{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigtu2mi3avd6pniwg7nty656hzc6ub2ynmwxkdfcqfwxshate72ea",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfioay7imnu2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicfxyuhpbae3q3ygtgu523tc4ht7zam2k7iq4j2w2qvoqegjfwpsq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 119676
  },
  "path": "/node/184755",
  "publishedAt": "2026-02-22T16:45:09.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "February 22, 2026",
    "بنوں",
    "دھماکہ",
    "کوئٹہ دھماکہ",
    "دہشت گردی",
    "حملے",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "video",
    "@MoDAfghanistan2"
  ],
  "textContent": "**افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے آج ننگرہار اور پکتیکا میں پاکستانی فوج کی جانب سے کیے گئے حالیہ فضائی حملوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے کابل میں پاکستانی سفیر کو طلب کیا ہے۔**\n\nسفیر کو پیش کیے گئے باضابطہ احتجاجی مراسلے میں وزارتِ خارجہ نے زور دیا کہ ’افغانستان کی سرزمین کا تحفظ اسلامی امارتِ افغانستان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔‘\n\nمراسلے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے فوجی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کسی بھی منفی انجام کی ذمہ داری پاکستانی فریق پر عائد ہو گی۔\n\nوزارت نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور شہری آبادی پر بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان اقدامات کو افغانستان کی علاقائی خودمختاری کی صریح پامالی اور پاکستانی فوج کی جانب سے اشتعال انگیز کارروائی قرار دیا۔\n\nپاکستان کی جانب سے فضائی حملوں پر افغان وزارت دفاع نے اتوار کو ایکس پوسٹ میں کہا کہ پاکستانی حملوں کا ‘انشاللہ مناسب وقت پر ایک موزوں اور نپا تلا جواب دیا جائے گا۔‘\n\nطالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ایکس پر جاری اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے رات گئے صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں ایک مدرسے اور متعدد گھروں پر حملے کر کے افغان خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے اور ان حملوں میں درجنوں عام شہری جان سے گئے ہیں۔\n\nپاکستان کا موقف ہے کہ اس نے پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی داعش خراسان کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیاد پر انتہائی درستی کے ساتھ چن کر نشانہ بنایا ہے۔\n\nپاکستان کے نائب وزیر داخلہ طلال چوہدری نے جیو نیوز کو بتایا کہ حملوں میں کم از کم 70 عسکریت پسند مارے گئے، بعد ازاں پاکستان کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ جان سے جانے والوں کی تعداد بڑھ کر 80 ہو گئی ہے۔\n\nگذشتہ شب کے حملے سے قبل 25 نومبر 2025 کو افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے صوبہ خوست، کنڑ اور پکتیکا میں فضائی حملے کیے ہیں۔\n\nپاکستانی فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتی اور بغیر پیشگی اطلاع کے حملہ نہیں کرتی۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nافغانستان پر حالیہ حملوں کے حوالے سے اتوار کو علی الصبح پاکستانی وزارت اطلاعات ونشریات نے کہا ہے کہ حال ہی میں اسلام آباد کی مسجد، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے دھماکوں کے بعد پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں ’خوارج‘ نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور سہولت کاروں کے ایما پر انجام دیں۔\n\nاس سے قبل پاکستانی وزارت اطلاعات نشریات کے مطابق پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی داعش خراسان کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔\n\nاتوار کو علی الصبح جاری کیے گئے بیان میں وزارت اطلاعات ونشریات نے کہا ہے کہ پاکستان میں حال ہی میں اسلام آباد کی مسجد، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے دھماکے کیے گئے اور اس کے بعد رمضان کے مقدس مہینے میں ہفتے کو باجوڑ میں حملہ کیا گیا۔ ان واقعات کے بعد پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں ’خوارج‘ نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور سہولت کاروں کے ایما پر انجام دیں۔\n\nہفتے کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان کے مطابق تازہ ترین حملہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں کیا گیا جہاں ’انڈین پراکسی فتنہ الخوارج‘کے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کے نتیجے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو اہلکار جان سے گئے جبکہ جوابی کارروائی میں پانچ عسکریت پسند بھی مارے گئے۔\n\nوزارت اطلاعات کے بیان کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری ’فتنہ الخوارج‘ اور اس سے منسلک افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان اور داعش خراسان نے بھی قبول کی۔\n\nوزارت اطلاعات کے مطابق: ’پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاک افغان سرحد کے سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج (ایف اے کے) کے پاکستانی طالبان اور ان سے منسلک تنظیموں اور آئی ایس کے پی سے تعلق رکھنے والے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر انتہائی درستی کے ساتھ چن کر نشانہ بنایا ہے۔