{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiahl3bf3bcokuxy45rgiseurl2n56eu6ruiesl754yxrq5kpteaoi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfd7w6lqcc22"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicl3wnugsyct2uvknrig7z7o7dns4cuvqpwumznsu4brvrhkue5fa"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 76009
  },
  "path": "/node/184715",
  "publishedAt": "2026-02-20T09:00:10.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "انفارمیشن ٹیکنالوجی",
    "ٹیکنالوجی",
    "سوشل میڈیا",
    "فیس بک",
    "وٹس ایپ",
    "انسٹاگرام",
    "روئٹرز",
    "سوشل",
    "video"
  ],
  "textContent": "**دنیا بھر کے ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن میں ایک خاص عمر سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جا رہا ہے یا استعمال کی اجازت والدین کی مرضی سے مشروط کی گئی ہے۔**\n\nاس رپورٹ میں ہم ان ممالک کا ایک جائزہ لیں گے جہاں سوشل میڈیا پر عمر کو مدنظر رکھ کر پابندی عائد کی گئی ہے۔\n\nآسٹریلیا میں قانون سازی کے بعد گذشتہ سال دسمبر سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ جو کمپنیاں اس قانون پر عمل نہیں کریں گی انہیں تقریباً پانچ کروڑ آسٹریلین ڈالرز تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔\n\nبرطانیہ میں بھی حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیز کو خواتین پر تشدد کے خلاف ایمرجنسی اقدامات اٹھانے کے احکامات دیے ہیں۔ جبکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اے آئی بوٹس کے استعمال کے لیے قوانین سخت کیے جا رہے ہیں۔\n\nچین میں بھی سائبر سپیس ریگولیٹر نے ’مائنر موڈ‘ کے نام سے ایک پروگرام نافذ کیا ہے، جس کے تحت ڈیوائس پر پابندیاں اور ایپس کے لیے مخصوص قواعد لاگو کیے گئے ہیں، تاکہ عمر کے مطابق سکرین ٹائم کو محدود کیا جا سکے۔\n\nڈنمارک نے نومبر میں اعلان کیا کہ وہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرے گا، تاہم والدین کی اجازت سے 13 سال کی عمر کے بچوں کو محدود رسائی دی جا سکے گی۔\n\nفرانس کی قومی اسمبلی نے جنوری میں ایک بل منظور کیا، جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہوگی۔ تاہم قانون بننے کے لیے اس بل کو سینیٹ اور پھر نچلے ایوان سے حتمی منظوری درکار ہے۔\n\nجرمنی میں 13 سے 16 سال کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہے، لیکن بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین ناکافی ہیں۔\n\nیونان بھی اسی طرح کے اقدامات کے قریب ہے، اور فروری کے اوائل میں ایک حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ حکومت 15 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کے اعلان کے بہت قریب ہے۔\n\nانڈیا میں چیف اکنامک ایڈوائزر نے جنوری میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ’شکاری‘ قرار دیتے ہوئے عمر کی پابندیوں کی سفارش کی، جبکہ ریاست گوا نے بھی آسٹریلیا کی طرز پر پابندیوں پر غور شروع کر رکھا ہے۔\n\nاٹلی میں 14 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کے لیے والدین کی اجازت لازمی ہے، جبکہ اس سے زیادہ عمر کے لیے اجازت ضروری نہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nملائیشیا بھی 2026 سے 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ کر چکا ہے۔\n\nناروے کی حکومت نے اکتوبر 2024 میں تجویز دی کہ سوشل میڈیا استعمال کے لیے کم از کم عمر 13 سے بڑھا کر 15 سال کی جائے، جبکہ حکومت 15 سال کی مکمل کم از کم حد مقرر کرنے کے قانون پر بھی کام کر رہی ہے۔\n\nسلووینیا بھی قانون تیار کر رہا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکا جائے گا، نائب وزیراعظم میٹیج آرکون نے 6 فروری کو بتایا۔\n\nسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اعلان کیا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی، اور پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے نظام متعارف کرانے ہوں گے، تاہم اس قانون کو پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہو سکتی ہے۔\n\nامریکہ میں پہلے سے موجود قوانین کے تحت کمپنیوں کو 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر جمع کرنے سے روکا گیا ہے۔ کئی ریاستوں نے بھی والدین کی اجازت لازمی قرار دی ہے، تاہم ان قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔\n\nادھر یورپی پارلیمنٹ بھی نومبر میں ایک قرارداد منظورکر چکی ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ پوری یورپی یونین میں کم از کم ڈیجیٹل عمر 13 سال مقرر کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔\n\nماہرین کے مطابق یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا بھر کی حکومتیں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر سخت کنٹرول کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔\n\nانفارمیشن ٹیکنالوجی\n\nٹیکنالوجی\n\nسوشل میڈیا\n\nفیس بک\n\nوٹس ایپ\n\nانسٹاگرام\n\nدنیا بھر کے ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن میں ایک خاص عمر سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جا رہا ہے۔\n\nروئٹرز\n\nجمعہ, فروری 20, 2026 - 15:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">10 دسمبر، 2025 کی اس تصویر میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں سوشل میڈیا استعمال کرتی نوعمر خواتین کو دیکھا سکتا ہے(روئٹرز)</p>\n\nسوشل\n\njw id:\n\nlDpvn11j\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nسو لوگوں کے لائکس بھی سوشل میڈیا پہ کم کیوں لگتے ہیں؟\n\nفرانس: 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور\n\nکیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے جان بوجھ کو بچوں کو اپنا عادی بنایا؟\n\nمقررہ وقت میں سوشل میڈیا مواد نہ ہٹانے کی صورت میں کارروائی کا پیکا بل منظور\n\nSEO Title:\n\nدنیا کے کن ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "دنیا کے کن ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہے؟"
}