{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigt3fz67bx3am3ayvhffsfjtbzepdsqm3jr2mfgbm4p7ztisvqafi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfiobbbjaqt2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreid4nwi7qenjrahlvoajimwl6dxsffh46hwhj4h4cw4ul4cva4w4x4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 136301
  },
  "path": "/node/184762",
  "publishedAt": "2026-02-22T12:45:04.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "https://t.co/uLYnuuVZLw",
    "February 22, 2026",
    "عبدالقیوم شاہد",
    "ایشیا",
    "video",
    "@EconomicTimes"
  ],
  "textContent": "**انڈین ایئر فورس کا مقامی سطح پر تیار کردہ ایک اور اور لائٹ کمبیٹ ایئرکرافٹ (ایل سی اے) تیجس حادثے کا شکار ہو گیا۔**\n\nانڈین اخبار اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس حادثے کے بعد طیاروں کے اس بیڑے کی جامع جانچ شروع کر دی گئی ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔\n\nاکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حادثہ رواں ماہ کے آغاز میں ایک اہم فضائی اڈے پر اس وقت پیش آیا جب لڑاکا طیارہ تربیتی پرواز مکمل کرنے کے بعد لینڈنگ کر رہا تھا۔\n\nحادثے میں طیارے کو شدید نقصان پہنچا اور امکان ہے کہ اسے سروس سے خارج کر دیا جائے گا تاہم پائلٹ محفوظ رہا اور اسے کوئی سنگین چوٹ نہیں آئی۔\n\nرپورٹ کے مطابق یہ طیارہ ان 32 سنگل سیٹ ایل سی اے طیاروں میں شامل تھا جو ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے فضائیہ کے حوالے کیے تھے۔\n\n> Another Tejas light combat aircraft lost in accident, pilot safe https://t.co/uLYnuuVZLw\n>\n> — Economic Times (@EconomicTimes) February 22, 2026\n\nاس طیارے کے زیادہ جدید ایم کے ون اے (Mk1A) ورژن کی فراہمی پہلے ہی متعدد بار تاخیر کا شکار ہو چکی ہے حالانکہ فضائیہ اس ماڈل کے 180 طیاروں کا آرڈر دے چکی ہے۔ یہ تیجس بیڑے سے متعلق تیسرا بڑا حادثہ ہے۔\n\nپہلا بڑا حادثہ مارچ 2024 میں پیش آیا تھا جب ایک ایل سی اے جیسلمیر کے قریب فائر پاور مظاہرے سے واپسی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس واقعے میں پائلٹ نے بروقت ایجیکٹ کر کے جان بچا لی تھی۔\n\nدوسرا حادثہ نومبر 2025 میں دبئی ایئر شو کے دوران پیش آیا، جب ایک تیجس طیارہ فضائی کرتب کے مظاہرے کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں پائلٹ ونگ کمانڈر نمنش سیال جان کی بازی ہار گئے جبکہ اس واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔\n\nحالیہ حادثے کے بعد فضائیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت تیجس طیاروں کے بیڑے کی تفصیلی جانچ شروع کر دی ہے تاکہ حادثے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔\n\nدبئی ایئر شو میں انڈیا کا روایتی حریف پاکستان بھی شریک تھا جو مئی کی بڑی فضائی جھڑپ کے بعد پہلی آمنے سامنے آئے تھے۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس طرح شو کے دوران طیارہ تباہ ہونے سے انڈیا کی ان کوششوں کو دھچکا لگے گا جن کے تحت وہ چار دہائیوں کی محنت کے بعد اس جہاز کو بیرون ملک متعارف کروانا چاہتا ہے۔\n\nدبئی، جو پیرس اور برطانیہ کے فارنبرو کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا ایئر شو ہے، میں ایسا حادثہ انتہائی غیر معمولی تھا۔