{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihdw4to4vhqwvbyqfjlvycojnpbbb5dlhseqffomahhgtmkoti3xa",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfjrigbye7v2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihi26b7on6twexasudgemosnmjdq6nmtwm636cwffqldlcvv4x3ae"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 68692
},
"path": "/node/184778",
"publishedAt": "2026-02-23T12:03:54.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پنجاب",
"محکمہ تعلیم",
"اساتذہ",
"لباس",
"گاؤن",
"ارشد چوہدری",
"دفتر",
"video"
],
"textContent": "**محکمہ تعلیم پنجاب نے تمام سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ آج 23 فروری سے ڈیوٹی کے اوقات میں ڈریس کوڈ کے ساتھ سیاہ رنگ کا گاؤن لازمی پہنیں، جس پر بیشتر سکولوں میں عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔**\n\nای پی ایس ہائی سکول ماڈل ٹاؤن کی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ انہوں نے اساتذہ کے لیے 2010 سے ہی گاؤن لازمی قرار دیا ہوا ہے، جسے دیکھ کر حکومت نے پورے پنجاب میں گاؤن پہننا لازمی قرار دیا۔\n\nپاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی سرکاری کالجوں اور جامعات میں پہلے ہی اساتذہ کے لیے گاؤن پہننا لازمی ہوتا ہے، لیکن سکولوں کے اساتذہ گاؤن نہیں پہنتے تھے۔\n\nحکومت پنجاب نے اساتذہ کے لیے یونیفارم ڈریس لازمی قرار نہیں دیا، البتہ مرد اور خواتین اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صاف ستھرے کپڑے اور بند جوتے پہنیں اور کپڑوں کے اوپر گاؤن استعمال کریں تاکہ سکولوں میں معیار تعلیم میں بہتری کے ساتھ پڑھائی کا ماحول بھی بہتر نظر آئے۔\n\nگورنمنٹ اے پی ایس بوائز ہائی سکول ماڈل ٹاؤن لاہور کے سینئر سٹاف ٹیچر مظہر وٹو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’ہمارے سکول میں 2010 سے ہی اساتذہ کے لیے گاؤن پہننا لازمی ہے۔\n\nیہاں اساتذہ گزشتہ 15 سال سے سیاہ گاؤن پہن کر کلاسوں میں پڑھا رہے ہیں، تاہم سینیئر اساتذہ کے لیے سبز رنگ کا گاؤن ہوتا ہے۔ موسم سرد ہو یا گرم، سکول انتظامیہ نے اسے لازمی قرار دیا ہوا ہے۔ گرمی کے موسم میں گاؤن پہننا تھوڑا مشکل ضرور ہوتا ہے، مگر مجموعی طور پر کوئی بڑی دقت نہیں۔‘\n\nمحکمہ تعلیم پنجاب نے تمام سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو ڈیوٹی کے اوقات میں ڈریس کوڈ کے ساتھ سیاہ رنگ کا گاؤن لازمی قرار دیا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nانہوں نے کہا: ’ہم اپنی تقریبات میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کو مدعو کرتے ہیں اور ان تقریبات کی تصاویر فیس بک پر بھی اپ لوڈ کرتے ہیں۔ شاید انہیں دیکھ کر ہی حکومت نے صوبے بھر میں اساتذہ کے لیے گاؤن پہننا لازمی قرار دیا ہے۔‘\n\nدوسری جانب ٹیچرز یونین کے سیکرٹری جنرل رانا لیاقت نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’اساتذہ کو گاؤن پہنانے کے بجائے معیار تعلیم اور اساتذہ کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے۔‘\n\nان کے بقول: ’اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور اساتذہ کو فنڈز اور ٹیچنگ الاؤنس دیا جائے، کیونکہ فوری طور پر گاؤن کی خریداری ممکن نہیں۔ اس کے لیے وقت اور رقم درکار ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ’ایک اچھا اور معیاری گاؤن مارکیٹ میں دو سے تین ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ موسم گرما اور سرما کے لحاظ سے ہر استاد کے لیے کم از کم چار گاؤن ضروری ہیں۔ تین لاکھ سرکاری اساتذہ کے لیے فوری خریداری ممکن نہیں اور نہ ہی اتنی بڑی تعداد میں مارکیٹ میں دستیابی ممکن ہے۔‘\n\nسرکاری سکول ٹیچر ظفر اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’اساتذہ کو گاؤن پہنانے کا فیصلہ بہتر ہے۔ ہم نے آج سے اس پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ اس سے اساتذہ کی شخصیت میں بہتری آئے گی۔‘\n\nان کے بقول: ’جب ہم طلبہ کو یونیفارم پہننے کا کہتے ہیں تو جب وہ ہمیں گاؤن میں دیکھیں گے تو وہ بھی اپنی یونیفارم پر فخر کریں گے۔ اس سے پڑھانے میں بھی توجہ بڑھے گی۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nگورنمنٹ گرلز سکول گجومتہ کی پرنسپل شاہدہ پروین نے کہا کہ ’ہمارے سٹاف نے محکمہ تعلیم کے حکم پر گاؤن پہننا شروع کر دیا ہے۔ سیاہ رنگ کے گاؤن پہننے کا سلسلہ تو شروع ہو چکا ہے، لیکن اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے وقت بہت کم دیا گیا ہے۔‘\n\n**گاؤن کا پس منظر کیا ہے؟**\n\nبرٹش سوسائٹی آف اکیڈمکس کے ریکارڈ کے مطابق اساتذہ کے گاؤن پہننے کا تاریخی پس منظر بنیادی طور پر یورپی یونیورسٹیوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ روایت آج بھی گریجویشن اور اکیڈمک تقاریب میں استعمال ہوتی ہے۔ 12ویں اور 13ویں صدی میں جب یورپ میں ابتدائی یونیورسٹیاں وجود میں آئیں، جیسے بولونیا، پیرس، آکسفورڈ اور کیمبرج، تو بیشتر اساتذہ اور طلبہ مشنری اداروں کا پس منظر رکھتے تھے۔ وہ چرچ کے عہدیداروں کی طرح لباس پہنتے تھے کیونکہ تعلیم زیادہ تر مذہبی اور لاطینی زبان میں ہوتی تھی۔\n\nگاؤن دراصل ایک لمبا، ڈھیلا لباس تھا جو ٹھنڈی اور بغیر حرارتی عمارتوں میں گرمی فراہم کرنے کے لیے بھی پہنا جاتا تھا۔ یہ لباس سادگی اور مساوات کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ 14ویں صدی میں انگلینڈ کی بعض جامعات نے اسے لازمی قرار دیا اور یوں یہ اکیڈمک لباس کی مستقل روایت بن گیا۔\n\nسوسائٹی اکیڈمک کے مطابق مسلم جامعات جیسے الازہر، قرطبہ اور فاس میں بھی علما لمبے اور ڈھیلے لباس پہنتے تھے۔\n\nیورپی طلبہ وہاں سے تعلیم حاصل کر کے واپس جاتے تو اسی طرز کا لباس اختیار کرتے تاکہ ظاہر ہو سکے کہ وہ مسلم جامعات سے فارغ التحصیل ہیں۔ پاکستان اور برصغیر میں بھی یہ روایت انگریزی تعلیمی نظام کے ذریعے آئی اور آج گریجویشن اور تعلیمی تقاریب میں استعمال ہوتی ہے۔\n\nپنجاب\n\nمحکمہ تعلیم\n\nاساتذہ\n\nلباس\n\nگاؤن\n\nمحکمہ تعلیم پنجاب کے اساتذہ کے لیے گاؤن لازمی قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع ہوگیا، تاہم اساتذہ تنظیموں نے اضافی اخراجات اور کم وقت پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔\n\nارشد چوہدری\n\nسوموار, فروری 23, 2026 - 17:00\n\nMain image:\n\n> <p>محکمہ تعلیم پنجاب نے تمام سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو ڈیوٹی کے اوقات میں ڈریس کوڈ کے ساتھ سیاہ رنگ کا گاؤن لازمی قرار دیا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nدفتر\n\njw id:\n\nor4VzfJA\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nجامعات میں اساتذہ کی کارکردگی کیسے جانچی جائے؟\n\nپنجاب کے سرکاری سکولوں میں 18 لاکھ گھوسٹ طلبہ، 46 ہزار اضافی اساتذہ\n\nپنجاب: سرکاری سکولوں، کالجز میں اساتذہ کی ایڈہاک بھرتی شروع\n\nسکالرشپس پر جانے والے 12 اساتذہ وطن نہیں لوٹے: جامعہ پنجاب\n\nSEO Title:\n\nپنجاب کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کے لیے گاؤن لازمی، فیصلے پر نئی بحث\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پنجاب کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کے لیے گاؤن لازمی، فیصلے پر نئی بحث"
}