{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiey7loyipakt4f5lga5wvz6e34xq6dm44ws7yjceh2cstfr5cmjo4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfd7vqtlep22"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreighexyiwmnq25ewhnsjnhxrhzxcy57yaxnu6i2xeufywsm5btn4ji"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 169769
  },
  "path": "/node/184735",
  "publishedAt": "2026-02-20T12:53:08.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "فلسطین",
    "بیت المقدس",
    "مسجد اقصیٰ",
    "نماز جمعہ",
    "ایسوسی ایٹڈ پریس",
    "دنیا",
    "video"
  ],
  "textContent": "**مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ماہ رمضان کے پہلے جمعے کی نماز میں ہزاروں مسلمان شریک ہوئے جن میں مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینی بھی شامل تھے۔**\n\nمسلمانوں کے لیے مکہ اور مدینہ کے بعد تیسرا سب سے مقدس مقام مسجد اقصیٰ میں غزہ میں فائر بندی اور گذشتہ سال کے بعد فلسطینیوں کو پہلی مرتبہ بیت المقدس آ کر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی۔\n\nاسرائیل نے سکیورٹی خدشات کے باعث مغربی کنارے سے صرف 10 ہزار فلسطینیوں کو داخلے کی اجازت دی جن میں صرف 55 سال سے زائد عمر کے مرد، 50 سال سے زائد خواتین اور 12 سال تک کے بچے شامل تھے۔\n\nاس طرح کی پابندیاں پہلے بھی لگائی جاتی رہی ہیں۔\n\nاسرائیلی پولیس کے مطابق جمعے کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس میں تین ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد سکیورٹی اور ہنگامی صورت حال میں مدد فراہم کرنا تھا۔\n\nبیت المقدس کی اسلامی وقف اتھارٹی کے مطابق نماز میں اس بار صرفً 80 ہزار افراد شریک ہوئے جبکہ عام حالات میں رمضان کے جمعے پر یہ تعداد دو لاکھ تک پہنچ جاتی تھی۔ ایک فلسطینی عزالدین مصطفیٰ نے پابندیوں پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مزید لوگوں کو آنے کی اجازت ہونی چاہیے تھی۔\n\n**غزہ میں افسردہ اور خاموش رمضان**\n\nغزہ میں جنگ اور تباہی کے باعث رمضان کی روایتی رونق نظر نہیں آ رہی۔ کئی مساجد تباہ ہو چکی ہیں، اس لیے لوگ ٹوٹے سکولوں کے صحن اور کھلی جگہوں پر نماز ادا کر رہے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nغزہ کے ایک رہائشی رامز فروانہ نے کہا کہ پہلے مساجد آباد تھیں لیکن اب زیادہ تر تباہ ہو چکی ہیں۔ جمعرات کی شام کئی خاندان ملبے کے درمیان افطار کرتے دکھائی دیے۔\n\nخان یونس کے محمد کُلاب نے کہا کہ ’دکھ اور تباہی کے باوجود ہم جینا اور خوشی منانا چاہتے ہیں۔‘\n\nغزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں اور زیادہ تر آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔\n\nامریکہ کی کوششوں سے ہونے والی فائر بندی کے بعد اسرائیلی حملے کچھ کم ہوئے ہیں لیکن وقفے وقفے سے فائرنگ کے واقعات اب بھی سامنے آ رہے ہیں۔\n\nفلسطین\n\nبیت المقدس\n\nمسجد اقصیٰ\n\nنماز جمعہ\n\nغزہ میں فائر بندی اور گذشتہ سال کے بعد فلسطینیوں کو پہلی مرتبہ بیت المقدس آ کر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس\n\nجمعہ, فروری 20, 2026 - 17:45\n\nMain image:\n\n> <p>مسجد الاقصیٰ میں 20 فروری 2026 کو ہزاروں فلسطینیوں نے رمضان کی پہلی نماز جمعہ ادا کی (روئٹرز)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\n3BxqXgyQ\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nاسرائیلی فورسز مسجد اقصیٰ میں داخل، نمازیوں کو نکال کر دروازے بند کر دیے\n\nکیا پاکستان کے شہری مسجد اقصیٰ جا سکتے ہیں؟\n\nسعودی عرب کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کی ’اشتعال انگیز حرکت‘ کی مذمت\n\nیوم القدس: مقبوضہ بیت المقدس میں تشدد میں اضافہ\n\nSEO Title:\n\nمسجد الاقصیٰ میں رمضان کی پہلی نماز جمعہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی شرکت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "مسجد الاقصیٰ میں رمضان کی پہلی نماز جمعہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی شرکت"
}