{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibhp6y56vrwkypkb3icotzolgpotam2tkempbrxncrl2bdvxpzmtq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mezyp2yfm7z2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibeasncgiptklcgfdkw4qpbkiznb4tfj7ht24kckmd6ffs7mdkre4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 76637
  },
  "path": "/node/184672",
  "publishedAt": "2026-02-17T05:00:00.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "رفال طیارے",
    "فرانس",
    "انڈیا",
    "نریندر مودی",
    "میکروں",
    "اے ایف پی",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں تین روزہ دورے پر منگل کو انڈیا پہنچے جہاں مصنوعی ذہانت میں تعاون اور فرانسیسی ساختہ رفال لڑاکا طیاروں کے کئی ارب ڈالرکی فروخت کے ممکنہ معاہدے پر بات چیت ہو گی۔**\n\nفرانس نئی دہلی کے ساتھ اپنی فوجی شراکت داری کو بڑھانے کا خواہاں ہے، جس میں 114 اضافی فرانسیسی لڑاکا طیاروں کے ممکنہ معاہدے پر بات چیت متوقع ہے۔\n\nمیکروں اور ان کی اہلیہ بریژیت پیر کی رات گئے انڈیا کے مالیاتی دارالحکومت ممبئی پہنچے، جو 2017 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کا انڈیا کا چوتھا دورہ ہے۔\n\nوہ منگل کو وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔\n\nاس کے بعد میکروں بدھ اور جمعرات کو ہونے والی مصنوعی ذہانت کی سربراہی کانفرنس کے لیے نئی دہلی جائیں گے۔\n\nفرانسیسی صدر کا یہ دورہ نئی دہلی کی جانب سے گذشتہ ہفتے اس تصدیق کے بعد ہو رہا ہے کہ وہ رفال طیاروں کا ایک بڑا آرڈر دینے کا ارادہ رکھتا ہے، نیز جنوری میں انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط بھی ہوئے تھے۔\n\n**’صدی کا معاہدہ‘**\n\nنئی دہلی نے گذشتہ دہائی میں فوجی سازوسامان کے اپنے روایتی بڑے فراہم کنندہ روس پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی ہے، اور دیگر ممالک کی طرف رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ مزید ملکی پیداوار پر بھی زور دیا ہے۔\n\nانڈین وزارت دفاع نے اپنے ایک بیان میں گذشتہ ہفتے کہا گیا تھا کہ رفال طیاروں کی مجوزہ خریداری کی منظوری دے دی گئی ہے جن میں سے ’اکثر‘ انڈیا میں تیار کی جائیں گے۔\n\nبیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ نئی دہلی کتنی تعداد میں طیارے خریدے گا لیکن نئی دہلی کی وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے کہا کہ 114 کی خریداری کا امکان ہے۔\n\nپیرس میں ’سائنسز پو سینٹر فار انٹرنیشنل سٹڈیز‘ کے انڈین امور کے ماہر کرسٹوف جیفرلوٹ نے 114 رفال کے لیے ممکنہ طور پر 30 ارب یورو (35 ارب ڈالر) کے معاہدے کو ’صدی کا معاہدہ‘ اور دوطرفہ تعلقات کی ممکنہ ’عظیم کامیابی‘ قرار دیا۔\n\nاگر سودے کو حتمی شکل دی گئی تو یہ طیارے ان 36 رفال میں شامل ہو جائیں گے جو انڈیا نے 2016 میں اپنی فضائیہ کے لیے خریدے تھے اور 26 جو اس نے اپنی بحریہ کے لیے آرڈر کیے ہیں۔