{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreieoyxahdlrw7hkn3lryg5j3rnrnbqkdslsezyqo2jv4hnyd2yjziy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mf2mvslch662"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiav3a5a2cldbuhbqjrx65saqnpg46h7uazubaidqbmhjkpkrpef4q"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 148941
  },
  "path": "/node/184678",
  "publishedAt": "2026-02-17T12:35:22.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/af57kG6Gu4",
    "February 17, 2026",
    "فلسطین",
    "پاکستان",
    "ترکی",
    "مذمت",
    "اسرائیلی جارحیت",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news",
    "@ForeignOfficePk"
  ],
  "textContent": "**پاکستان اور سات مسلم ممالک نے مغربی کنارے میں اراضی کی رجسٹریشن سے متعلق اسرائیلی اقدام کی مذمت کی ہے۔**\n\nوزارت خارجہ پاکستان کی طرف سے منگل کو جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔\n\nمشترکہ بیان کے مطابق اتوار کو اسرائیلی کابینہ نے 1967 کے بعد پہلی مرتبہ مغربی کنارے میں زمینوں کی رجسٹریشن کے عمل کا آغاز کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔\n\nاس فیصلے کو فلسطینی اتھارٹی سمیت متعدد حلقے مغربی کنارے پر اسرائیل کے کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے یہودی آبادکاروں کے لیے زمین خریدنا آسان ہو جائے گا اور بالآخر اس علاقے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔\n\nاسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عمل صرف ایریا سی میں ہو گا، جو مغربی کنارے کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہے اور اسرائیلی سکیورٹی و انتظامی کنٹرول میں ہے۔\n\n> PR No./\n>\n>  Joint Statement by the Foreign Ministers of Pakistan, Egypt, Jordan UAE, Indonesia, Türkiye , Saudi Arabia, Qatar Condemning Israel’s Illegal Decision of Designation and Occupation of Occupied West Bank as State Land and Illegal Settlement Activity\n>\n>  … pic.twitter.com/af57kG6Gu4\n>\n> — Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) February 17, 2026\n\nمشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ اسرائیل کے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو نام نہاد ’ریاستی زمین‘ قرار دے کر وسیع علاقوں میں اراضی کی رجسٹریشن اور ملکیت کے تصفیے کی منظوری دی گئی ہے، جو 1967 کے بعد پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔\n\nبیان کے مطابق یہ اقدام غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع، زمینوں کی ضبطی اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی خود ساختہ حاکمیت مسلط کرنے کی ایک سنگین کوشش ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔\n\nمشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ قدم ایک نئی قانونی اور انتظامی حقیقت مسلط کرنے کی کوشش ہے، جس کا مقصد مقبوضہ زمین پر کنٹرول کو مضبوط بنانا ہے، اور اس سے دو ریاستی حل کو نقصان پہنچتا ہے، ایک آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کمزور ہوتے ہیں اور خطے میں منصفانہ اور جامع امن خطرے میں پڑ جاتا ہے۔‘\n\nوزرائے خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی یہ پالیسیاں ایک ’خطرناک اشتعال‘ ہیں، جو فلسطین اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عدم استحکام میں مزید اضافہ کریں گی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ’واضح اور فیصلہ کن‘ اقدامات کرے، بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنائے اور فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کا تحفظ کرے۔\n\nرپورٹ کے مطابق اسرائیل کی موجودہ حکمران اتحاد میں کئی ایسے ارکان شامل ہیں جو یہودی آبادکاروں کے حامی ہیں اور مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جسے اسرائیل 1967 کی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں قبضے میں لے چکا تھا اور جس پر وہ مذہبی اور تاریخی دعوے کرتا ہے۔\n\nمغربی کنارہ ان علاقوں میں شامل ہے جنہیں فلسطینی ایک مستقبل کی آزاد ریاست کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کا بڑا حصہ اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کے تحت محدود خود مختاری موجود ہے۔\n\nاراضی کی رجسٹریشن کی منظوری اس سے قبل اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز میں منظور کیے گئے ان اقدامات کے بعد سامنے آئی ہے، جن کی حمایت انتہائی دائیں بازو کے وزرا نے کی تھی۔ ان اقدامات کا مقصد 1990 کی دہائی کے اوسلو معاہدوں کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید سخت کرنا تھا۔\n\nان اقدامات میں یہودی اسرائیلیوں کو براہِ راست مغربی کنارے میں زمین خریدنے کی اجازت دینا اور فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں بعض مذہبی مقامات کا انتظام اسرائیلی حکام کے سپرد کرنا بھی شامل ہے، جن پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔\n\nفلسطین\n\nپاکستان\n\nترکی\n\nمذمت\n\nاسرائیلی جارحیت\n\nوزارت خارجہ پاکستان کی طرف سے منگل کو جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, فروری 17, 2026 - 17:30\n\nMain image:\n\n> <p>14 مئی، 2019 کو لی گئی ایک تصویر میں مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کے شمالی علاقے میں واقع اسرائیلی بستی اور پس منظر میں غرب اردن کا فلسطینی علاقہ حزما نظر آ رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاسرائیل کا مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن کا فیصلہ، پاکستان کی مذمت\n\nغزہ پر تازہ اسرائیلی حملوں میں مزید 11 فلسطینی قتل\n\nاسرائیلی وزیراعظم نے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت اختیار کر لی\n\nآٹھ مسلم ممالک کا مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ\n\nSEO Title:\n\nمقبوضہ مغربی کنارے کی اراضی رجسٹریشن: پاکستان سمیت سات مسلم ممالک کی اسرائیلی اقدام کی مذمت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "مقبوضہ مغربی کنارے کی اراضی رجسٹریشن: پاکستان سمیت سات مسلم ممالک کی اسرائیلی اقدام کی مذمت"
}