{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiggdc5zxwxojhcy4qm5b3einb4su7ins3hl4yt73xuikddkurmy5m",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfj5e6odu2q2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidmiyoidtegk2nzjhkxif6blegac5hlcxahmgpkd74ooswwkmf74u"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 77896
},
"path": "/node/184769",
"publishedAt": "2026-02-23T06:00:12.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افواج پاکستان",
"افغانستان",
"افغان طالبان",
"کالعدم تحریک طالبان پاکستان",
"فضائی حملے",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**صدر آصف علی زداری نے افغانستان میں حالیہ فضائی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے اقدامات اپنے عوام کو سرحد پار سے ’دہشت گردی‘ سے محفوظ رکھنے کےحق دفاع پر مبنی ہیں اور حالات ستمبر 2001 سے بھی بدتر ہو گئے ہیں۔**\n\nملک میں عسکریت پسندوں کے حالیہ حملوں کے جواب میں پاکستان نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے صوبہ ننگر ہار اور پکتیکا میں فضائی حملوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش خراسان کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق 80 جنگجو مارے گئے۔\n\nافغانستان نے اس حملے پر احتجاج کرتے ہوئے کابل میں تعینات پاکستانی سفیر کو طلب کر کے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کا تحفظ اسلامی امارت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور خبردار کیا کہ ایسے فوجی اقدامات سے پیدا ہونے والی کسی بھی منفی صورت حال کی ذمہ داری پاکستانی فریق پر عائد ہو گی۔\n\nافغان وزارت دفاع نے اتوار کو ایکس پوسٹ میں کہا کہ پاکستانی حملوں کا ’انشاللہ مناسب وقت پر موزوں اور نپا تلا جواب دیا جائے گا۔‘\n\nصدر آصف علی زداری نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں ’طالبان حکومت نے ایسے حالات پیداکر دے،جو 9/11 سے پہلے کی صورت حال سے بھی بدتر ہیں۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ ’طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔‘\n\nپاکستانی صدر کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو بھی خبردار کیا گیا تھا جب ’دہشت گرد وں‘ کو سہولت دی جائے تونتائج دنیا بھر میں بے گناہ شہری بھگتتے ہیں۔\n\n’افغانستان میں طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں اور افغان رجیم دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جانی چاہیے۔\n\nصدر آصف علی زرداری نےکہا کہ ’سرحد پار دہشت گردی کے خلاف برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے۔ پاکستانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔\nسوشل میڈیا ایکس پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے حالیہ اقدامات اپنی عوام کوسرحد پار سے آنے والی دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے فطری حقِ دفاع پر مبنی ہیں، اور یہ ایسے متعدد انتباہات کے بعد کیے گئے ہیں جنہیں نظر انداز کیا جاتا رہا۔\n\nایوان صدر سے جاری بیان میں آصف زداری نے کہا کہکہ یہ گہری تشویش کا باعث ہے کہ ’کابل میں قائم عملی (ڈی فیکٹو) حکام، جس حکومت کو اقوام متحدہ تسلیم نہیں کرتی، افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کو سرگرم رہنے کی اجازت دیتے رہے ہیں، جو دوحہ معاہدے میں کیے گئے ان وعدوں کی خلاف ورزی ہے جن کے تحت یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nصدر آصف علی زرداری نے کہاکہ پاکستان نے طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنی کارروائیوں کو سرحدی علاقوں کے قریب واقع دہشت گرد ٹھکانوں تک محدود رکھا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ تشدد کی منصوبہ بندی کرنے والے، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں۔\n’اگر پاکستان کے اندر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔‘\n\nصدر مملکت نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی تازہ ترین رپورٹ نے بھی پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو مزید تقویت دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’متعدد رکن ممالک مسلسل رپورٹ کر رہے ہیں کہ داعش خراسان ، ٹی ٹی پی، القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ المعروف ترکستان اسلامک پارٹی ، جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔ بعض گروہوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال کیا ہے یا کر رہے ہیں۔‘\n\nپارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے پیر کو اس بات پر زور دیا کہ قومی سلامتی کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا اور پاکستان نے افغانستان میں ’دہشت گردوں‘ کے ٹھکانوں پر کارروائی کرتے ہوئے 80 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔\n\nدانیال چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ لیکن جب افغان سرزمین مسلسل پراکسی حملوں کے لیے استعمال ہوتی رہے تو ہمارے پاس اپنے وطن کے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ قومی سلامتی ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔‘\n\nافواج پاکستان\n\nافغانستان\n\nافغان طالبان\n\nکالعدم تحریک طالبان پاکستان\n\nفضائی حملے\n\nصدر زرداری نے کہا کہ ’سرحد پار دہشت گردی کے خلاف برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے۔ پاکستانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔‘\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, فروری 23, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس بات پر شدید تحفظات ہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو 9/11 سے پہلے کے دور جیسے یا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں (ریڈیو پاکستان)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا، افغانستان پاکستان کے خلاف ’ایک صفحے‘ پر: خواجہ آصف\n\nٹی ٹی پی ’خطے سے باہر بھی خطرہ‘ بن سکتی ہے: سلامتی کونسل\n\nطالبان افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں: پاکستان\n\nٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملے، کابل میں پاکستانی سفیر کی طلبی\n\nSEO Title:\n\nافغان طالبان حکومت نے نائن الیون سے پہلے سے بھی بدتر حالات پیدا کر دیے: پاکستانی صدر\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "افغان طالبان حکومت نے نائن الیون سے پہلے سے بھی بدتر حالات پیدا کر دیے: پاکستانی صدر"
}