{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicuozs66nsvnwgpd2o2fmqepbpiimuirpqfewem6yktre5anqo5gu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mf27fvgdswf2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigrmigpu64lv32mwjzrwg77lzev7tbybz2otrxjsgutqjxlcsy5ma"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 67856
  },
  "path": "/node/184676",
  "publishedAt": "2026-02-17T07:45:52.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "افواج پاکستان",
    "باجوڑ",
    "عسکریت پسند",
    "حملہ آور",
    "فوج",
    "بارودی سرنگ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ باجوڑ میں ایک چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں 11 اہلکار جان سے گئے جب کہ 12 عسکریت پسند بھی مارے گئے۔**\n\nباجوڑ میں عسکریت پسندوں نے پیر کو سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا۔\n\nآئی ایس پی آر نے منگل کو ایک بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ چیک پوسٹ پر باجوڑ ضلع میں 16 فروری کو ’دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی، جسے فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی سے ناکام بنا دیا۔‘\n\nبیان میں کہا گیا کہ حملہ آور چیک پوسٹ کی سکیورٹی حصار کو توڑنے کوشش کر رہے تھے تاہم ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 12 عسکریت پسندوں کو مار ڈالا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nآئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ ’فرار کے دوران حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں دھماکے سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔‘ جس سے 11 اہلکاروں کی جان گئی جبکہ قریبی رہائشی عمارتیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ ایک کمسن لڑکی بھی جان گئی اور خواتین و بچوں سمیت سات شہری زخمی ہوئے۔\n\nفوج کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی باقی ماندہ ’دہشت گرد کو گرفتار یا ختم کیا جا سکے۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔‘\n\nپاکستان میں 2021 میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد سے خیبر پختونخوا میں حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں زیادہ تر سابقہ قبائلی اضلاع میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔\n\nاسلام آباد کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے سرحد پار افغانستان میں خود کو دوبارہ منظم کر لیا ہے اور وہاں محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کر رہی ہے۔\n\nتاہم کابل اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔\n\nافواج پاکستان\n\nباجوڑ\n\nعسکریت پسند\n\nحملہ آور\n\nفوج\n\nبارودی سرنگ\n\nآئی ایس پی آر کے مطابق ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 12 عسکریت پسندوں کو مار ڈالا\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, فروری 17, 2026 - 12:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">آٹھ جنوری، 2024 کی اس تصویر میں باجوڑ کی تحصیل ماموند میں دھماکے میں متاثر ہونے والی گاڑیوں کے قریب موجود افراد کو دیکھا جا سکتا ہے(ریسکیو 1122)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\n’امید ہے پھر ایسا نہ ہو‘: باجوڑ میں نقل مکانی کے بعد لوگوں کی واپسی\n\nخیبر پختونخوا میں امن دشمنوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں گی: وزیراعلیٰ\n\nباجوڑ جرگے کی وزیر اعلیٰ گنڈاپور سے آپریشن نہ کرنے کی درخواست\n\nبلوچستان میں آپریشن مکمل، 216 عسکریت پسند مارے گئے: فوج\n\nSEO Title:\n\nباجوڑ میں چیک پوسٹ پر حملے میں 11 اہلکار جان سے گئے: آئی ایس پی آر\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "باجوڑ میں چیک پوسٹ پر حملے میں 11 اہلکار جان سے گئے: آئی ایس پی آر"
}