{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiaxv3rfzyi6tci23zpuyakjmgqtbunqnnubihozaez2el4mywwhty",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfd7vilylpe2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiepxi3b5cn4ty6v6zxcgj2swzjujgydjy4kbuhmz5jmty5hqxrbuq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 92772
  },
  "path": "/node/184737",
  "publishedAt": "2026-02-20T16:49:55.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "امریکہ",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "ٹیرف",
    "محصولات",
    "ایسوسی ایٹڈ پریس",
    "معیشت",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امریکہ کی سپریم کورٹ نے جمعے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے عالمی درآمدی ٹیرف کالعدم قرار دے دیے جسے ان کے معاشی ایجنڈے کے لیے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔**\n\nجمعے کی سماعت میں چھ کے مقابلے میں تین ججوں کے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ہنگامی اختیارات کے قانون کے تحت لگائے گئے یہ ٹیرف آئین کے مطابق نہیں تھے۔\n\nعدالت نے واضح کیا کہ ٹیکس اور ٹیرف عائد کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے، صدر کو نہیں۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے فیصلے میں لکھا کہ آئین کے مطابق ٹیکس لگانے کا اختیار انتظامیہ کو نہیں دیا گیا۔\n\nججز سیموئل الیٹو، کلیرنس تھامس اور بریٹ کیوانا نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ جسٹس کیوانا نے کہا کہ یہ ٹیرف پالیسی کے لحاظ سے درست ہوں یا نہ ہوں، لیکن قانونی طور پر جائز تھے۔\n\nفیصلہ سامنے آنے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ’شرمناک‘ قرار دیا۔\n\nفیصلے کے وقت ٹرمپ مختلف ریاستوں کے گورنرز کے ساتھ اجلاس میں موجود تھے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔\n\nعدالت نے اپنے فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا کہ کمپنیوں کو ادا کیے گئے اربوں ڈالر کے ٹیرف واپس ملیں گے یا نہیں۔ کئی کمپنیاں، جن میں بڑی ریٹیل چینز بھی شامل ہیں، نچلی عدالتوں میں رقم کی واپسی کے مطالبات کر چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق رقم کی واپسی کا عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے۔\n\nسرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر تک ان درآمدی ٹیکسز سے امریکی خزانے کو 133 ارب ڈالر سے زائد وصول ہو چکے تھے جبکہ آئندہ دس برس میں اس کے اثرات کا تخمینہ تقریباً تین کھرب ڈالر لگایا گیا تھا۔\n\nقانونی ماہرین کے مطابق عدالتی فیصلے کے باوجود ٹرمپ دیگر قوانین کے تحت ٹیرف عائد کر سکتے ہیں، اگرچہ ان قوانین میں رفتار اور دائرہ کار کی زیادہ پابندیاں موجود ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدرخواست گزاروں کے وکیل نیل کٹیال نے فیصلے کو ’شاندار‘ کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس اصول کی توثیق ہے کہ امریکی عوام پر ٹیکس لگانے کا اختیار کسی ایک فرد نہیں بلکہ کانگریس کے پاس ہے۔\n\nیہ مقدمہ ٹرمپ کے وسیع حکومتی ایجنڈے کا پہلا بڑا معاملہ تھا جو سپریم کورٹ کے سامنے آیا۔ ٹرمپ نے اسے امریکی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں سے ایک قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے خلاف فیصلہ ملکی معیشت کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔\n\nٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ 1977 کے ہنگامی اختیارات کے قانون کے تحت صدر کو درآمدات کو کنٹرول کرنے اور ٹیرف مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کر دیا اور کہا کہ کسی بھی بڑے معاشی فیصلے کے لیے کانگریس کی واضح منظوری ضروری ہے۔\n\nٹرمپ نے اپریل 2025 میں تجارتی خسارے کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے بیشتر ممالک پر نام نہاد ’جوابی ٹیرف‘ عائد کیے تھے، جس کے بعد مختلف ریاستوں اور چھوٹے کاروباروں کی جانب سے متعدد مقدمات دائر کیے گئے تھے۔\n\nعدالت کے فیصلے کے باوجود جنگ بندی جیسے دیگر معاملات میں صدارتی اختیارات پر قانونی بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔\n\nامریکہ\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nٹیرف\n\nمحصولات\n\nجمعے کی سماعت میں چھ کے مقابلے میں تین ججوں کے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ہنگامی اختیارات کے قانون کے تحت لگائے گئے یہ ٹیرف آئین کے مطابق نہیں تھے۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس\n\nجمعہ, فروری 20, 2026 - 21:45\n\nMain image:\n\n> <p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو اپریل 2025 کو وائٹ ہاؤس میں ٹیرف سے متعلق خطاب کے دوران امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے ہمراہ ایک چارٹ تھامے ہوئے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹرمپ کا یورپی یونین سے انڈیا اور چین پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کا مطالبہ\n\nامریکہ کا انڈیا پر ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان\n\nایران سے کاروبار والے ممالک پر 25 فیصد تجارتی ٹیرف: صدر ٹرمپ\n\nچین سے تجارت پر سو فیصد ٹیرف: ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکی\n\nSEO Title:\n\nامریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ٹیرف کالعدم قرار دے دیے\n\ncopyright:\n\nTranslator name:\n\nعبدالقیوم\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ٹیرف کالعدم قرار دے دیے"
}