\n\nامریکی تھنک ٹینک مِچل انسٹی ٹیوٹ فار ایروسپیس سٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس اے برکی نے روئٹرز کو بتایا: ’یہ منظر بہت بھاری ہے۔ ایئر شوز وہ جگہ ہیں جہاں قومیں اپنی بڑی ٹیکنالوجیکل کامیابیاں دکھاتی ہیں، اور وہاں کریش بالکل الٹا پیغام دیتا ہے۔‘\n\nان کے مطابق منفی تشہیر کے باوجود امکان ہے کہ تیجس پروگرام طویل المدتی طور پر اپنا توازن دوبارہ حاصل کر لے گا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتیجس پروگرام 1980 کی دہائی میں پرانے سوویت میگ-21 کو تبدیل کرنے کے لیے شروع ہوا تھا لیکن اس کی ترقی طویل عرصے تک تکنیکی رکاوٹوں، مقامی انجن کی ناکامی اور انڈیا کے 1998 کے ایٹمی تجربات کے بعد پابندیوں کے باعث سست رہی۔\n\nحالیہ برسوں میں انڈیا نے ہندستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے ذریعے تیجس کے 180 طیاروں کے آرڈر دیے ہوئے ہیں مگر امریکی جی ای ایرو سپیس سے انجنوں کی فراہمی میں تاخیر کے سبب ان کی ترسیل شروع نہیں ہو سکی۔\n\nہندستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ کے سابق عہدیدار نے کہا کہ دبئی میں ہونے والے حادثے نے اس وقت تیجس طیارے کی بیرون ملک فروخت کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔\n\nان کے مطابق تیجس کو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کو بیچنے کا منصوبہ تھا اور اسی لیے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے 2023 میں ملائیشیا میں ایک دفتر بھی کھولا تھا۔\n\nانڈین ایئر فورس پہلے ہی طیاروں کی شدید کمی کا سامنا کر رہی ہے جس کے سکواڈرن 42 کی مطلوبی تعداد سے کم ہو کر صرف 29 رہ گئے ہیں۔ میگ-29، جیگوار اور میراج 2000 جیسے پرانے فلیٹ آئندہ برسوں میں ریٹائر ہو جائیں گے اور تیجس ان کی جگہ لینے کے لیے بنایا جا رہا تھا لیکن سست پیداوار نے اس منصوبے کو متاثر کر دیا ہے۔\n\nدو دفاعی حکام کے مطابق انڈیا فوری خلا پر کرنے کے لیے اضافی فرانسیسی رافیل خریدنے سمیت آف دی شیلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کے ایف-35 اور روس کے ایس یو-57 جیسے ففتھ جنریشن لڑاکا طیاروں کی خریداری بھی زیر غور ہے۔\n\nاکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ ان 32 سنگل سیٹ ایل سی اے طیاروں میں شامل تھا جو ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے فضائیہ کے حوالے کیے تھے۔\n\nعبدالقیوم شاہد\n\nاتوار, فروری 22, 2026 - 17:45\n\nMain image:\n\n> <p>دبئی میں ریسکیو اہلکار انڈین طیارے تیجس کو 21 نومبر 2025 کو پیش آنے والے حادثے کے مقام پر امدادی کاموں میں مصروف ہیں (دبئی میڈیا آفس)</p>\n\nایشیا\n\njw id:\n\nkIkDEQJ2\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nجنگی طیارے تیجس کی تباہی، انڈیا کے برآمدی منصوبوں کو دھچکہ\n\nدبئی ایئر شو میں انڈین فضائیہ کا لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ کی موت\n\nفرانسیسی صدر انڈیا میں، کیا دہلی مزید رفال طیارے خرید رہا ہے؟\n\nفرانس کا چین پر رفال کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام، چین کا انکار\n\nSEO Title:\n\nانڈین فضائیہ کا ایک اور تیجس طیارہ حادثے کا شکار: اکنامک ٹائمز\n\ncopyright:\n\nTranslator name:\n\nعبدالقیوم\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "انڈین فضائیہ کا ایک اور تیجس طیارہ حادثے کا شکار: اکنامک ٹائمز"
}