرا\n\nمنگل, فروری 24, 2026 - 13:30\n\nMain image:\n\n> <p>17 فروری 2026 کو دہلی میں اے آئی امپیکٹ سمٹ میں دکھائے گئے ورچوئل رئیلٹی ہیڈسیٹ کے ہورڈنگ کے پاس سے گزرتے ہوئے لوگ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں (ارون سنکر / اے ایف پی)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا سمٹ: ایپسٹین کے معاملے پر تنقید پر بل گیٹس کا خطاب سے انکار\n\nچینی روبوٹ اپنی ایجاد بتانے پر انڈین یونیورسٹی اے آئی سمٹ سے باہر\n\nانڈیا میں چینی روبوٹ کتا: مصنوعی ذہانت بمقابلہ فطری حماقت\n\nانڈیا کے واحد ہاتھی گاؤں کی دلچسپ زندگی\n\nSEO Title:\n\nانڈیا سمٹ: مقامی کمپنی کا بغیر انٹرنیٹ موبائل فونز پر چلنے والا اے آئی ماڈل متعارف\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/india/sarvam-ai-edge-app-india-summit-b2924228.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "انڈیا سمٹ: مقامی کمپنی کا بغیر انٹرنیٹ فون پر چلنے والا اے آئی ماڈل متعارف"
}