{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibqamvz7zrb6ckumhvr74ena5o3rdcbhtlxrbrhmf4rd6klv7olv4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mffx4d7vmrm2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicm4zsyhfkejl5q4gjjafzhsxuqcwteqpa2pnpsarfnfm7q7vdvqa"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 93272
  },
  "path": "/node/184743",
  "publishedAt": "2026-02-21T06:15:47.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ٹی 20 ورلڈ کپ 2026",
    "پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ",
    "سید حیدر",
    "کرکٹ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اپنے دوسرے اور اہم مرحلے سپر ایٹ میں داخل ہوچکا ہے، جس کا آغاز ہفتے کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ سے ہوگا، جو کولمبو کے پریماداسا سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔**\n\nابتدائی چار گروپوں کی پہلی دو، دو ٹیمیں سپر ایٹ مرحلے میں پہنچی ہیں۔\n\nسپر ایٹ مرحلے کو دو گروپ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے سے طے شدہ فارمولے کے تحت جو ٹیمیں اپنے گروپ میں پہلے پوزیشن پر پہنچی تھیں، انہیں ایک گروپ میں رکھا گیا ہے جو اپنے تمام میچز انڈیا میں کھیلیں گی جبکہ دوسری پوزیشن پر رہنے والی ٹیمیں سری لنکا میں اپنے میچز کھیلیں گی۔\n\nاس تقسیم نے بہت سے سوالات بھی قائم کیے کہ اگر گروپ اے سے پاکستان سرفہرست رہتا تو کیا وہ انڈیاجاتا اور انڈیا اپنے میچز سری لنکا میں کھیلتا؟\n\n**سپر ایٹ پر تنقید**\n\nسپر ایٹ کے دو گروپ بنانے میں جس طریقہ کار کو اپنایا گیا، وہ ناقابل فہم ہے۔ اگر چار ٹیمیں شاندار کرکٹ کھیل کر اپنے گروپ سے سپر ایٹ مرحلے میں آ رہی ہیں تو انہیں اس مرحلے پر ایک مساوی مقابلے کا میدان ملنا چاہیے تھا لیکن اب ان کے لیے مقابلہ مزید سخت ہوگیا ہے۔\n\nآئی سی سی نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سپر ایٹ مرحلے کی حتمی شکل گروپ میچز کے درمیان کی گئی تاکہ لاجسٹک کے مسائل سے نمٹا جا سکے۔\n\nآئی سی سی کے غیر تسلی بخش جواب کے بعد شاید درست الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ سپر ایٹ کے دو گروپوں میں کچھ ٹیموں کے لیے سیمی فائنل تک پہنچنا آسان ہوگا کیونکہ اب پاکستان یا سری لنکا کو جنوبی افریقہ یا ویسٹ انڈیز کا مقابلہ نہیں کرنا پڑے گا، جو اس ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہے ہیں۔\n\nاس سے بھی بڑا الزام ابتدائی مرحلے میں گروپ کی تشکیل پر تھا۔ 20 ٹیموں کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ تین گروپوں میں تین ٹیسٹ پلیئنگ ٹیمیں رکھی گئی لیکن انڈیا اور پاکستان کے گروپ میں تیسری کوئی ٹیسٹ پلیئنگ ٹیم نہیں رکھی گئی۔\n\nیہ اس بات کو یقینی بنانے کی حکمت عملی تھی کہ دونوں ممالک ہر صورت میں سپر ایٹ مرحلے میں پہنچ سکیں۔\n\n**کون زیادہ طاقتور ہوگا؟**\n\nیہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ کون سی ٹیم سب سے زیادہ مضبوط ہے لیکن جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز نے جس انداز کی کرکٹ کھیلی ہے، اس سے یہ دونوں ٹیمیں بہت مضبوط نظر آتی ہیں۔\n\nجنوبی افریقہ کی اصل طاقت ان کا جارحانہ انداز ہے اور سپن پچز پر ان کی مہارت قابل دید ہے۔\n\nافغانستان کے خلاف ان کا میچ اس عشرے کا سب سے زیادہ دلچسپ میچ تھا جو دو دفعہ سپر اوور تک گیا۔ دونوں ٹیموں نے اپنی کرکٹ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nافغانستان کی ٹیم بدقسمت رہی کہ اس کے گروپ میں اس کا مقابلہ دو انتہائی مضبوط ٹیموں کے ساتھ تھا، جس لے باعث وہ محض ایک خراب میچ کھیل کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے جبکہ دوسرے گروپ میں بری کرکٹ کھیل کر بھی انگلینڈ سپر ایٹ میں پہنچ گیا۔\n\nگروپ بنانے والوں کو شاید اچھی کرکٹ سے زیادہ براڈکاسٹرز کے پیسوں کی فکر ہے۔\n\nمذکورہ بالا آٹھ ٹیموں کی طاقت کاجائزہ لیا جائے تو سب سے مستحکم کارکردگی انڈیا کی رہی ہے، جس نے اپنے چاروں میچ با آسانی جیت لیے۔\n\nاس کی بولنگ اور بیٹنگ متوازن ہے لیکن ان کے جارحانہ اوپنر ابھیشک شرما کی ناکامی قابل تشویش ہے۔ وہ ابھی تک کھاتہ بھی نہیں کھول سکے ہیں، تاہم اشان کشان اور سوریاکمار یادو نے کمی پوری کر رکھی ہے۔\n\nدوسری ٹیم جو سب سے زیادہ خطرناک ہے، وہ جنوبی افریقہ کی ٹیم ہے۔ یہ ٹیم بہت ہی متوازن ہے۔ مارکرم ڈی کوک اور رکیلٹن بہت اچھی فارم میں ہیں جبکہ بولنگ بھی بہت مضبوط ہے، جہاں ربادا، نگیڈی، جانسن اور مہاراج بہت عمدہ بولنگ کر رہے ہیں۔\n\nٹورنامنٹ میں تیسری ٹیم جس نے سب کو حیران کر دیا ہے وہ زمبابوے ہے۔ ٹورنامنٹ سے قبل اس کی شرکت بہت مشکل سے ممکن ہوئی اور پھر نئے ٹیلنٹ کی کمی کے باعث ٹیم کا توازن بگڑا ہوا ہے لیکن انہوں نے جس قسم کی کرکٹ کھیلی، اس نے سب کو متاثر کر دیا۔\n\nنیدرلینڈز کے کپتان سکاٹ ایڈورڈز سات فروری 2026 کو کولمبو کے سنہالی سپورٹس کلب گراؤنڈ میں پاکستان کے خلاف شاٹ کھیلتے ہوئے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nآسٹریلیا کو زمبابوے نے جس انداز میں شکست دی، وہ قابل دید تھا۔ برائین بینٹ، سکندر رضا اور رائین برل اچھی بیٹنگ فارم میں ہیں جبکہ بلیسنگ مرزا بانی اور دوسرے بولرز اچھی بولنگ کر رہے ہیں۔ یہ ٹیم گروپ مرحلے میں ناقابل شکست رہی ہے اور آگے بھی اپ سیٹ کر سکتی ہے۔\n\nٹورنامنٹ میں خاموشی سے جو ٹیم اپنا سفر طے کررہی ہے وہ ویسٹ انڈیز ہے۔ ایک اچھے توازن کے ساتھ ویسٹ انڈیز خطرناک ٹیم بن چکی ہے۔ ردھر فورڈ، شائی ہوپ، روسٹن چیس اور جیسن ہولڈر کسی بھی وقت اتنے خطرناک بلے باز بن سکتے ہیں کہ کسی بھی بولنگ کو روند دیں۔\n\nنیوزی لینڈ کی ٹیم بھی خطرناک روپ میں ہے۔ یہ ایک متوازن ٹیم ہے اور سیمی فائنل تک یقینی طور پر پہنچے گی۔ ٹم سائیفرٹ اور کپتان سانٹنز کا کردار بہت اہم ہوگا۔\n\nمیزبان ملک سری لنکا نے اب تک شاندار کرکٹ کھیلی ہے لیکن آخری میچ میں زمبابوے سے شکست نے فینز کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ناشانکا ٹیم میں اینکر کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن بولنگ میں سری لنکا کو کچھ مشکلات ہیں۔ ویلیگیڈا کی سپن بولنگ ہی ٹرمپ کارڈ ہے لیکن ٹیم کے لیے سیمی فائنل تک پہنچنا آسان نہ ہوگا۔\n\nانگلینڈ اور پاکستان وہ دو ٹیمیں ہیں جو خراب کارکردگی کے باوجود سپر ایٹ مرحلے میں پہنچ گئیں۔\n\nانگلینڈ نے شروع سے بہت خراب کرکٹ کھیلی ہے۔ اس کی بیٹنگ جمود کا شکار ہے جبکہ بولنگ میں اچھے سپنرز کا نہ ہونا ٹیم کے لیے مشکلات کا سبب بن چکا ہے۔ انگلینڈ کے لیے شاید سپر ایٹ سے آگے جانا مشکل ہوگا۔\n\nپاکستانی ٹیم بھی قسمت کے سہارے سپر ایٹ میں پہنچی ہے۔ انڈیا کے خلاف بدترین کارکردگی تو روایت کا حصہ ہے لیکن نیدرلینڈز کے خلاف ٹیم ہارتے ہارتے بچ گئی۔ اگر فہیم اشرف کا آسان کیچ پکڑ لیا جاتا تو آج پاکستانی کھلاڑی اپنے گھروں میں ٹی وی پر میچ دیکھ رہے ہوتے۔ پاکستان کو آسان گروپ دیا گیا تاکہ ٹیم کسی بھی طرح آگے پہنچ جائے۔