‘\n\nبیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت پر بار بار زور دینے کے باوجود کہ وہ دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی آلہ کاروں کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے روکنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کرے، افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی بھی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘\n\nوزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ کوشش کی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nوزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان عبوری افغان حکومت سے دوبارہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج اور دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکے، کیوں کہ پاکستان کے عوام کی حفاظت اور سکیورٹی سب سے اولین ترجیح ہے۔\n\nبیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان عالمی برادری سے بھی توقع کرتا ہے کہ وہ ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ دوحہ معاہدے کے حصے کے طور پر دیگر ممالک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کے اپنے وعدوں پر قائم رہے، جو علاقائی اور عالمی امن اور سکیورٹی کے لیے ایک ناگزیر اقدام ہے۔\n\nدوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے رات گئے صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں حملے کر کے افغان سرزمین کی خلاف ورزی کی ہے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں عام شہری جان سے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔\n\nافغان وزارت دفاع نے کہا کہ پاکستانی فوج نے ننگرہار اور پکتیکا کے شہری علاقوں پر فضائی حملے کیے۔ اتوار کو ایکس پوسٹ میں وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ کہ مناسب وقت پر ایک موزوں اور نپا تلا جواب دیا جائے گا۔\n\n> this blatant violation of Afghanistan’s national sovereignty and this crime, regarding it as a clear breach of international law, the principles of good neighborliness, and Islamic values.\n>\n>  In this regard, the Ministry of National Defense affirms that safeguarding the...\n\n> — د ملي دفاع وزارت - وزارت دفاع ملی (@MoDAfghanistan2) February 22, 2026\n\nافغانستان کے ٹی وی چینل طلوع نیوز کو ذرائع نے کو بتایا کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں نے مبینہ طور پر صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل پر فضائی حملہ کیا۔\n\nفرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع بہسود میں اے ایف پی کے ایک صحافی نے حملوں کے بعد لوگوں کو ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے بلڈوزر استعمال کرتے دیکھا۔\n\nایک افغان سکیورٹی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بہسود میں ایک مکان کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں جان سے جانے والے 17 لوگوں میں 12 بچے اور نوعمر افراد شامل ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ سال اکتوبر میں بھی جھڑپیں ہوئیں تھیں جب پاکستان فوج نے 12 اکتوبر 2025 کو ایک بیان میں کہا تھا کہ گذشتہ رات افغانستان کے ساتھ ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں اس کے 23 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے جبکہ 29 زخمی ہوئے۔\n\nپاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان اور انڈیا کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے پاکستان افغانستان سرحد پر بلااشتعال حملہ کیا تھا، جس کا مقصد پاکستان کے سرحدی علاقوں میں عدم استحکام اور دہشت گردی کو فروغ دینا تھا۔\n\nبیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان فوج نے ان حملوں کو بروقت اور فیصلہ کن کارروائی سے پسپا کرتے ہوئے طالبان فورسز اور عسکریت پسندوں کو نقصان پہنچایا۔\n\nبیان کے مطابق پاکستان فوج نے طالبان کی سرحد پار متعدد پوسٹس، کیمپس اور تربیتی مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے 21 ٹھکانے عارضی طور پر قبضے میں لیے اور دہشت گرد کیمپ تباہ کر دیے۔\n\nاس سے قبل افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں اپنے نو اہلکاروں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے 58 سکیورٹی اہلکار بھی جان سے گئے ہیں۔\n\nگذشتہ سال اکتوبر میں افغان حکام نے پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ اس نے دارالحکومت کابل اور ملک کے مشرق میں ایک بازار پر بمباری کی۔ پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔\n\nافغان حکام نے اپنے ردعمل میں ان مبینہ حملوں کو ’پاکستان کی غلطی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’افغانستان کو چھیڑنا اچھا نہیں۔‘\n\nبنوں\n\nدھماکہ\n\nکوئٹہ دھماکہ\n\nدہشت گردی\n\nحملے\n\nپاکستانی سفیر کو پیش کیے گئے باضابطہ احتجاجی مراسلے میں افغانستان حکومت نے خبردار کیا ہےکہ ایسے فوجی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کسی بھی منفی انجام کی ذمہ داری پاکستانی فریق پر عائد ہو گی۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, فروری 22, 2026 - 21:45\n\nMain image:\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nEyJKbxhk\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبنوں میں عسکریت پسندوں کا حملہ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو اہلکار جان سے گئے: فوج\n\nاسلام آباد دھماکہ: ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کرلی، جان سے جانے والوں کی نماز جنازہ ادا\n\nاسلام آباد میں خودکش دھماکہ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مذمت\n\nبیرونی سرپرستی میں ’دہشت گردی‘ کا خاتمہ اولین ترجیح: صدر زرداری\n\nSEO Title:\n\nافغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے پاکستانی فضائی حملوں پر پاکستانی سفیر کی طلبی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے پاکستانی فضائی حملوں پر پاکستانی سفیر کی طلبی"
}