{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicpbzqepku75a552rj3yhq4rj47s56623w7224zkbj2brqweac4ga",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfiobgkdmww2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreif66bgcqtyjs6favs74asyxv3rnovn4x63j4aqn3sp47pruzmr7sq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 65244
  },
  "path": "/node/184761",
  "publishedAt": "2026-02-22T11:38:32.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران",
    "امریکہ",
    "کشیدگی",
    "جوہری مذاکرات",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "روئٹرز",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور مارچ کے اوائل میں متوقع ہے۔**\n\nعہدیدار کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان ایک عبوری معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔\n\nادھر ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی کے معاملے پر دونوں ممالک کے مؤقف میں اختلاف برقرار ہے۔\n\nروئٹرز کے مطابق ایرانی عہدیدار نے کہا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں یہ واضح ہوا کہ پابندیوں میں نرمی کے طریقہ کار اور دائرہ کار سے متعلق امریکی تجاویز ایران کے مطالبات سے مختلف ہیں، اس لیے دونوں فریقوں کو پابندیاں اٹھانے کے لیے ایک قابل عمل اور باہمی مفادات پر مبنی ٹائم لائن پر اتفاق کرنا ہوگا۔\n\nرپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ نے رواں ماہ کے آغاز میں تہران کے جوہری پروگرام پر دہائیوں پر محیط تنازع حل کرنے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے نے ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ ایرانی حکام پہلے خبردار کر چکے ہیں کہ حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔\n\nایرانی عہدیدار کے مطابق تہران ماضی کی طرح ’صفر افزودگی‘ کے امریکی مطالبے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، تاہم جوہری سرگرمیوں میں لچک دکھانے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے بشرطیکہ یورینیم افزودگی کے پرامن حق کو تسلیم کیا جائے۔\n\nایرانی عہدیدار نے کہا: ’مذاکرات کے آخری دور سے واضح ہوا کہ پابندیوں میں نرمی کے دائرہ کار اور طریقہ کار سے متعلق امریکی تصورات ایران کے مطالبات سے مختلف ہیں۔ دونوں فریقوں کو پابندیاں ختم کرنے کے لیے ایک منطقی ٹائم ٹیبل پر متفق ہونا ہوگا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’یہ روڈ میپ معقول ہونا چاہیے اور باہمی مفادات پر مبنی ہونا چاہیے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ چند دنوں میں جوابی تجاویز کا مسودہ تیار ہونے کی توقع رکھتے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محدود فوجی کارروائی پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔\n\nامریکہ ایران کے اندر افزودگی کو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی راہ سمجھتا ہے جبکہ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔\n\nعہدیدار نے کہا کہ ممکنہ سمجھوتے کے تحت ایران اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے ایک حصے کو بیرون ملک منتقل کرنے، اس کی افزودگی کی سطح کم کرنے یا علاقائی افزودگی کنسورشیم کے قیام جیسے اقدامات پر غور کر سکتا ہے، اگر اس کے بدلے ایران کے پرامن جوہری حق کو تسلیم کیا جائے۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور عبوری معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق سفارتی حل دونوں ممالک کے لیے اقتصادی فوائد کا باعث بن سکتا ہے جبکہ امریکہ کو ایران کے تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی دیے جا سکتے ہیں۔ تاہم تہران اپنے تیل اور معدنی وسائل پر کنٹرول کسی صورت ترک نہیں کرے گا، البتہ امریکی کمپنیاں کنٹریکٹر کے طور پر منصوبوں میں حصہ لے سکتی ہیں۔\n\nیہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور فریقین سفارتی راستہ اختیار کرتے ہوئے تنازع کے حل کی کوشش کر رہے ہیں۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nکشیدگی\n\nجوہری مذاکرات\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nایک سینیئر ایرانی عہدیدار کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان ایک عبوری معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔\n\nروئٹرز\n\nاتوار, فروری 22, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی 17 فروری 2026 کو جنیوا میں سوئٹزرلینڈ اور ایران کے درمیان دوطرفہ ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران جوابی مسودے کی تیاری میں مصروف، ٹرمپ کا ایران پر محدود حملوں پر غور\n\nایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے ٹرمپ کا محدود کارروائی پر غور: امریکی اخبار\n\nایران کا امریکہ سے معاہدہ کرنا ’دانش مندی‘ ہو گی: وائٹ ہاؤس\n\nایران سے مذاکرات میں بالواسطہ شامل رہوں گا: ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور مارچ میں متوقع: روئٹرز\n\ncopyright:\n\nTranslator name:\n\nعبدالقیوم\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور مارچ میں متوقع: روئٹرز"
}