{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicgmb5fm33ajjmgdc5d344hdur3r4iq4kwk26ae7gkyyzoqzrswre",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mfaiqvvkzi42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihjfamjqphteh53heuq4vdqjp7vww6khgvpmhn4yk7mprhq36bf4y"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 58496
  },
  "path": "/node/184712",
  "publishedAt": "2026-02-19T08:46:43.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "انڈیا",
    "افغانستان",
    "پاکستان",
    "خواجہ آصف",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلافانڈیا اور افغانستان ایک ہی صفحے پر ہیں۔**\n\nانہوں نے یہ بات بدھ کو فرانسیسی ٹی وی فرانس 24 کو انٹرویو میں کہی۔\n\nپاکستانی حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ ملک میں حالیہ عسکریت پسند حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے اور جنگجوؤں کو انڈیا کی بھی پشت پناہی حاصل ہے تاہم افغانستان اور انڈیا کی جانب اس کی تردید کی جاتی رہی ہے۔\n\nخواجہ آصف نے انٹرویو میں کہا کہ ’ہمارے ملک میں عسکریت پسندوں کے حملے کابل میں طالبان حکومت کے ساتھ مل کر انڈیا کی طرف سے شروع کی گئی ’پراکسی جنگ‘ کا نتیجہ ہیں۔‘\n\nوزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان افغانستان پر نئے حملے کرنے میں ’ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔‘\n\nانہوں نے پاکستان میں سکیورٹی صورت حال اور دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مسجد میں ہونے والے حالیہ خود کش حملے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کابل حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے‘ پاکستان میں ’دہشت گردی کی تقریباً تمام فرنچائزز موجود ہیں۔‘\n\nانہوں نے انڈیا پر پاکستان کے خلاف ’پراکسی جنگ‘ چھیڑنے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ جب پاکستان پر حملہ کرنے کی بات آتی ہے تو نئی دہلی اور کابل ’ایک ہی صفحے پر‘ ہوتے ہیں۔\n\nخواجہ آصف نےایک سوال کے جواب میں کہا کہ انڈیا کے ساتھ جنگ کا اب بھی ’امکان‘ موجود ہے تاہم اس بارے میں انہوں مزید کچھ نہیں کہا۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ سال مئی میں لڑائی ہوئی تھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**باجوڑ حملے پر افغان ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی**\n\n16 فروری 2026 کو باجوڑ میں عسکریت پسندوں کے حملے میں افغانستان کی سرزمین کے استعمال پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں افغان مشن کے ناظم الامور کو بدھ کو طلب کر کے 16 فروری 2026 کو باجوڑ میں ہونے والے ’دہشت گرد‘ حملے پر احتجاجی مراسلے انہیں دیا۔\n\nاس حملے میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے 11 اہلکاروں کی جان گئی۔ وزارت خارجہ سے جاری بیان میں افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ’ٹی ٹی پی‘ کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ٹی ٹی پی کی ’پوری قیادت افغانستان میں موجود ہے، افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک کارروائیاں کرتی ہے۔‘\n\nاحتجاجی مراسلے میں اس امر کو دوبارہ واضح کیا گیا کہ پاکستان کو افغان طالبان حکومت کی جانب سے بارہا یقین دہانیاں موصول ہوئیں، ’مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کوئی نمایاں یا ٹھوس اقدامات سامنے نہیں آئے۔‘\n\nمراسلے میں افغان حکومت سے کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم تمام ’دہشت گرد گروہوں‘ بشمول ان کی قیادت کے خلاف فوری، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔\n\n’افغان طالبان حکومت کو دوٹوک طور پر آگاہ کیا گیا کہ پاکستان اپنی افواج، شہریوں اور علاقائی حدود کے تحفظ کے لیےعسکریت پسند گروہ سے تعلق رکھنے والے خوارج اور ان کے ساتھیوں کو جہاں کہیں بھی ہوں، جواب دینے اور ختم کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘\n\n**کشیدہ تعلقات**\n\nپاکستان اور افغانستان میں اکتوبر میں شدید سرحدی جھڑپوں میں اموات کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور دوحہ میں عارضی فائر بندی کے بعد ترکی میں پائیدار امن حاصل کرنے کے لیے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔\n\nدونوں کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں اور سرحدی گزرگاہیں آمد و رفت کے لیے بند ہیں۔\n\nجبکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد کسی طرح کا سفارتی رابطہ نہیں ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اپریل 2025 میں اس وقت شروع ہوئی جب مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ایک حملے کا الزام بغیر ثبوت کے اسلام آباد پر لگایا گیا تھا، جس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔\n\nدونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے جو مئی میں امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ختم ہو گئیں۔\n\nپاکستان کے وزیر دفاع نے غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حالات سازگار ہونے کی صورت میں پاکستان بین الاقوامی امن فورس میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔\n\nغزہ میں بین الاقوامی استحکام کے مشن میں پاکستان کے ممکنہ تعاون کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ’ اس امن فورس کے لیے کس قسم کی شرائط کا مسودہ تیار کیا جاتا ہے۔‘\n\nانہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کی امن فوج میں شراکت دار کے طور پر نمایاں تجربہ ہے اور کہا کہ غزہ فورس میں شرکت مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل تک پہنچنے کی کوشش کرنے کا ایک ’اچھا موقع‘ ہو گا۔\n\nپاکستان\n\nانڈیا\n\nافغانستان\n\nخواجہ آصف\n\nپاکستانی وزیر دفاع نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان افغانستان پر موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر نئے حملے کرنے میں ’ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔‘\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, فروری 19, 2026 - 13:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">20 فروری، 2018 کی اس تصویر میں پاکستان کے موجودہ وزیر دفاع اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف ماسکو میں روسی وزیر خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیکھے جا سکتے ہیں(اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nطالبان افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں: پاکستان\n\nفرانسیسی صدر انڈیا میں، کیا دہلی مزید رفال طیارے خرید رہا ہے؟\n\nانڈیا میں مصنوعی ذہانت پر ’سب سے بڑی‘ سربراہی کانفرنس\n\nانڈیا میں مسلمان دکان دار کی حفاظت پر ہندو شہری کو موت کی دھمکیاں\n\nSEO Title:\n\nانڈیا اور افغانستان پاکستان کے خلاف ’ایک ہی صفحے‘ پر: وزیر دفاع خواجہ آصف\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "انڈیا اور افغانستان پاکستان کے خلاف ’ایک ہی صفحے‘ پر: وزیر دفاع خواجہ آصف"
}