\n\nپاکستان نے اپنے تین میچ خراب کھیلے لیکن نمیبیا کے خلاف صاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوئنٹی کی پہلی سنچری سکور کی جس سے ان کو کافی حوصلہ ملا ہوگا لیکن صائم ایوب، بابر اعظم اور سلمان علی آغا بیٹنگ میں اب تک ناکام ہیں۔\n\nالبتہ سپن بولنگ میں پاکستان چھایا ہوا ہے۔ عثمان طارق، ابرار اور نواز کی بولنگ نیوزی لینڈ کے خلاف خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور نیوزی لینڈ کے جارحانہ بلے بازوں کے لیے ان سپنرز کو کھیلنا آسان نہ ہوگا۔\n\nپاکستان کی جیت کا سارا دارومداد سپن بولرز پر ہے۔ پاکستان حتمی طور پر آج کے میچ میں پانچ سپنرز کے ساتھ کھیلے گا جبکہ شاہین آفریدی کی جگہ سلمان مرزا کھیل سکتے ہیں۔ پاکستان ممکنہ طور پر فہیم اشرف کی جگہ فخر زمان کو شامل کر سکتا ہے۔\n\nاگر ان آٹھ ٹیموں کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو جنوبی افریقہ اور انڈیا گروپ ایک سے جبکہ نیوزی لینڈ اور سری لنکا یا پاکستان دوسرے گروپ سے سیمی فائنل کی ٹیمیں ہو سکتی ہیں۔\n\nسپر ایٹ مرحلہ اپنے تمام متنازع فیصلوں کے باوجود ایک بھرپور اور جارحانہ کرکٹ کے نظارے فراہم کرے گا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دنیائے کرکٹ کی سب سے کامیاب ٹیم آسٹریلیا اس کا حصہ نہیں ہوگی۔\n\nآسٹریلیا نے بلا شک و شبہ بہت بری کرکٹ کھیلی۔ غیر سنجیدہ اور منصوبہ بندی سے عاری ٹیم، جس کے زیادہ تر کھلاڑی عمر رسیدہ ہوچکے ہیں۔ کچھ اہم کھلاڑی دستیاب بھی نہیں تھے، جس سے ٹیم کا توازن بگڑ گیا اور زمبابوے جیسی ٹیم انہیں ہرا کر چل دی ۔\n\nیہی کرکٹ کا لطف ہے کہ کبھی بڑی ٹیمیں زمین پر اور چھوٹی ٹیمیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔ سپر ایٹ کا پرجوش اور امنگوں سے بھرپور مرحلہ آج سے شروع ہے تو پھر تیار ہوجائیے اور ایک شاندار کرکٹ کا لطف اٹھایے۔\n\nٹی 20 ورلڈ کپ 2026\n\nپاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ\n\nپاکستانی ٹیم قسمت کے سہارے سپر ایٹ میں پہنچی ہے۔ عثمان طارق، ابرار اور نواز کی بولنگ نیوزی لینڈ کے خلاف خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور نیوزی لینڈ کے جارحانہ بلے بازوں کے لیے ان سپنرز کو کھیلنا آسان نہ ہوگا۔\n\nسید حیدر\n\nہفتہ, فروری 21, 2026 - 11:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستان کے عثمان طارق (دائیں) نمیبیا کے خلاف اپنی ٹیم کی فتح کے بعد شاداب خان (بائیں) اور کپتان سلمان آغا کے ساتھ  18 فروری 2026 کو کولمبو کے سنہالیز سپورٹس کلب گراؤنڈ میں کھیلے گئے 2026 آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے میچ کے اختتام  پر جشن منا رہے ہیں (اشرا ایس کوڈیکارا / اے ایف پی)</p>\n\nکرکٹ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹی 20 ورلڈ کپ: فرحان کی سینچری، پاکستان سپر 8 میں پہنچ گیا\n\nورلڈ کپ 2026: ناقابل شکست زمبابوے سپر ایٹ مرحلے میں داخل\n\nٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: انڈین بلے باز ابھیشیک کو پیٹ میں تکلیف، ہسپتال میں داخل\n\nتنازعات سے بھرپور ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا خاموشی سے آغاز\n\nSEO Title:\n\nٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا سپر ایٹ مرحلہ: پاکستان اور نیوزی لینڈ آج آمنے سامنے ہوں گے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا سپر ایٹ مرحلہ: پاکستان اور نیوزی لینڈ آج آمنے سامنے"
}