{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibpi6ssh3odqfbgytg37lq7ejygvc7g2it3ynjf4o2gl346dowo3e",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mffx4iczaxk2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibmmqq6wegme7r767uid4oz5pnrzaswriwhwihkshdjcpr5hx7jqe"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 127699
  },
  "path": "/node/184742",
  "publishedAt": "2026-02-21T06:15:01.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "عباس عراقچی",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "امریکہ",
    "ایران",
    "روئٹرز",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ایک طرف جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں، وہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا ہے کہ انہیں رواں ہفتے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے بعد چند دنوں میں ایک جوابی مسودہ تیار ہونے کی توقع ہے۔**\n\nدو امریکی حکام نے بتایا کہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی منصوبہ بندی ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ چکی ہے جس میں حملے کے حصے کے طور پر افراد کو نشانہ بنانا اور اگر ٹرمپ حکم دیں تو تہران میں قیادت کی تبدیلی کی کوشش کرنا بھی شامل ہے۔\n\nٹرمپ نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تیاریوں کے درمیان تہران کو اپنا دیرینہ جوہری تنازع حل کرنے کے لیے معاہدہ کرنے کی غرض سے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی، بصورت دیگر انہیں ’بہت برے حالات‘ کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے ایک وسیع تر جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔\n\n**حملے کی دھمکیاں**\n\nجمعہ کو یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ ایران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے محدود حملے پر غور کر رہے ہیں، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا: ’میرا خیال ہے کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں اس پر غور کر رہا ہوں۔‘ بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی ایک پریس کانفرنس میں ایران کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے مزید کہا: ’ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ ایک منصفانہ معاہدہ کر لیں۔‘\n\nدوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رواں ہفتے جنیوا میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے بعد کہا کہ دونوں فریق اہم ’رہنما اصولوں‘ پر مفاہمت پر پہنچ گئے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ عنقریب ہونے والا ہے۔\n\nایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ اگنازیو کاسس امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران سوئٹزرلینڈ اور ایران کے درمیان دو طرفہ میٹنگ میں شرکت کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nعباس عراقچی نے ایم ایس ناؤ پر ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے پاس ایک جوابی مسودہ موجود ہے جو اعلیٰ ایرانی حکام کے جائزے کے لیے اگلے دو یا تین دنوں میں تیار ہو سکتا ہے، جب کہ ایک ہفتے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان مزید بات چیت کا امکان ہے۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ فوجی کارروائی معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دے گی۔\n\nجون میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات اور کچھ فوجی ٹھکانوں پر بمباری کے بعد، جنوری میں جب تہران نے بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کو طاقت کے زور پر کچل دیا، تو ٹرمپ نے دوبارہ حملوں کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔\n\nجمعے کو کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے عوام اور ملک کی قیادت کے درمیان فرق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’نسبتاً مختصر عرصے میں 32 ہزار افراد جان سے گئے۔‘\n\nیہ وہ اعداد و شمار ہیں جن کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔\n\nٹرمپ نے کہا کہ ’یہ بہت، بہت، بہت افسوس ناک صورت حال ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر حملہ کرنے کی ان کی دھمکیوں کی وجہ سے قیادت نے دو ہفتے قبل بڑے پیمانے پر پھانسیاں دینے کے منصوبے ترک کر دیے تھے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’وہ 837 لوگوں کو پھانسی دینے والے تھے۔ اور میں نے انہیں بتا دیا تھا کہ اگر آپ ایک شخص کو بھی پھانسی دیں گے، یہاں تک کہ ایک شخص کو بھی، تو اسی وقت آپ پر حملہ کر دیا جائے گا۔‘\n\nامریکہ میں قائم گروپ ہرانا (ایچ آر اے این اے)، جو ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھتا ہے، نے سات ہزار 114 مصدقہ اموات ریکارڈ کی ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ مزید 11 ہزار 700 اموات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔\n\nاموات کی تعداد پر ٹرمپ کے بیانات کے چند گھنٹے بعد، عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی حکومت بدامنی میں مرنے والے تمام تین ہزار 117 افراد کی ’جامع فہرست‘ پہلے ہی شائع کر چکی ہے۔\n\nانہوں نے ایکس پر پوسٹ کہا کہ ’اگر کسی کو ہمارے ڈیٹا کی درستی پر شک ہے تو براہ کرم ثبوت کے ساتھ بات کریں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nعباس عراقچی کا کہنا تھا کہ معاہدہ ’بہت کم وقت‘ میں ممکن ہے۔\n\nعباس عراقچی نے کوئی مخصوص وقت نہیں بتایا کہ ایران اپنا جوابی مسودہ کب وٹکوف اور کشنر کو دے گا، تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایک سفارتی معاہدہ پہنچ میں ہے اور اسے ’بہت کم وقت میں‘ حاصل کیا جا سکتا ہے۔\n\nایرانی وزیر خارجہ نے امریکی کیبل ٹیلی ویژن نیوز نیٹ ورک ایم ایس ناؤ کو بتایا کہ جنیوا مذاکرات کے دوران، امریکہ نے یورینیم کی افزودگی کو صفر کرنے کا مطالبہ نہیں کیا اور ایران نے افزودگی معطل کرنے کی پیشکش نہیں کی۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’اب ہم جس چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ افزودگی سمیت ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور ہمیشہ پرامن رہے گا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں پر کارروائی کے بدلے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ پروگرام پرامن رہے گا، تکنیکی اور سیاسی طور پر ’اعتماد سازی کے اقدامات‘ نافذ کیے جائیں گے، تاہم انہوں نے مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔\n\nعباس عراقچی کے تبصروں کے بارے میں پوچھے جانے پر وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ’صدر نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار یا انہیں بنانے کی صلاحیت نہیں ہو سکتی اور وہ یورینیم افزودہ نہیں کر سکتے۔‘\n\nدوسری جانب اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے خطے میں بڑھتی ہوئی بیان بازی اور فوجی سرگرمیوں پر خدشات کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں ایک باقاعدہ نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ’ہم امریکہ اور ایران دونوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اختلافات کو حل کرنے کے لیے سفارت کاری جاری رکھیں۔‘\n\nعباس عراقچی\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nامریکہ\n\nایران\n\nدو امریکی حکام کے مطابق ایران پر حملے کی منصوبہ بندی اعلیٰ مرحلے پر پہنچ گئی ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جوابی مسودہ اعلیٰ ایرانی حکام کے جائزے کے لیے اگلے دو یا تین دنوں میں تیار ہو سکتا ہے۔\n\nروئٹرز\n\nہفتہ, فروری 21, 2026 - 11:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی بحریہ کی جانب سے آٹھ فروری 2026 کو جاری کی گئی تصویر میں بحیرہ عرب میں موجود نمٹز کلاس کا طیارہ بردار بحری جہاز  یو ایس ایس ابراہم لنکن دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران کا امریکہ سے معاہدہ کرنا ’دانش مندی‘ ہو گی: وائٹ ہاؤس\n\nایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے ٹرمپ کا محدود کارروائی پر غور: امریکی اخبار\n\nایران سے مذاکرات میں بالواسطہ شامل رہوں گا: ٹرمپ\n\nایران میں حکومت کی تبدیلی ’بہترین عمل‘ ہوسکتا ہے: صدر ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nایران جوابی مسودے کی تیاری میں مصروف، ٹرمپ کا ایران پر محدود حملوں پر غور\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ایران جوابی مسودے کی تیاری میں مصروف، ٹرمپ کا ایران پر محدود حملوں پر غور"
}