{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicb3ljcp5axqz64i4gczxiklxbu5ptrqu233m2ifbpe6di3kkpqlq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfj5emeqxag2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihwkptoqe7655sd4lnq3lovi7traevblsw44bhg734knzuifmkzxq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 86531
},
"path": "/node/184768",
"publishedAt": "2026-02-23T05:28:03.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"February 22, 2026",
"ایران",
"عباس عراقچی",
"تہران",
"امریکہ",
"اے ایف پی",
"دنیا",
"news",
"@badralbusaidi"
],
"textContent": "**علاقائی ثالث عمان کے وزیر خارجہ نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے مذاکرات کار رواں ہفتے جمعرات کو جنیوا میں دوبارہ ملاقات کریں گے۔**\n\nاپنے اکاؤنٹ سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بدر البوسعیدی نے کہا کہ بات چیت ’معاہدے کو حتمی شکل دینے کی جانب اضافی کوشش کرنے کے مثبت جذبے کے ساتھ‘ دوبارہ شروع ہوگی۔\n\nدوسری جانب مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت کے بڑے پیمانے پر جمع ہونے کے باوجود، جمعرات کو امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع ہونے پر ایرانی حکام نے نئے تنازعے کو روکنے کے لیے معاہدے کی جانب پیش رفت کی امید ظاہر کی ہے۔\n\nاتوار کو سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ بات چیت سے قبل ایک ممکنہ معاہدے کی تفصیلات تیار کی جا رہی ہیں، جب کہ اس سے قبل واشنگٹن کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے کھلے عام حیرت کا اظہار کیا تھا کہ تہران نے ابھی تک ’ہتھیار کیوں نہیں ڈالے؟‘\n\nگذشتہ سال دسمبر کے آخر اور جنوری کے آغاز میں ایران میں ملک گیر احتجاجی تحریک ایک ایسے کریک ڈاؤن کا سبب بنی تھی جس کے بارے میں انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس میں ہزاروں افراد جان سے گئے اور اس کے بعد سے امریکی فوجی کارروائی کی دھمکیوں میں اضافہ ہوا۔\n\nاتوار کو ایرانی طلبہ نے ایک بار پھر حکومت کے حق اور مخالفت میں مظاہرے کیے، جن میں مذہبی قیادت کے ناقدین کو پکڑے جانے کی صورت میں گرفتاری یا اس سے بھی بدتر نتائج کا خطرہ تھا۔\n\n> Pleased to confirm US-Iran negotiations are now set for Geneva this Thursday, with a positive push to go the extra mile towards finalizing the deal.\n>\n> — Badr Albusaidi - بدر البوسعيدي (@badralbusaidi) February 22, 2026\n\nخطے میں امریکی مفادات کو ممکنہ اہداف کے طور پر اشارہ کرتے ہوئے، عراقچی نے کہا کہ ’اگر امریکہ ہم پر حملہ کرتا ہے، تو ہمیں اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔‘\n\nاس کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ سفارتی حل کا ایک اچھا موقع موجود ہے۔‘\n\nایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی اسی طرح کہا کہ گذشتہ بات چیت سے ’حوصلہ افزا اشارے ملے۔‘\n\nجنیوا میں بات چیت کے حالیہ دور کے بعد، ایران نے کہا کہ وہ ایک ایسے معاہدے کے لیے مسودہ تجویز تیار کر رہا ہے جس سے فوجی کارروائی کو روکا جا سکے۔\n\nعراقچی نے سی بی ایس کو بتایا، 'میرا خیال ہے کہ جب ہم ملیں گے، جو غالباً اس جمعرات کو جنیوا میں دوبارہ ہوگا، تو ہم ان عوامل پر کام کر سکتے ہیں اور ایک اچھا مسودہ تیار کر کے جلد معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔‘\n\nامریکہ نے حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ میں دو طیارہ بردار بحری جہازوں کے ساتھ دیگر جنگی طیارے اور بحری جہاز بھیجے ہیں، اور فوجی مداخلت کی اپنی دھمکیوں کو تقویت دینے کے لیے خطے میں اپنے فضائی دفاع کو بھی مضبوط کیا ہے۔\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے اعلیٰ مذاکرات کار سٹیو وٹکوف نے ہفتے کو نشر ہونے والے فاکس نیوز کے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی صدر یہ سوال کر رہے تھے کہ ایران نے ابھی تک دباؤ کے سامنے گھٹنے کیوں نہیں ٹیکے؟\n\nانہوں نے کہا کہ 'وہ یہ جاننے کے لیے متجسس ہیں کہ انہوں نے اب تک... میں ہتھیار ڈالنے کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتا، لیکن انہوں نے ہتھیار کیوں نہیں ڈالے؟'\n\n'وہ ہمارے پاس کیوں نہیں آئے اور یہ کیوں نہیں کہا کہ، ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں ہتھیار نہیں چاہیے، لہٰذا ہم یہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟'\n\nیورینیم کی افزودگی کے موضوع پر، عراقچی نے اتوار کو کہا کہ ایران کو ’اپنے لیے فیصلہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔‘\n\n**جنگ کے خدشات**\n\nگذشتہ سال سفارت کاری کا دور ایران پر اسرائیل کی بمباری مہم کے باعث منقطع ہو گیا تھا۔\n\nاس نے جون میں 12 روزہ تنازعے کو جنم دیا جس میں امریکہ بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے ساتھ مختصر طور پر شامل ہوا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nعمان کی ثالثی میں ہونے والی حالیہ بات چیت کے باوجود، ایرانیوں میں ایک نئے تنازعے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔\n\nتہران کے رہائشی حامد نے بتایا، ’میں گولیاں کھا کر بھی رات کو ٹھیک سے نہیں سو پاتا۔‘\n\n46 سالہ آئی ٹی ٹیکنیشن مینا احمدوند کا ماننا ہے کہ 'اس مرحلے پر، ایران اور امریکہ کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے درمیان جنگ ناگزیر ہے۔‘\n\n’میں نہیں چاہتی کہ جنگ ہو، لیکن کسی کو زمینی حقائق سے کھلواڑ نہیں کرنا چاہیے۔‘\n\nان خدشات نے سویڈن، سربیا، پولینڈ اور آسٹریلیا سمیت کئی بیرونی ممالک کو اپنے شہریوں پر زور دینے پر مجبور کیا ہے کہ وہ ایران چھوڑ دیں۔\n\nایران\n\nعباس عراقچی\n\nتہران\n\nامریکہ\n\nایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انٹرویو میں کہا کہ جوہری پروگرام پر دوبارہ بات چیت سے قبل ایک ممکنہ معاہدے کی تفصیلات تیار کی جا رہی ہیں۔\n\nاے ایف پی\n\nسوموار, فروری 23, 2026 - 10:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">17 فروری 2026 کو جنیوا میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ اگنازیو کاسس امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران سوئٹزرلینڈ اور ایران کے درمیان ایک دو طرفہ ملاقات میں شریک ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران جوابی مسودے کی تیاری میں مصروف، ٹرمپ کا ایران پر محدود حملوں پر غور\n\nایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے ٹرمپ کا محدود کارروائی پر غور: امریکی اخبار\n\nایران کا امریکہ سے معاہدہ کرنا ’دانش مندی‘ ہو گی: وائٹ ہاؤس\n\nایران سے مذاکرات میں بالواسطہ شامل رہوں گا: ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nامریکہ، ایران مذاکرات جمعرات کو جنیوا میں ہوں گے، عمانی وزیر خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "امریکہ، ایران مذاکرات جمعرات کو جنیوا میں ہوں گے، عمانی وزیر خارجہ"
}