{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifrgsxvwqak34tzokunhtmv4jlc74357r5ntdq6ffjk75q2atrorm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mffx3e7isb32"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicwju7iyhsy5fxfg2lp467fb3zoykdvlbvqq6vjf5dcrfsoxtlncy"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 91741
  },
  "path": "/node/184750",
  "publishedAt": "2026-02-21T14:13:20.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "Karachi",
    "Sindh",
    "pic.twitter.com/j7Kmy9yOgw",
    "February 21, 2026",
    "کراچی",
    "سندھ",
    "وزیر اعلی سندھ",
    "سندھ اسمبلی",
    "قرارداد",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "سیاست",
    "news",
    "@SindhCMHouse"
  ],
  "textContent": "**سندھ اسمبلی نے ہفتے کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے کراچی کو سندھ کا ’ناقابلِ تقسیم اور لازمی حصہ‘ قرار دیتے ہوئے شہر کو الگ انتظامی حیثیت دینے یا صوبے کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا۔**\n\nوزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان سندھ کی تقسیم یا کراچی پر مشتمل الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کی ’دوٹوک مذمت اور مکمل مخالفت‘ کرتا ہے۔ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ ’کراچی ہمیشہ سندھ کا لازمی اور ناقابل تقسیم حصہ رہے گا۔‘\n\nیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) کی جانب سے بارہا وفاق سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کی بات کی جا رہی تھی۔\n\nقرارداد میں تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا گیا کہ وہ ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کریں جو صوبائی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔\n\n> Sindh is not just province-it is civilisation. From Mohenjo-daro to #Karachi (Kolachi), our history is unbroken & our unity indivisible.#Sindh Assembly has unanimously rejected any attempt to divide Sindh or separate Karachi.\n>\n>  Karachi is &will remain, an integral part of Sindh pic.twitter.com/j7Kmy9yOgw\n>\n> — Sindh Chief Minister House (@SindhCMHouse) February 21, 2026\n\nساتھ ہی کہا گیا کہ سندھ کی وحدت، جغرافیائی سالمیت اور تاریخی شناخت ایک امانت ہیں جن کا دفاع آئینی، جمہوری اور سیاسی طریقوں سے کیا جائے گا۔\n\nقرارداد میں کہا گیا کہ سندھ وہ پہلا صوبہ تھا جس نے قیام پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی، جو وفاقیت اور قومی اتحاد سے اس کے تاریخی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں آئین 1973 کے آرٹیکل 239 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کے بغیر صوبائی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔\n\nقرارداد کے مطابق کراچی کو پاکستان کی معاشی شہ رگ بنانے میں سندھ کے مختلف علاقوں، کراچی سے کیٹی بندر اور کشمور سے کارونجھر تک، کے لوگوں نے مشترکہ کردار ادا کیا، جو تقسیم نہیں بلکہ اتحاد کی علامت ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایوان نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ سندھ اسمبلی جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبے کی سالمیت اور وقار کے دفاع کے لیے متحد ہے۔\n\nجماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق اور پی ٹی آئی کے اراکین شبیر قریشی اور سجاد سومرو نے قرارداد کی حمایت کی جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے اپنی تقاریر میں اس کی حمایت نہیں کی اور اسے آئین سے متصادم قرار دیا۔\n\nبعد ازاں ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کو سندھ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی صوبائی اتحاد اور یکجہتی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔\n\nانہوں نے کراچی کو الگ صوبہ یا وفاقی علاقہ بنانے سے متعلق بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دشمن عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جو پاکستان پر یقین رکھتا ہے وہ اس قرارداد کی حمایت کرے گا۔\n\nوزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی نئے صوبے کے قیام کی صورت میں فیصلہ سندھ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت ہی کرے گی۔\n\nانہوں نے یاد دلایا کہ 2019 اور اس سے قبل 1994 میں بھی سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہے۔\n\nمراد علی شاہ نے مخالفین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد میں کوئی ایسی شق دکھائی جائے جو آئین کے خلاف ہو، جبکہ انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے مؤقف کو ’غیر مستقل‘ قرار دیا۔\n\nکراچی\n\nسندھ\n\nوزیر اعلی سندھ\n\nسندھ اسمبلی\n\nقرارداد\n\nیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے بارہا وفاق سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کی بات کی جا رہی تھی۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, فروری 21, 2026 - 19:15\n\nMain image:\n\n> <p>وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ 21 فروری 2026 کو سندھ اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں (ایوان وزیر اعلیٰ سندھ/ایکس)</p>\n\nسیاست\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکراچی پی آئی اے یا سٹیل مل نہیں، تابش ہاشمی کے بیان پر شہریوں کا ردعمل\n\nمعیشت اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کر رہے ہیں: وفاقی وزرا\n\nپاکستان کی انتظامیہ کے کثیر الجہتی مسائل\n\nایم کیو ایم پاکستان نے اپنا تنظیمی ڈھانچہ کیوں تبدیل کیا؟\n\nSEO Title:\n\n’کراچی ہمیشہ سندھ کا حصہ رہے گا‘: صوبائی اسمبلی میں قرارداد منظور\n\ncopyright:\n\nTranslator name:\n\nعبدالقیوم\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "’کراچی ہمیشہ سندھ کا حصہ رہے گا‘: صوبائی اسمبلی میں قرارداد منظور"
}