{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibzpvw7jwuz2i3byrt3jjh5x6sefcxhtzhvbjb335p4hjwuty7hom",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfd7wnsc4yl2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihiph2y7ckmj525sc5fj4hovhgmpi4h7ejzx7gnoe4ieauvjaq6ju"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 95714
  },
  "path": "/node/184729",
  "publishedAt": "2026-02-20T06:31:59.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "گلگت بلتستان",
    "قرآن",
    "منظور بلتی",
    "میری کہانی",
    "video"
  ],
  "textContent": "**گلگت بلتستان کے ممتاز مورخ، ادیب اور سماجی شخصیت یوسف حسین آبادی نے قرآن مجید کا بلتی زبان میں پہلا باقاعدہ ترجمہ کیا ہے، جس کے ذریعے بلتی بولنے والے عام افراد کو اپنی مادری زبان میں قرآن سمجھنے کا موقع ملا ہے۔**\n\nمحمد یوسف آبادی نے قرآنِ مجید کو سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھی۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ان کا مقصد نہ تو عوامی خطیب بننا تھا اور نہ ہی منبر و محراب کی وابستگی، بلکہ صرف اور صرف قرآن کے اصل مفہوم تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ اس نیت کے ساتھ انہوں نے اپنی توجہ زبان، لغت اور فہمِ قرآن پر مرکوز رکھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیوسف آبادی نے بتایا کہ انہوں نے جنوری 1988 میں قرآن مجید کے بلتی زبان میں ترجمے کا آغاز کیا، جس کی تکمیل 12 مئی 1992 کو ہوئی۔\n\nتین سال انہوں نے اس کی نظر ثانی پر لگائے اور پھر 1995 میں اس کی اشاعت ہوئی۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ان کے مطالعے کا مرکزی مقصد نہ تو خطابت تھا اور نہ ہی علمی برتری کا اظہار، بلکہ انہوں نے حق کی تلاش، قرآن مجید کے درست اور شعوری فہم اور ذاتی اصلاح کے لیے یہ کام کیا۔\n\nیہ قرآنِ مجید کا بلتی زبان میں پہلا مکمل ترجمہ ہے، جو اس سے پہلے کسی نے انجام نہیں دیا۔ اس طرح وہ اس میدان میں بلتستان کے پہلے محقق قرار پاتے ہیں۔\n\nعمر رسیدہ ہونے کے باوجود یوسف حسین آبادی آج بھی عملی طور پر متحرک ہیں۔ انہوں نے بلتستان کے مختلف علاقوں سے قدیم دور میں استعمال ہونے والی اشیا، گھریلو لوازمات، اوزار اور ثقافتی علامات جمع کر کے ایک بلتی میوزیم کی شکل دی ہے۔\n\nمحمد یوسف آبادی نے قرآنِ مجید کو سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھی اور پھر بلتی زبان میں اس کا ترجمہ کیا، جس کی اشاعت 1995 میں ہوئی (منظور بلتی/ انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nیہ میوزیم نہ صرف بلتی تہذیب کی زندہ تصویر ہے بلکہ نئی نسل کے لیے اپنے ماضی کو جاننے اور پہچاننے کا ایک نادر ذریعہ بھی ہے۔\n\nانہوں نے بلتی زبان کا قدیم رسم الخط بھی دریافت کیا۔\n\nیہ رسم الخط اشاعتِ اسلام سے قبل تقریباً 1300 سال تک بلتستان، لداخ، تبت اور بھوٹان میں رائج رہا۔ اسلام کی آمد کے بعد یہ رسم الخط متروک ہو گیا، یہاں تک کہ کتابت کے وقت بلتستان میں کسی بزرگ کو بھی اس رسم الخط کا علم نہیں تھا۔\n\nاسی طرح جنگِ آزادی پر تحقیق کے دوران انہیں احساس ہوا کہ بلتستان کی مکمل تاریخ تحریر ہونا ناگزیر ہے، تاکہ آنے والی تعلیم یافتہ نسل اپنے ماضی سے باخبر ہو سکے۔\n\n’تاریخِ بلتستان‘ کے نام سے ان کی کتاب محض ایک تحریری تاریخ نہیں بلکہ ایک عملی تاریخ ہے، جو سماجی، ثقافتی اور تہذیبی تبدیلیوں کو براہِ راست بیان کرتی ہے۔\n\nگلگت بلتستان\n\nقرآن\n\nیوسف حسین آبادی کے مطابق ان کا مقصد نہ تو عوامی خطیب بننا تھا اور نہ ہی منبر و محراب کی وابستگی، بلکہ صرف اور صرف قرآن کے اصل مفہوم تک رسائی حاصل کرنا تھا۔\n\nمنظور بلتی\n\nجمعہ, فروری 20, 2026 - 11:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">محمد یوسف آبادی نے قرآنِ مجید کو سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھی اور پھر بلتی زبان میں اس کا ترجمہ کیا، جس کی اشاعت 1995 میں ہوئی (منظور بلتی/ انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nمیری کہانی\n\njw id:\n\nmAlgApbR\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nگوجرانوالہ: ’قرآن محل‘ جہاں ایک لاکھ سے زائد قرآنی نسخے موجود ہیں\n\n16 اسلامی ملکوں کے پرچموں پر قرآن لکھنے والے پاکستانی خطاط\n\nکوئٹہ کے علاقے جبل نور سے قرآن مجید کے نایاب قدیم نسخے چوری\n\nخوشاب: 270 دنوں میں قرآن کے پانچ نسخے لکھنے والے طالب علم\n\nSEO Title:\n\nبلتی زبان میں قرآن کا ترجمہ کرنے والے یوسف حسین آبادی سے ملیے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "بلتی زبان میں قرآن کا ترجمہ کرنے والے یوسف حسین آبادی سے ملیے"
}