{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigwi7yx3ykjui2znrvnufaidogrknwytuwqbdsnhhy4galej3dhlm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfd7w27d4qa2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreie2gnmjknklxktypgnro4g2c2kqqvdxgmajepe47ogvzjob6zwmhq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 52802
},
"path": "/node/184731",
"publishedAt": "2026-02-20T09:43:18.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"عمران خان",
"اڈیالہ جیل",
"صحت",
"پاکستان تحریک انصاف",
"قرۃ العین شیرازی",
"سیاست",
"video"
],
"textContent": "**سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ وہ ’عمران خان کی صحت پر سیاست کر رہی ہیں۔‘ ساتھ ہی انہوں نے بعض پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی کہا ہے کہ اگر وہ ’لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ پر ہو جائیں‘۔**\n\nانڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں علیمہ خان اپنے قید بھائی کی صحت کے لیے بظاہر بہت فکرمند دکھائی دے رہی تھیں۔ انہوں نے کہا: ’میرے بھائی کی آنکھ سیاست نہیں ہے لیکن اس کی نظر اور صحت ہے۔ ان کے خاندان کی ترجیح ان کی صحت ہے۔ علاج ملنا ہر قیدی کا حق ہے۔‘\n\nایک اور سوال کہ بعض پی ٹی آئی رہنما آپ کے کچھ بیانات سے نالاں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں آپ سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں تو علیمہ خان نے کہا ’مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان جیل میں ہیں اور ہم ان کے پیغام رساں ہیں۔ علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ دینے کا پیغام عمران خان نے ہمارے ہاتھ نہیں بھیجا تھا بلکہ جیل میں میڈیا کو کہا تھا۔‘\n\nسابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا گذشتہ دنوں ایک ویڈیو انٹرویو وائرل ہوا جس میں وہ شکایت کرتے ہیں کہ عمران خان کو ان کے بارے میں گمراہ کیا گیا اور اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ علیمہ خان کو عمران خان سے ملنے نہ دیتے۔\n\nعلیمہ خان نے مزید کہا کہ ’جو وہ عمران خان کو نہیں کہہ سکتے وہ ان کی فیملی کو کہہ دیتے ہیں۔ چونکہ وہ ان ہی کے بدولت بیٹھے ہوئے ہیں تو انہیں کچھ کہہ نہیں سکتے، جب یہ ہمیں کہتے ہیں تو اصل میں انہیں غصہ عمران خان پر ہے۔ بولنے والوں کو اگر ان کی صحت کی فکر ہوتی تو ان کی شکلوں پر نظر آ جاتی۔ اگر یہ محسن نقوی کی زبان بولیں گے تو ہمیں فرق نہیں پڑتا، اگر یہ نہیں لڑنا چاہتے تو سائیڈ پر ہو جائیں۔‘\n\nان سے دریافت کیا گیا کہ جب بیرسٹر گوہر کو جیل حکام نے بلایا کہ آپ ڈاکٹر کے ساتھ جائیں تو آپ نے انہیں جانے سے روکا، کیا یہ درست ہے؟ جواب میں علیمہ خان نے کہا کہ ’یہ محسن نقوی نے کہا ہوگا۔ یہ سارے جھوٹے ہیں، ہمیں یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ کوئی جیل میں جا رہا ہے، ہمیں یہی تو جھٹکا ملا ہے۔‘\n\nادھر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ عمران خان اپنے علاج سے مطمئن ہیں۔\n\nسابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان پر مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔\n\n’عمران خان کو ڈیل کی آفر‘ سے متعلق سوال پر علیمہ خان نے جواب دیا ’ہم سے آج تک کسی نے بات نہیں کی، صرف ایک کا مجھے معلوم ہے جب چار اگست کو کہا تھا کہ آپ کو سیف ایگزٹ دیتے ہیں آپ ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔ جس پر عمران خان نے کہا مجھ پر بنائے گئے سارے کیسز جھوٹے ہیں اور میں ان کا سامنا کروں گا۔‘\n\nتاہم فیصل واوڈا کہہ چکے ہیں ہے کہ عمران خان کو دو دفعہ ڈیل آفر کی گئی اور وہ نہیں مانے یہ وہ ڈیل ہے جس کا صرف انہیں ہی پتہ ہے۔\n\nتحریک انصاف کے رہنما عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ اسلام آباد میں 19 فروری 2026 کو انٹرویو دے رہی ہیں (سہیل اختر/انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nسابق وزیر اعظم کی بہن نے تقریباً دو ماہ قبل انڈپینڈنٹ اردو سے انٹرویو میں بتایا تھا کہ عمران خان بالکل ٹھیک ہیں۔ اب ایک دم ایسا کیا ہوا کہ ان کی 85 فیصد آنکھ متاثر ہوئی ہے؟ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان سے ان کی آخری ملاقات گذشتہ برس 16 اکتوبر کو ہوئی تھی، کیونکہ اسی دن توشہ خانہ ٹو کیس بند ہوا تھا۔\n\nالبتہ وہ عمران خان سے ایک ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’عمران خان خود کہتے تھے کہ اس کے بعد تین مہینے تک ان کی نظر بالکل ٹھیک تھی۔ اگست میں ایک ملاقات کے دوران ہم نے دیکھا کہ ان کی آنکھ تھوڑی سی لال تھی، ہم نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں ہوا۔ اس کے باوجود ہم نے عدالت میں درخواست دائر کر دی کہ عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔‘\n\nعلیمہ خان کہتی ہیں اگلی ملاقات میں انہوں نے عمران خان سے ان کی آنکھ سے متعلق سوال پر بتایا کہ وہ ’اب ٹھیک ہے، آنکھوں میں ڈراپس ڈالے تھے اور میری آنکھ کا نمبر تبدیل ہوا ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوہ کہتی ہیں اب جب سلمان صفدر گئے تو عمران خان نے انہیں بتایا کہ تین ماہ تک وہ بالکل ٹھیک تھے، ’اس کے بعد انہیں تکلیف شروع ہوئی جس کے بعد کہا گیا کہ ڈراپس ڈالیں۔ وہ کہتے ہیں جب دو ہفتے انہیں بالکل نظر نہیں آ رہا تھا اور میں سپرنٹنڈنٹ کو کہہ رہا تھا کہ مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا، لیکن اس نے نہیں سنا۔‘\n\nسابق وزیر اعظم کی بہن عظمیٰ خان سے ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے علیمہ خان نے کہا ’تین یا چار دسمبر کو میری بہن کی عمران خان اور بشری بی بی سے ملاقات ہوئی جہاں ان کی بیٹی بھی موجود تھیں۔ اس وقت عمران خان نے نہیں کہا کہ میری آنکھ میں کوئی تکلیف ہے۔ بعد ازاں پمز کی ٹیم نے جب ان کا معائنہ کیا تو انہیں بتایا کہ اگر ہم نہ آتے تو آپ کی آنکھ مکمل طور پر ضائع ہو جاتی۔‘\n\nعلیمہ خان نے کہا: ’ہمیں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اگر ایک آنکھ میں یہ مسئلہ ہے تو دوسری میں بھی ہو جائے گا۔ یہ تمام باتیں ڈاکٹروں نے عمران خان کو بتائیں جو انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے بھیجے گئے وکیل سلمان صفدر کو بتائیں۔‘\n\nعمران خان کی بہن نے مزید کہا ہے کہ بیٹوں سے گفتگو کے دوران عمران خان پریشان تھے کہ انہیں ایک آنکھ میں نظر نہیں آ رہا، دوسری آنکھ میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔‘\n\nانڈپینڈنٹ اردو نے ان الزامات سے متعلق حکومت سے موقف لینے کے لیے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ، صوبہ پنجاب کی وزیر اطلاعات و نشریات عظمہ بخاری اور ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب کوثر کاظمی سے رابطہ کیا، تاہم انٹرویو کے نشر کیے جانے تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔\n\nعمران خان کی ان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان سے کچھ روز قبل ٹیلی فون پر بات کروائی گئی۔\n\nان سے بات چیت کی تفصیل سے متعلق سوال پر علیمہ خان نے کہا ’بیٹوں سے 20 منٹ کے لیے بات ہوئی جو ٹوٹ ٹوٹ کر ہوتی رہی، فون ڈراپ ہوتا اور پھر ری کنکٹ ہوتا تھا۔ وہ پریشان تھے کہ مجھے ایک آنکھ میں نظر نہیں آ رہا، دوسری آنکھ میں ایسا ہو سکتا ہو سکتی ہے۔ پھر ہم پریشان نہ ہوں؟‘\n\nاس سوال کہ عمران خان کو جس کیس میں سزا ہوئی ہے اس سے متعلق اہم دعوی سامنے آیا ہے کہ وہ ہار آپ کے پاس ہے، آپ تصدیق یا تردید کریں گی؟ پر علیمہ خان نے جواب دیا ’عمران خان نے شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکال دیا تو وہ انہیں تو نہیں کہے گا۔ اس کو چھوڑیں، اس نے بشری بی بی پر اتنا بڑا الزام کیسے لگایا؟ یہ کہتا ہے بشری بی بی اس وقت نظربند تھیں، بالکل تھیں لیکن توشہ خانہ ون میں۔ توشہ خانہ ٹو تو شروع ہی نہیں ہوا تھا۔‘\n\nعلیمہ خان نے مزید کہا: ’اس وقت توشہ خانہ کا تو کیس ہی نہیں تھا، اور اس نے کہا مجھے بشری بی بی نے یہ کہا۔ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ بشری بی بی پر غلط الزام لگا رہا ہے کہ یہ بشری بی بی نے مجھے کہا۔ ہاؤس arrest کے وقت توشہ خانہ ٹو تو کہیں پر نہیں تھا، تو یہ کیسے کہہ رہا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کے لیے میں ہار مانگنے گیا تھا؟ توشہ خانہ ٹو بشری بی بی کے جیل جانے کے بعد بنا۔‘\n\nسابق وزیر اعظم کی بہن نے کہا ’جب انہیں پارٹی سے نکالا جاتا ہے تو آپ کا سروائول ایجنسی کے پاس ہی ہے نہ، تو ان کے پاس ڈو مور کرنا پڑتا ہے، یہ اس do more میں شامل ہیں۔‘\n\nعمران خان\n\nاڈیالہ جیل\n\nصحت\n\nپاکستان تحریک انصاف\n\nانڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ انٹرویو میں علیمہ خان نے یہ الزام بھی مسترد کیا کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں۔ ’مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان جیل میں ہیں اور ہم ان کے پیغام رساں ہیں۔‘\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعہ, فروری 20, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ اسلام آباد میں 19 فروری 2026 کو انٹرویو دے رہی ہیں (سہیل اختر/انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nسیاست\n\njw id:\n\nVofBsUqF\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nعمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے: علیمہ خان\n\nعلی امین کے علیمہ خان پر الزامات: پی ٹی آئی کو کتنا سیاسی نقصان؟\n\nکیا علیمہ خان وزیر اعظم عمران خان کے لیے سیاسی درد سر ہیں؟\n\nنو مئی: علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیر شاہ کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ\n\nSEO Title:\n\nاگر پارٹی رہنما عمران کے لیے لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ پر ہو جائیں: علیمہ خان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "اگر پارٹی رہنما عمران کے لیے لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ پر ہو جائیں: علیمہ خان"
}