\n\nاضافی طیاروں پر مذاکرات کو ابھی مینوفیکچرر دساؤ ایوی ایشن کے ساتھ حتمی شکل دی جانی باقی ہے، لیکن فرانسیسی ایوان صدر نے امید ظاہر کی ہے کہ جسے وہ ’تاریخی‘ معاہدہ کہتے ہیں، اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔\n\nفرانس کے علاقے کازاؤ میں ایئر بیس 120 پر، 29 جنوری 2026 کو ’ٹوپاز 2026‘ مشق کے دوران رفال لڑاکا طیارہ تیار کھڑا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**’اچھی کیمسٹری‘**\n\nمودی اور میکروں منگل کو ممبئی سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انڈیا کی پہلی ہیلی کاپٹر فائنل اسمبلی لائن کا افتتاح بھی کریں گے، جو انڈیا کے ٹاٹا گروپ اور ایئربس کا مشترکہ منصوبہ ہے۔\n\nایئربس، بنگلورو کے ٹیک ہب کے قریب جنوبی ریاست کرناٹک کے علاقے ویمگل میں قائم سہولت میں ایچ 125 تیار کرے گی جو کمپنی کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا سنگل انجن ہیلی کاپٹر ہے۔\n\nفرانس گذشتہ دہائی میں انڈیا کے اہم ترین دفاعی اور اقتصادی شراکت داروں میں سے ایک کے طور پر ابھرا ہے۔\n\nمیکروں کے دفتر نے کہا، ’اس دورے کے ذریعے، ہم انڈیا کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے‘ اور فرانس کی اقتصادی اور تجارتی شراکت داری کو ’متنوع‘ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔\n\nانڈیا ایک ارب 40 کروڑ آبادی کے ساتھ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور عالمی سطح پر چوتھی بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس ہفتے کی بات چیت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی عالمی اقتصادی بے یقینی، نیز خطے میں چین کے اثر و رسوخ پر بھی بات چیت متوقع ہے۔\n\nمودی کے دفتر نے کہا کہ بات چیت کا محور ’سٹریٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنانے اور اسے نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں مزید متنوع بنانے‘ پر ہوگا۔\n\nفرانس اور انڈیا کے درمیان دوطرفہ تجارت، جو زیادہ تر دفاع اور ایرو سپیس کی بدولت ہے اس کا حجم تقریباً 13 ارب یورو (15 ارب ڈالر) ہے۔ انڈیا کے کمرشل بیڑے میں ایئربس طیاروں کی کافی تعداد شامل ہے۔\n\nانڈیا میں فرانسیسی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری مجموعی طور پر تقریباً 13 ارب یورو (15 ارب ڈالر) ہے۔\n\nدونوں ملکوں کے رہنما قریبی ذاتی تعلقات کو فروغ دینے کے بھی خواہاں ہوں گے۔ کرسٹوف جیفرلوٹ نے کہا، ’بظاہر ایک اچھی کیمسٹری، ایک اچھا ذاتی تعلق موجود ہے۔‘\n\nرفال طیارے\n\nفرانس\n\nانڈیا\n\nنریندر مودی\n\nمیکروں\n\nگذشتہ ہفتے انڈیا نے تصدیق کی تھی کہ وہ رفال طیاروں کا بڑا آرڈر دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nمنگل, فروری 17, 2026 - 10:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں 17 فروری 2026 کو انڈیا کے شہر ممبئی پہنچے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nفرانس سے مزید 26 رفال طیارے خریدنے کے خواہاں ہیں: انڈیا\n\nانڈیا کے رفال ہمارے شاہینوں کے نشانے پر آئے اور فیل ہوگئے: وزیراعظم پاکستان\n\nچینی ٹیکنالوجی بمقابلہ یورپین ٹیکنالوجی: ’رفال گرانے والا‘ جی 10 سی\n\nبھارتی فضائی بیڑے میں پانچ رفال طیارے شامل\n\nSEO Title:\n\nفرانسیسی صدر انڈیا میں، کیا دہلی مزید رفال طیاروں کا آرڈر دینے والا ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "فرانسیسی صدر انڈیا میں، کیا دہلی مزید رفال طیاروں کا آرڈر دینے والا ہے؟"
}