{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiemw6ywbfn4vhwico3ifhe5jnuyp2xffhaloxxi22uymo7bohxxiq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mffx3wcyhmi2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreid6pl3rvjmpznemc2r2mmqaucsxxbvrc7z7zgvon44piay5wrcq6q"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 74132
},
"path": "/node/184748",
"publishedAt": "2026-02-21T12:29:09.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"سائنس",
"تحقیق",
"صحت",
"وشوام سنکرن",
"news"
],
"textContent": "**ایک تازہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ انتہائی طویل دورانیے کی دوڑ (ایکسٹریم اینڈیورنس رننگ) خون کے سرخ خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور بڑھاپے کے عمل کو تیز کر سکتی ہے۔**\n\nدوڑ جسمانی ورزش کی سب سے زیادہ تحقیق شدہ اقسام میں سے ایک ہے، جس کے دل اور خون کی گردش پر ثابت شدہ فوائد ہیں، اور یہ بالواسطہ طور پر عمر بڑھنے کے عمل پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔\n\nبڑے پیمانے کی سابقہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہفتہ وار 150 منٹ کی معمولی دوڑ صحت مند عمر (healthspan) میں بہتری اور لمبی عمر کے نمایاں فوائد فراہم کرتی ہے۔\n\nتاہم حالیہ تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ طویل فاصلے تک شدت سے دوڑنا خون کے سرخ خلیات کے ٹوٹنے (hemolysis) کا سبب بن سکتی ہے اور ممکنہ طور پر خون کی کمی (انیمیا) پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے اسباب اور طویل مدتی اثرات اب تک واضح نہیں تھے۔\n\nاب سائنس دانوں نے شواہد پیش کیے ہیں کہ الٹرا میراتھون ایتھلیٹس کے خون کے سرخ خلیات لمبی دوڑ کے بعد کم لچکدار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی آکسیجن مؤثر طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔\n\nان میں پورے جسم میں سوزش کی علامات بھی دیکھی گئیں اور ایسے مالیکیولز میں کمی بھی نوٹ کی گئی جو ڈی این اے کو نقصان سے بچاتے ہیں۔\n\nمطالعے کے مرکزی مصنف ٹریوس نیمکوف، جن کی تحقیق جریدے Blood Red Cells & Iron میں شائع ہوئی، نے وضاحت کی کہ اس طرح کی دوڑ میں شرکت جسم میں عمومی سوزش اور خون کے سرخ خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔\n\nتحقیق کے دوران سائنس دانوں نے عالمی معیار کی 40 کلومیٹر طویل Martigny-Combes à Chamonix race اور 171 کلومیٹر طویل Ultra Trail de Mont Blanc میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے دوڑ سے پہلے اور بعد میں خون کے نمونے لیے۔ 23 رنرز کے پلازما اور خون کے سرخ خلیات میں ہزاروں پروٹینز، لپڈز، میٹابولائٹس اور دیگر عناصر کا تجزیہ کیا گیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nنتائج سے معلوم ہوا کہ رنرز کے خون کے سرخ خلیات میں مستقل طور پر نقصان کے آثار موجود تھے۔ 40 کلومیٹر کی دوڑ کے بعد جو تبدیلیاں دیکھی گئیں، وہ 171 کلومیٹر کی زیادہ کٹھن دوڑ میں مزید شدید ہو گئیں۔\n\nمحققین کے مطابق یہ تبدیلیاں بڑھاپے کے عمل کو تیز کر سکتی ہیں۔\n\nسائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جوں جوں دوڑ کا فاصلہ بڑھتا ہے، خون کے خلیات کا نقصان اور جسم میں جمع ہونے والی خرابی بھی بڑھتی جاتی ہے۔\n\nڈاکٹر نیمکوف کے مطابق، ’میراتھن اور الٹرا میراتھن کے فاصلے کے درمیان کسی مقام پر نقصان نمایاں طور پر بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ جسم کو اس نقصان کو ٹھیک ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے، آیا اس کے طویل مدتی اثرات ہوتے ہیں یا نہیں، اور اگر ہوتے ہیں تو وہ مثبت ہیں یا منفی۔\n\nمحققین کو امید ہے کہ آئندہ مطالعات نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر بنانے بلکہ طویل دورانیے کی ورزش کے ممکنہ منفی اثرات کم کرنے کی حکمت عملی وضع کرنے میں مدد دیں گے۔\n\nمزید برآں، الٹرا میراتھن رنرز پر تحقیق محفوظ کیے گئے خون کی شیلف لائف بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔\n\nمطالعے کے ایک اور مصنف اینجلو ڈی الیساندرو، جو University of Colorado Anschutz سے وابستہ ہیں، کے مطابق یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ انتہائی برداشت والی ورزش خون کے سرخ خلیات کو ایسے طریقہ کار کے ذریعے تیزی سے بڑھاپے کی طرف دھکیلتی ہے جو خون کو ذخیرہ کرنے کے دوران دیکھی جانے والی تبدیلیوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔\n\nسائنس\n\nتحقیق\n\nصحت\n\nحالیہ تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ طویل فاصلے تک شدت سے دوڑنا خون کے سرخ خلیات کے ٹوٹنے کا سبب بن سکتی ہے اور ممکنہ طور پر خون کی کمی (انیمیا) پیدا کر سکتی ہے۔\n\nوشوام سنکرن\n\nہفتہ, فروری 21, 2026 - 17:30\n\nMain image:\n\n> <p>امریکی الٹرا میراتھن رنر کورٹنی ڈاؤوالٹر 16 مئی 2023 کو کولوراڈو کے ٹوئن لیکس کے قریب ایک ڈیم پر دوڑتے ہوئے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nصحت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nچہل قدمی کا نیا ٹرینڈ جو زیادہ کیلوریز کم کرنے میں مددگار\n\nروزانہ چہل قدمی بھی کینسر کے خطرے کو کم کرتی ہے: تحقیق\n\nبرقی جھٹکے سے تحریک پیدا کر کے انسان ’فیاض‘ بن سکتا ہے: نئی تحقیق\n\nقدیم مصری کمر کے درد کا شکار تھے: تحقیق\n\nSEO Title:\n\nلمبی دوڑ آپ کی صحت کے لیے کیوں بہتر نہیں؟ نئی تحقیق میں انکشاف\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/science/ageing-running-ultramarathon-health-complications-b2924213.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "لمبی دوڑ آپ کی صحت کے لیے کیوں بہتر نہیں؟ نئی تحقیق میں انکشاف"
}